خستہ بریلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خستہ بریلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 22 فروری 1905  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بجنور ضلع،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 جولا‎ئی 1974 (69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بریلی،  بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

ای ایس فالس المتخلص بہ خستہ بریلوی (پیدائش: 22 فروری 1905ء - وفات: 4 جولائی 1974ء) مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے شاعر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ثمر دہلوی 22 فروری 1905ء کو بجنور، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ای ایس فالس اور شاعری میں خستہ تخلص تھا۔ عمر کا بیشتر حصہ بریلی میں گزارا۔ مراد آباد پارکر ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ دورانِ تعلیم شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا اور اسکول کے مولوی صاحب حسین عاصی امروہوی سے اصلاح لینے لگے۔ بعد میں اصلاح لینا بند کر دی۔ ان کا کلام نعتیہ ہے جو حمدِ مسیح اور مذہبیات کے دائرے میں ہے۔ اوائل عمر میں آشوبِ چشم کے مرض میں مبتلا ہوئے اور آخر میں بینائی جاتی رہی تھی۔ 4 جولائی 1974 میں بریلی میں وفات پا گئے۔[1]

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

آج دنیا کے لیے باعثِ افکار ہوں میں بات اتنی ہے صداقت کا پرستار ہوں میں
یہ حقیقت ہے سیہ کار و خطا کار ہوں میںمیرے عیسٰی تیری رحمت کا طلبگار ہوں میں
مجھ سے وابستہ رہا گلشِ عالم کا نظامآج حیرت ہے کہ گلشن کیلئے بار ہوں میں
عالمِ یاس میں پتھرا گئیں آنکھیں میریرحم فرمائیے اب طالبِ دیدار ہوں میں
مجھ سے اے گردشِ دوراں نہ الجھ ہوش میں آآج پھر حق کے لئے برسرِ پیکار ہوں میں
اور کیا چاہیے انجامِ محبت خستہشکر صد شکر کہ رسوا سرِ بازار ہوں میں[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈی اے ہیریسن قربان،اردو کے مسیحی شعرا، جنوری 1983ء، ص 149
  2. ڈی اے ہیریسن قربان،اردو کے مسیحی شعراء، جنوری 1983ء، ص 150