خواجہ دل محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خواجہ دل محمد
معلومات شخصیت
پیدائش 9 فروری 1887  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 مئی 1961 (74 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ محقق،  ریاضی دان،  نقاد،  مترجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

خواجہ دل محمد پاکستان کے شاعر، ریاضی دان، ماہر تعلیم اور مصنف ہیں۔

ولادت[ترمیم]

پیدائش: 1884ء میں ریاضی دان۔لاہور میں پیدا ہوئے

وفات[ترمیم]

انتقال: 1961ء

نام[ترمیم]

نام خواجہ دِل محمد اور قلمی نام:خواجہ دِل محمد دِل والد کا نام خواجہ نظام الدین ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

جامعہ پنجاب سے ایم۔ اے کیا اور 9 جولائی 1907ء کو اسلامیہ کالج لاہور میں ریاضی کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ عمر بھر اس دانش گاہ سے منسلک رہے۔ آخر میں اسی کالج کے پرنسپل بنے اور اسی حیثیت میں 1944ء میں ریٹائر ہوئے۔ ایک اچھے شاعر اور ایک قابل ریاضی دان کا یک جا ہونا خاص دشوار ہے۔ لیکن خواجہ دل محمد کی شخصیت میں شعر و ہندسہ کی ایک یکجائی کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ ریاضی کے 32 درسی کتابوں کے مصنف تھے۔ گیتا کا اردو نظم میں ترجمہ کیا۔ سورۃ فاتحہ کی منظوم تفسیر روح قرآن کے نام سے لکھی۔ بچوں کے لیے بھی آسان اور دلچسپ نظمیں لکھتے تھے۔ یونیورسٹی کے فیلو اور سنڈیکیٹ کے رکن تھے۔ بیس سال تک مسلسل لاہور میونسپلٹی کے رکن ہرے۔ لاہور کی ایک سڑک ان کے نام سے موسوم ہے۔

تصانیف[ترمیم]

1-درد ِ دل 1938

2-آئینہ اخلاق (پچاس اخلاقی نظمیں)1932

3-روح قرآن (سورة فاتحہ کی منظوم تفسیر)1947

4-بوستان ِ دل 1960

5-صد پارئہ ِ دل(رُباعیات)1946

6-ستاروں کا گیت1917

7-گلزار معنی (اُردو لغت)

8-پریت کی ریت (دوہے)

9-دِل کی گیتا (گیتا کا منظوم ترجمہ)1944

10-جپ جی صاحب (منظوم ترجمہ)1945

11-سُکھ منی صاحب (منظوم ترجمہ)1945

12-روحانی نغمے1955

13-دِل کی بہار (بچوں کے لیے نظمیں)

چندا مامو ں (ان کی ایک نظم)[ترمیم]

چندا ماموں آتے ہیں

دود کٹوری لاتے ہیں

ننھے پیارے بچوں کو

سُکھ کی نیند سلاتے ہیں

باندھ کے ڈوری کِرنوں کی

جھولے خُوب جھلاتے ہیں

ننھے ننھے پھولوں پر

موتی سے برساتے ہیں

خواب کی میٹھی دُنیا کی

ہم کو سیر کراتے ہیں

سیڑھی رکھ کر کرنوں کی

ندی آن نہاتے ہیں

موجوں میں لراتے ہیں

ڈبکی خوب لگاتے ہیں

ہالا کھینچ کے بادل پر

سادھو سے بن جاتے ہیں

چِتلی چتلی بدلی میں

چھپ کر دَوڑ لگاتے ہیں

سونے والی دُنیا پر

چپکے چپکے جاتے ہیں

ہنسنے والے تاروں میں

گیت خوشی کے گاتے ہیں
(دِل کی بہار)