دسوھہ، فیصل آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دسوھہ، فیصل آباد
Dasuha
انتظامی تقسیم
متناسقات 31°18′06″N 73°01′01″E / 31.3016750°N 73.0170306°E / 31.3016750; 73.0170306
قابل ذکر

دسوہہ (انگریزی:Dasuha)سمندری روڈ، فیصل آباد پنجاب پاکستان کا ایک آباد مقام ہے جسے داسوہا اور دسوہا بھی کہا جاتا ہے اس کا پرانا نام چک نمبر 242 آر۔ بی دسوہا ہے یہاں مرکز دارالاحسان قائم ہے اس کی وجہ شہرت ابو انیس محمد برکت علی لودھیانوی ہیں۔[1] جب ساندل بار کی آبادکاری شروع ہوئی تو اُس وقت دسویا (ہوشیارپور) انڈیا سے سات لوگوں کی ایک ٹولی جس میں چار مرد اور تین عورتیں تھیں آ کر یہاں آباد ہوئے جس کو آج ہم دسوھہ کے نام جانتے ہیں۔ انہوں اپنے آبائی علاقے کی نسبت سے اس جگہ کا نام بھی دسویا رکھا جو بعد میں دسویا Dasuya سے دسوھہ Dasuha بن گیا۔ (دسویا کے معنی دس دفعہ آباد ہونے والا)۔ دسویا (جو اب ہوشیارپورکا میونسپل ٹاون ہے) سے دسوھہ(فیصل آباد) کا فیصلہ تقریبًا 375 کلومیٹر ہے۔ دسوھہ کو رکھ برانچ نہرکے دو راجبائے سیراب کرتے ہیں جن کو پنجابی میں سوہ کہتے ہیں دسوھہ رکھ برانچ نہر سے سیراب ہونے والا،242 گاؤں ہے اسی وجہ سے دسوھہ242/ ر۔ ب کہاجاتا ہے دسوھہ فیصل آباد کا قدیم ترین دیہات ہے دسوھہ بوائز ہائی سکول فیصل آباد شہراور برصغیر کے دیہاتوں میں قائم ہونے پہلا ہائی سکول ہے جس کی بنیاد1909 میں مہرآبادان نے رکھی تھی۔ یکم مئی 1936ء کو خان صاحب مہر آبادان اس دنیا سے رخصت ہو گے جنہیں سکول کے صحن میں ہی دفن کیا گیا۔گورنر پنجاب جنرل ایڈوائر نے بھی مہر آبادان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کیا جو سکول میں ایک تختی پر کنندہ کیے گئے ہیں۔"دسوھا ہائی سکول صوبے میں واقع چند اہم اداروں میں سے ایک ہے جس کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ایک چھوٹے گاؤں میں واقع ہے۔ یہ آبادان کے خواب کی تعبیر ہے جن کا موازنہ سرسید احمد خان سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سرسید کو نوابوں، مہاراجوں اور وائسرائے کی مدد حاصل تھی لیکن آبادان نے اپنی زمین بیچ کر اس خواب کو پورا کیا۔"قیامِ پاکستان کے بعد ستر کی دہائی میں ذو الفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں زمیندارہ اسکول کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا اور اب ادارے کے انتظامات گورنمنٹ اسکول کے طور پر چلائے جا رہے ہیں۔ اب یہ گورنمنٹ زمیندرہ اسلامیہ ہائی اسکول کے نام سے مشہو رہے۔ ایک وقت تھا جب یہ سکول تعلیم و کھیل میں پورے برصغیرمیں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس سکول سے فارغ التحصیل چند نمایاں طلبہ

  • (1) پاکستان کی طرف سے پہلا نشان حیدر پانے والے کیپٹن راجا محمد سرور شہیدنے1927ء میں زمیندرہ اسلامیہ ہائی سکول دسوھہ سے میٹرک پاس کیاتھا
  • (2) سابقہ ڈیپٹی کمشنر دہلی (بھارت) رامیش لال کندن
  • (3) بھارتی ہاکی ٹیم کے سابقہ کپتان لال شاہ بخاری مرحوم 
  • (4)پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابقہ کپتان عبد الحمید
  • (5)سابقہ صوبائی وزیر بلدیات پنجاب مہر محمد صدیق
  • (6)سابقہ صوبائی وزیرتعلیم پنجاب مہر محمد صادق
  • (7) سابقہ رکن اسمبلی چوہدری سلطان احمد
  • (8)سابقہ رکن اسمبلی چوہدری غلام نبی
  • (9)سابقہ رکن اسمبلی چوہدری بشیر احمد
  • (10)رکن اسمبلی میاں محمد فاروق شامل ہیں

حوالہ جات[ترمیم]