رازق الخیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مصنف مصورِ غم، علامہ راشد الخیری کے فرزند اکبر تھے۔ ان کی پیدائش ستمبر 1900کو دہلی میں ہوئی ۔ انھوں نے 1919 میں عربک اسکول سے میٹرک کیا۔ انٹر 1921 میں سینٹ اسٹیفن کالج دہلی سے انٹر کرنے کے بعد بی اے میں داخل ہوئے۔ 1923 میں علامہ راشد الخیری نے ماہنامہ ’’عصمت ‘‘ جسے انھوں نے جون 1908 میں اصلاح نسواں، حقوق نسواں اور تعلیم نسواں کی غرض سے جاری کیا تھا، جو خصوصاً مسلم خواتین کی مختلف گوشوں میں رہنمائی اور اس کی بدولت نہ جانے کتنی خواتین علم و ادب سے شناسا اور فکر و نظر سے آشنا ہوئیں اور کتنی ہی لکھنے والیوں اور لکھنے والوں کا جنم ہوا، اس کی ادارتی ذمے داری رازق الخیری کے سپرد کر دی، جسے انھوں نے 56 سال تک اس طرح نبھایا کہ اس کی پابندی وقت میں کبھی فرق نہیں آیا۔ اس حوالے سے شان الحق حقی نے لکھا ’’عصمت کے قارئین کو یہ بات بتانا تحصیل حاصل ہے کہ اس کی باقاعدگی میں کبھی فرق نہیں آیا۔ اکثر جریدے اشتہارات کی خاطر دنوں کے لیے اشاعت کو التوا میں ڈال دیتے ہیں، مولانا نے کبھی ایک دن کے لیے پہلی سے دوسری تاریخ نہ ہونے دی۔ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ انھوں نے اشتہارات یہ کہہ کر رد کر دیے کہ یہ پرچہ ایک دن کے لیے بھی روکا نہیں جا سکتا‘‘۔

مدیران کی تاریخ میں رازق الخیری جیسا ہمیں کوئی دوسرا مدیر نظر نہیں آتا جس نے 56 سال تک کسی ایک رسالے کی اس طرح ادارت کی ہو، اس کے علاوہ علامہ راشد الخیری کی نگرانی میں 1927 میں بچیوں کے لیے ماہنامہ ’’بنات‘‘ اور 1934 میں خواتین کو ہنرمند اور دستکار بنانے کے لیے ماہنامہ ’’جوہر نسواں ‘‘ کا اجرا کیا۔ صحافتی تاریخ میں شاید ہی کسی نے مولانا رازق الخیری کے علاوہ خواتین سے متعلق اتنے رسالے ایک مشن کی طرح شایع کیے ہوں۔ اپنی زندگی کے آخری شمارے ’’عصمت‘‘ کو مرتب کرتے ہوئے جنوری 1980 میں انھوں نے لکھا ’’خدا کا شکر ہے کہ عصمت نے نئے سال میں قدم رکھا، 1979 بخیر و خوبی پابندی وقت کے ساتھ طے ہوا اور اب 1980 بھی آ گیا۔ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ عصمت نے جو کچھ خدمات انجام دیں اور جن مشکلات کو عبور کرتا ہوا آگے بڑھا یہ معمولی بات نہیں۔ بڑے بڑے ادبی پرچے دم توڑ گئے اور کوئی پرسان حال نہ ہوا لیکن عصمت مشکلات کے دریا میں تیرتا حوادث کے تھپیڑوں میں 1980 میں آپ کے سامنے موجود ہے۔

مسلمانوں کے ایمان کی قوت اگر قوی ہے تو کوئی قوت اس کے مقابل نہیں ہو سکتی۔‘‘ماہنامہ ’’عصمت‘‘ کے پچاس سال پورے ہونے پر مولوی عبدالحق نے مولانا رازق الخیری کو اپنے ایک خط میں لکھا کہ ’’عصمت کا نصف صدی تک جاری رہنا کرامت ہے، آپ نے علامہ راشد الخیری کو کس سنت کو قائم رکھا اور آپ نے اصل مقصد کو پیش نظر رکھ کر جس خلوص اور تندہی سے اپنی بہنوں کی خدمت کی ہے وہ نہایت قابل قدر اور لائقِ تحسین ہے۔‘‘ آج ماہنامہ ’’عصمت‘‘ 105 سال کا طویل سفر طے کر کے ان کی صاحبزادی صفورہ خیری کی ادارت میں جاری ہے جب کہ مولانا کے وصال کے بعد ’’عصمت‘‘ کی ادارتی ذمے داری ان کی شریک حیات آمنہ نازلی ، صاحبزادی صائمہ خیری اور صاحبزادے طارق الخیری کے سپرد رہی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اردو رسائل کی تاریخ میں ماہنامہ ’’عصمت‘‘ کے علاوہ ایسا کوئی اور رسالہ نہیں جو 1907 سے اب تک جاری ہو۔ یہ اعزاز صرف ’’عصمت‘‘ ہی کو حاصل ہے۔مولانا رازق الخیری نے نہ صرف بڑی خوش اسلوبی اور جواں مردی کے ساتھ زندگی کے آخری لمحات تک پورے خلوص و لگن سے علامہ راشد الخیری کے مشن کو جاری رکھا بلکہ انھوں نے پاکستان کے ادبی رسائل کو جو دم توڑنے کے در پہ تھے ایک جگہ جمع کر کے 1953 میں ’’انجمن ادبی رسائل پاکستان‘‘ کی بنیاد رکھی تا کہ انھیں مرنے سے بچایا جا سکے۔ ادبی رسائل پر یہ ان کا ایسا احسان ہے جسے وہ چاہیں بھی تو فراموش نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ مولانا 1959 میں جب تک کہ اردو بورڈ کا قیام عمل میں آیا تو وہ مجلس اعلیٰ کے رکن مقرر ہوئے اور برسوں اردو کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر کام کرتے رہے۔مولانا رازق الخیری ایک بلند پایہ ایڈیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک بھی تھے، انھوں نے 1918 میں ایک اشاعتی ادارہ قائم کر کے بامقصد ناشر کی حیثیت سے بھی زندگی گزاری۔ ان کے ادارے کے تحت جتنی کتابیں شایع ہوئیں وہ زیادہ تر مسلم خواتین کی تربیت، ان کی اصلاح، ان کے معاشرتی مسائل اور ان میں مثبت شعور پیدا کرنے کے لیے تھیں۔

تصانیف[ترمیم]

مولانا ایک صاحب طرز ادیب بھی تھے۔ ان کی تصنیف و تالیفات جن میں

  1. ’’عصمت کی کہانی‘‘، ’’
  2. وداع راشد‘‘، ’’
  3. ابو جہل اور عکرمہ‘‘، ’’
  4. دو ہفتے مشرقی پاکستان میں‘‘ ، ’’
  5. سفرنامہ مشرق وسطیٰ‘‘، ’’
  6. رسول اکرم ؐ کی بیٹیاں‘‘، ’’
  7. بہادر خواتین قریش‘‘، ’’
  8. سیدہ کی بیٹی‘‘، ’’
  9. مسلمانوں کی مائیں‘‘

اور ماہنامہ ’’عصمت‘‘ کا خاص نمبر ’’سوانح عمری علامہ راشد الخیری‘‘ شامل ہیں

وفات[ترمیم]

وصال 24 دسمبر 1979 کو کراچی میں ہوا