روزا پارکس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

روزا پارکس (مکمل نام: روزا لوئس میکالے پارکس، انگریزی: Rosa Louise McCauley Parks) امریکہ سے تعلق رکھنے والی مشہور شہری حقوق کی کارکن تھیں، جنہیں امریکی کانگریس نے "شہری حقوق کی خاتون اول" اور "تحریک آزادی کی ماں" قرار دیا تھا۔ ان کا یوم پیدائش، 4 فروری، اور ان کی گرفتاری کا دن، یکم دسمبر کیلیفورنیا اور اوہائیو کی ریاستوں میں روزاپارکس کے دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔

روزا پارکس، سن 1955ء، پس منظر میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر

روزا پارکس نے یکم دسمبر 1955ء کو منٹگمری، الاباما میں بس ڈرائیو جیمز بلیک کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا تھا کہ وہ سیاہ فاموں کے لیے مختص بس کے حصے میں اپنی نشست سفید فام مسافر کو دے دیں۔ منٹگمری میں 1900ء میں یہ حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ بسوں میں مسافروں کو نسلی اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق اگر بس ایک مرتبہ بھر جائے اور مزید نشستیں دستیاب نہ ہو تو کسی بھی مسافر کو نشست سے اٹھایا یا کسی اور جگہ منتقل نہیں کیا جائے گا۔ لیکن حقیقت میں جب سفید فاموں کا حصہ پر ہوجاتا تو ڈرائیور اور عملہ سیاہ فاموں کو اٹھا کر یا دیگر نشستوں پر منتقل کرکے ان پر سفید فاموں کو بٹھا دیتا تھا۔ بسوں کی ابتدائی چار نشستیں سفید فاموں کے لیے مختص تھیں جبکہ سیاہ فاموں کا حصہ پچھلی جانب ہوتا تھا حالانکہ بسوں میں سفر کرنے والے 75 فیصد افراد سیاہ فام ہی ہوتے تھے۔ جب تک کہ سفید فاموں کا حصہ مکمل نہ ہوجائے تب تک سیاہ فاموں کو درمیانے حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور اگر سفید فاموں کو نشستوں کی ضرورت ہوتی تو سیاہ فاموں کو پچھلی نشستوں پر بھیج دیا جاتا یا جگہ نہ ہوتی تو کھڑا کردیا جاتا۔ یہاں تک کہ اگر اگلے حصے میں سفید فام بیٹھے ہوئے ہوں تو سیاہ فاموں کو کرایہ دینے کے بعد بس سے اتر کر دوبارہ پچھلے ہی دروازے سے بس میں چڑھنا پڑتا تھا۔ انہیں سفید فاموں کے حصے کے درمیان سے ہوتے ہوئے پیچھے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ سالوں تک سیاہ فام برادری اس صورتحال اور غیر منصفانہ رویے پر احتجاج کرتی رہیں۔ 1943ء میں ایک روز پارکس بس میں سوار ہوئیں، کرایہ ادا کیا اور اپنی نشست سنبھالنے لگیں جس پر بس ڈرائیو جیمز بلیک نے کہا کہ وہ شہری قوانین کی پاسداری کریں اور اتر کر دوبارہ پچھلے دروازے سے چڑھیں۔ پارکس بس سے نیچے اتریں اور اس سے پہلے کے پچھلے دروازے سے چڑھتیں، ڈرائیور نے گاڑی چلا دی اور انہیں بارش میں پیدل گھر جانا پڑا۔

اس واقعے کے کئی سالوں کے بعد یکم دسمبر 1955ء کو تمام دن کام کرنے کے بعد روزا پارکس 6 بجے کے قریب کلیولینڈ ایونیو بس میں سوار ہوئیں۔ انہوں نے اپنا کرایہ دیا اور "رنگ دار" افراد کے لیے مختص پچھلے حصے کی پہلی صف میں بیٹھ گئیں۔ بس کے درمیان میں ان کی صف ان دس نشستوں کے بالکل بعد تھی جو سفید فاموں کے لیے مختص تھیں۔ جیسے ہی بس اپنے سفر پر روانہ ہوئی، سفید فاموں کی تمام نشستیں بھر گئیں۔ بس ایمپائر تھیٹر پر اپنے تیسرے اسٹاپ پر پہنچی تو مزيد سفید فام مسافر سوار ہوئے۔ جیمز بلیک نے دیکھا کہ دو یا تین سفید فام کھڑے ہیں اور بس کا اگلا حصہ بھر چکا ہے تو وہ پچھلے حصے میں گیا اور پارکس کو اشارہ کیا کہ چار نشستیں خالی کردیں تاکہ سفید فاموں کو بٹھایا جائے۔ جیمز بلیک کو دیکھ کر پارکس کو سالوں پرانا واقعہ یاد آگیا۔ انہوں نے جگہ ضرور بنائی لیکن اپنی نشست چھوڑ کر برابر کی کھڑکی والی نشست پر بیٹھ گئیں۔ پھر وہ نشست نہ چھوڑنے اور مزاحمت کرنے پر بلیک نے پولیس کو طلب کرلیا جس نے روزا پارکس کو گرفتار کرلیا۔ ان پر منٹگمری شہر کے ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا حالانکہ تکنیکی طور پر ان کی کوئی غلطی نہیں تھی، وہ سیاہ فاموں کے حصے میں بیٹھی تھیں۔ بہرحال اگلی شام انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی۔

اس واقعے کے بعد رنگ دار افراد کی ترقی کے لیے قومی مجلس، مختصراً این اے سی سی پی (انگریزی: National Association for the Advancement of Colored People) کے مقامی صدر ایڈگر نکسن نے مقامی عہدیداران کے ساتھ مل کر اس معاملے کو آگے بڑھایا اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون کی تبدیلی تک بسوں سفر کا مقاطع (بائیکاٹ) کرنے اعلان کیا۔ 35 ہزار رسالوں (پمفلٹس) کی تقسیم کے ساتھ ساتھ سیاہ فاموں کے مقامی گرجاؤں میں بائیکاٹ کے اعلان اور مقامی اخبار منٹگمری ایڈورٹائزر میں صفحۂ اول پر مضمون کی اشاعت نے اس خبر کو مزید پھیلایا۔ سیاہ فاموں نے عہد کیا کہ وہ توقعات کے مطابق سلوک کیے جانے، سیاہ فام ڈرائیوروں کو بھرتی کرنے اور بس کے درمیان میں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر نشستیں ملنے تک بسوں میں نہیں بیٹھیں گے۔

اگلے روز پارکس کو فساد پھیلانے اور مقامی قانون کی خلاف ورزی مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور 30 منٹ کی سماعت کے بعد انہیں ملزم قرار دیتے ہوئے 10 ڈالر کا جرمانہ اور عدالتی کارروائی میں 4 ڈالر کے اخراجات ادا کرنے کی سزا سنائی گئی۔ جس کے خلاف روزا پارکس نے اپیل کی اور نسلی تفریق کی قانونی حیثیت کو للکارا۔ اگلے دن یعنی 5 دسمبر کو نے 35 ہزار رسالے تقسیم کیے گئے اور سیاہ فام برادری کے بائیکاٹ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ سیاہ فام ٹیکسی ڈرائیوروں نے بسوں کا کرایہ لیتے ہوئے اپنی برادری کے مسافروں کو منزلوں پر پہنچایا لیکن لوگوں کی بہت بڑی تعداد، تقریباً 40 ہزار افراد، کو پیدل ہی سفر کرنا پڑا جن میں سے کئی ایسے تھے جو 32 کلومیٹر تک پیدل چلے۔

ایک روزہ مقاطع کی شاندار کامیابی کے بعد پارکس کا مقدمہ طول پکڑ گیا۔ ریاست سے وفاقی عدالتوں تک ہونے والی اپیلوں نے معاملے کو بہت کھینچ دیا جس کی وجہ سے بسوں کا بائیکاٹ بھی بڑھتا چلا گیا اور بالآخر منٹگمری شہر میں سیاہ فاموں کا بائیکاٹ 381 دن جاری رہنے کے بعد اس وقت مکمل ہوا جب امریکی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے۔

بس نمبر 2857، جس میں گرفتاری سے پہلے روزا پارکس سوار تھیں، اب ہنری فورڈ عجائب گھر میں محفوظ ہے

پارکس کی حکم عدولی، گرفتاری اور پھر منٹگمری بس بائیکاٹ جدید شہری حقوق کی تحریک کی اہم علامات بنیں۔ وہ نسلی تفریق کے خلاف مزاحمت کی بین الاقوامی شخصیت بن گئیں۔ انہوں نے تحریک میں ایڈگر نکسن اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جیسے معروف رہنماؤں کے ساتھ کے بھی تعاون کیا۔

گو کہ اس اقدام پر بعد میں ان کی خوب عزت افزائی ہوئی لیکن ابتداء میں انہیں کٹھن صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑا اور مقامی اسٹور میں درزی کی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ بالآخر وہ ڈیٹرائٹ منتقل ہوگئیں اور اپنے اسی روزگار کو جاری رکھا۔ 1965ء سے 1988ء تک انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان کے سیاہ فام رکن جان کونیئرز کی سیکرٹری اور استقبال کنندہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فارغ البالی کے بعد انہوں نے اپنی آپ بیتی لکھیں اور زیادہ تر ڈیٹرائٹ میں اپنی نجی زندگی میں مصروف رہیں۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ دماغی مرض کا شکار ہوگئی تھیں اور بالآخر 24 اکتوبر 2005ء کو 92 سال کی عمر میں ڈیٹرائٹ ہی میں انتقال کرگئیں۔

پارکس کو رنگ دار افراد کی ترقی کے لیے قومی مجلس نے 1979ء میں اسپنگارن میڈل دیا جبکہ بعد میں انہیں صدارتی تمغۂ آزادی اور کانگریشنل گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔ 2005ء میں روزا پارکس کی وفات کے بعد ان کا مجسمہ امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی مشترکہ اجلاس گاہ کیپٹل میں مشہور شخصیات کے مجسمہ خانے میں رکھا گیا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور دوسری غیر حکومتی عہدیدار ہیں۔