زہرہ بائی آگرے والی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زہرہ بائی آگرے والی
Zohrabai-tanpura-with-child.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1868  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1913 (44–45 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

زہرہ بائی آگرے والی (پیدائش: 1868ء— وفات: 1913ء) ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے آگرہ گھرانہ سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ تھیں جن کا بیشتر زمانہ حیات آگرہ میں بسر ہوا۔زہرہ بائی 1900ء تک گوہر جان کے ساتھ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں شہرت یافتہ مغنیہ تھیں جنہوں نے طوائف کی حیثیت سے موسیقی کا آخری دور دیکھا۔

سوانح[ترمیم]

زہرہ بائی کی پیدائش 1868ء میں آگرہ میں ہوئی۔ موسیقی کی تعلیم استاد شیر خان اور استاد کلن خان سے حاصل کی۔ آگرہ سے تعلق رکھنے کی بنا پر زہرہ بائی آگرے والی مشہور ہوئیں۔ زہرہ بائی کو اکثر زہرہ بائی پٹنہ والی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اُن کا قیام پٹنہ میں بھی رہا جہاں وہ پٹنہ کے زمینداروں کے یہاں بھی گایا کرتی تھیں۔[1] زہرہ بائی نے کیرانہ گھرانہ کے دو اساتذہ استاد شیر خان اور استاد کلن خان سے خیال گانا سیکھا تھا جبکہ غزل اور ٹھمری کی تعلیم ڈھاکا کے استاد احمد خان سے حاصل کی۔

زہرہ بائی کا ایک ریکارڈ جو 1910ء میں ریکارڈ کیا گیا۔

موسیقی[ترمیم]

زہرہ بائی نے موسیقی کے آگرہ گھرانے سے تعلیم پائی تھی، لہذا وہ اِس گھرانے کی شناخت تصور کی جاتی ہیں۔زہرہ بائی  مردانہ آواز سے گیت گانے میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔زہرہ بائی نے کبھی ٹھمری نہیں گائی۔[2] زہرہ بائی کے گراموفون ریکارڈ جن سے بعد کے گلوکاروں نے موسیقی سیکھی، میں کیرانہ گھرانہ کی گلوکارہ گنگوبائی ہنگل بھی شامل ہیں جنہوں نے زہرہ بائی کے گراموفون ریکارڈ سن کر موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔[3] زہرہ بائی کی موسیقی کو آگرہ میں استاد فیاض خان اور پٹیالہ گھرانے کے بڑے غلام علی خان نے بھی اختیار کیا۔ زہرہ بائی نے 1908ء میں گراموفون کمپنی سے ایک معاہدہ کر لیا جس کے تحت 2500 روپئے میں اُنہیں 25 گیت ریکارڈ کروانے تھے۔ یہ سلسلہ بخوبی چلتا رہا اور 1908ء سے 1911ء کے وسطی زمانے میں اُنہوں نے 60 گیت ریکارڈ کروائے۔علاوہ ازیں راگ سوہنی اور راگ جونپوری بھی ریکارڈ کے گئے۔ 1994ء میں زہرہ بائی کے پرانے ریکارڈ دوبارہ ترتیب دیے گئے اور اُنہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں شامل کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا گیا۔[4]

وفات[ترمیم]

زہرہ بائی کا انتقال 45 سال کی عمر میں 1913ء میں آگرہ میں ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Bharati Ray: Women of India: Colonial and Post-colonial Periods, p. 463
  2. Kumāraprasāda Mukhopādhyāẏa: The Lost World of Hindustani Music, p. 180
  3. Afshana Shafi, Dr: THE LEGACY OF GANGUBAI HANGAL, p. 39
  4. https://courses.nus.edu.sg/course/ellpatke/Miscellany/zohrabai.htm