سرور ڈنڈا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سرور ڈنڈا، جن کا حقیقی نام غلام سرور خان تھا، 1960ء کے دہے[1] میں اردو زبان اور دکنی بولی کے مشہور شعرا میں سے ایک تھے۔ وہ عوامی نمائندہ شاعر بھی تھے، عوامی مسائل کو حکومت کے ارباب مجاز اور اپنی نظموں کے ذریعے عام کرتے آئے ہیں۔ مزاح اور طنز کے علاوہ وہ ایک محدود حد تک وہ عشقیہ شاعری بھی کر چکے ہیں۔

پیشہ ورانہ مشغولیت[ترمیم]

سرور ڈنڈا نے کالج سے فنون لطیفہ میں ڈپلوما مکمل کیا تھا۔ وہ غیر منقسم آندھرا پردیش میں پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں اندراج شدہ کنٹراکٹر تھے۔ [2]


کلام[ترمیم]

سرور نے مختلف موضوعات پر شاعری کی ہے۔ ان میں ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی، بتھوکما، قلی قطب شاہ، گاؤں کے میلوں وغیرہ پر لکھ چکے ہیں۔ وہ عوامی مسائل اور حکومت سے عوامی عرضیوں پر بھی کئی نظمیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی نظم شاہ پور واڑی سے سے پہاڑی لال فیتہ شاہی اور رشوت کی آئینہ دار ہے۔ وہ کثرت سے تیلگو زبان کے الفاظ کا استعمال کرتے آئے ہیں اور ان کی ایک نظم کا عنوان اِدے نا منا دیسم (یہی ہماری ریاست ہے؟) تھا۔ انہوں نے اپنے دور میں بر سر اقتدار وزیر اعلٰی نیلم سنجیوا ریڈی کو شاعری میں بہ طور خاص نشانۂ ملامت بنایا، جو آگے چل کر ملک کے صدر جمہوریہ بھی بنے تھے۔ انہوں نے کہا:

جنتا کی ہے یہ عرضی، آگے تمہاری مرضی
وہ آندھرا کے گاما، سنجیوا ریڈی ماما
بے کاری ، بیروزگاری، یہ عام ہے بیماری
روزگار سے لگانا ، سنجیوا ریڈی ماما
تعلیم نئیں سو بچے، نکلیں گے کاں سے اچھے
تعلیم پھکٹ دلانا ، سنجیوا ریڈی ماما
اچھی بری گذر گئی سب کی نشہ اتر گئی
روتوں کو ہے ہنسانا ، سنجیوا ریڈی ماما

مخدوم محی الدین کی ایک خوبصورت غزل کے دوسرے روپ کو ڈنڈا نے لکھا ہے:

زندگی ہے نا ارمانوں کی دھن مڑی
زندگی ہے فقط بھرکیاں دوستو
سر گھڑ ، منہ پاڑ رکھتے تھے جو
ہور سدا روتی صورت جو مشہور تھے
جب سے فیشن کے ہتھے چڑھیں جان من
دل بھی لینے لگا چنگیاں دوستو![2]

زبانی روایت براری[ترمیم]

سرور ڈنڈا کی 500 نظمیں منتشر اور بکھری پڑی ہیں، اگر چیکہ کہ کچھ نظمیں انٹرنیٹ پر شائع ہو چکی ہیں، تاہم باضابطہ مجموعہ کلام کی شکل میں شائع نہیں ہوئیں ہیں۔ اس کے علاوہ، موصوف حالاں کہ عوام میں حد درجہ مشہور تھے، تاہم وہ کسی بھی انعام و اعزاز سے محروم ہی رہے۔[2]

میموریل سوسائٹی اور سالانہ جلسے[ترمیم]

سرور ڈنڈا کی یاد تازہ رکھنے کے لیے ایک میموریل سوسائٹی تشکیل دی گئی تھی، جو ہر سال جلسے منعقد کرتی تھی۔ اس سلسلے کی ایک کتاب 1994ء میں شائع ہوئی تھی۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]