سرکپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سرکپ ٹیکسلا، پاکستان کے وسیع کھنڈر کا ایک حصہ ہے۔

کھدائی[ترمیم]

سرکپ کے کھنڈر کی کھدائی اول سر جان مارشل کے زیر ہدایت ہرگریو نے ۱۹۱۲ تا ۱۹۳۰ میں کی۔ پھر ۱۹۴۴ تا ۱۹۴۵ میں مورٹمر ویہلر نے بعض مزید حصے دریافت کئے۔

تاریخ[ترمیم]

غالب خیال کے مطابق سرکپ کا شہر یونانی و بکتری بادشاہ دیمیٹریوس نے ہندوستان پر حملہ کے بعد ۱۸۰ قبل مسیح میں بسایا تھا۔ لیکن بعض لوگوں کے خیال میں یہ شہر مینندر اول نے تعمیر کیا تھا۔

دیمیٹریوس اول

اس شہرکو یونانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا تھا۔ شہر کے بیچ میں ایک میدان تھا جس کے گرد ۱۵ سڑکیں بنی ہوئی تھیں۔ شہر قریبا ۱۲۰۰X ۴۰۰ میٹر رقبے پر پھیلا ہوا تھا جس کے گرد ۵ سے ۷ میٹر چوڑی اور ۸ء۴ کیلومیٹر لمبی فصیل بنائی گئی تھی۔

یونانی دیو مالائی کہانیوں میں ملنے والی سمندری مخلوق ایک بحری بلا پر سوار ہے۔ سرکپ سے برآمد شدہ پتھر کی ایک تختی پر موجود تصویر

سرکپ میں یونانی تہذیب سے متاثر کئی چیزیں دریافت ہوئی ہیں۔ ان میں خاص طور ہر بادشاہوں کے سکے شامل ہیں جن میں یونانی دیومالائی کہانیوں کے تصورات ملتے ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی اثرات بھی پائے گئے ہیں چنانچہ ہندوستانی پازیب یونانی دیوی آرٹیمیس کے پاؤں میں دیکھائے گئے ہیں۔

یونانیوں کے بعد سکیتھیوں اور پارتھیوں کے حملوں اور ۳۰ ق م میں آنے والے ایک زلزلہ کے بعد اس شہر کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ گوندافارس نے، جو کہ پہلا پارتھی بادشاہ تھا، نے بھی شہر کے بعض حصے تعمیر کئے تھے جن میں دو سروں والے عقاب کا ستوپہ اور سورج دیوتا کا مندر شامل ہیں۔ آخر میں کشن بادشاہوں نے اس شہر پر قبضہ کر لیا اور اسے چھوڑ کر کوئی ڈیڑھ کیلومیٹر دور سرسکھ کے مقام پر نیا شہر تعمیر کیا۔

مذہبی عمارات[ترمیم]

بدھ ستوپےشہر میں جگہ جگہ پر موجود ہیں اسی طرح ایک ہندو مندر بھی پایا گیا ہے جس سے یہاں دونوں مذاہب کے درمیان روابط کا علم ہوتا ہے۔ سرکپ کے نزدیک ہی جنڈیال کے مقام پر ایک یونانی یا زرتشتی مندر بھی موجود ہے۔

گول ستوپہ[ترمیم]

سرکپ میں موجود گول ستوپہ ہندوستان کے قدیم ترین ستوپوں میں سے ایک ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ستوپہ ایک زبردست زلزلہ کے نتیجہ میں موجودہ جگہ پر آن گرا تھا۔ جب پہلی صدی عیسوی میں شہر دوبارہ تعمیر کیا گیا تو اس کے گرد دیوار بنا کر اسے محفوظ کر دیا گیا۔

سرکپ کا گول ستوپہ


گول مندر[ترمیم]

گول مندر سرکپ کی سب سے بڑی مذہبی عمارت ہے جو کہ ۷۰x۴۰ میٹر رقبہ پر واقع ہے۔ اس مندر میں ایک مستطیل حصہ ہے جس میں کئی کمرے ہیں جو کہ بدھ راہبوں کے زیر استعمال تھے۔ اس کے علاوہ ایک گول کمرہ ہے جو کہ مندر کی وجہ تسمیہ ہے۔ ۳۰ ق م میں ایک زلزلہ میں تباہ ہونے کے بعد جب شہر کو دوبارہ تعمیر کیا گیا تو مندر میں توسیع کی گئی۔

گول مندر کا گول کمرہ

دوہرے سر والے عقاب کا ستوپہ[ترمیم]

سرکپ کا ایک خاص ستوپہ دوہرے سر والے عقاب کا ستوپہ ہے۔ اس میں نظر آنے والے ستون یونانی طرز کے ہیں۔ درمانی محراب میں ایک یونانی مندر دکھایا گیا ہے جبکہ باہر والی محراب میں ہندو طرز کا ایک مندر عیاں ہے۔ ان کے اوپر دوہرے سر والا عقاب بنایا گیا ہے۔ یہ نشان اس لحاظ سے بھی عجیب ہے کہ اس طرح کے عقاب کا خیال بابل کی قدیم تہذیب سے ملتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں سے یہ خیال سکیتھیا اور وہاں سے پنجاب آیا۔

دوہرے سر والے عقاب کا ستوپہ

اپولونس از تیانا کی آمد[ترمیم]

معروف یونانی فلاسفر اپولونوس از تیانا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے صدی عیسوی میں سرکپ بھی آیا تھا۔ اس نے یونانی طرز تعمیر کے متعلق، غالباً سرکپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، لکھا ہے: ٹیکسلا کے متعلق ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ نینوہ جتنا بڑا ہے اور اس کی شہرپناہ یونانی طرز کے مطابق تعمیر کی گئی ہے[1]۔ پھر وہ لکھتا ہے: میں نے پہلے بتایا ہے کہ شہرکی فصیل کس طرح تعمیر کی گئی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کو ایتھنز کی طرح بے ترتیب طریق پر تنگ گلیوں میں بھی تقسیم کیا گیا تھا۔ اور گھروں کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ اگر ان کو باہر سے دیکھا جائے تو وہ یک منزلہ نظر آتے تھے لیکن اگر آپ ان میں داخل ہوں تو فی الفور اتنے ہی زیر زمین کمرے نظر آتے تھے جتنے زمین کے اوپر [2]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (Life of Apollonius Tyana, II 20)
  2. (Life of Apollonius Tyana, II 23)

گیلری[ترمیم]

بیرونی رابطے[ترمیم]

نیز دیکھیں[ترمیم]