سری لنکائی خانہ بدوش لوگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سری لنکائی خانہ بدوش لوگ
Snake charmer(js).jpg
سری لنکا کا خانہ بدوش سپیرا
گنجان آبادی والے علاقے
 سری لنکا
زبانیں
سری لنکائی خانہ بدوش تیلگو ، سنہالی، تمل
مذہب
روحیت، بدھ مت، ہندو مت، مسیحیت، اسلام
متعلقہ نسلی گروہ
سنہالی، سری لنکائی تمل

سری لنکائی خانہ بدوش لوگ (انگریزی: Sri Lankan Gypsy people) وہ سری لنکا کا نسلی گروہ ہے جو اپنا نسب بھارت میں تلاش کرتا ہے (جدید تیلگو سرزمین کے تیلگو علاقہ جات سے)۔ یہ لوگ کئی صدی قبل سری لنکا میں آکر آباد ہو گئے تھے۔ یہ لوگ جدید سری لنکا میں واحد خانہ بدوش لوگ ہیں اور انہیں اہِیْکُنٹا یا پھر کُراوان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ چھوٹی تاڑ کی جھوپڑیوں میں کسی بھی جگہ پر دو یا تین جگہوں تک قیام پزیر رہتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر تیلگو میں گفتگو کرتے ہیں جسے سری لنکائی خانہ بدوش تیلگو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک دراوڑی زبان ہے جس کے حقیقی بولنے والے عمومًا بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ کئی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اور مسیحی مبلغوں نے کوشش کی ہے کہ ان لوگوں کو کسی ایک جگہ پر مستقلًا آباد ہونے کے لیے آمادہ کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کچھ لوگ دیہی علاقوں میں قیام پزیر ہو گئے ہیں۔ ان لوگوں کی اکثریت سنہالی زبان کے بولنے والوں پر مشتمل ہے، جنہیں اہِیْکُنٹا کہا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس اقلیت سری لنکائی تملوں اور سری لنکائی مسلمانوں پر مشتمل ہے، جنہیں کُراوان کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ گزر بسر کے لیے مستقبل کی پیشن گوئی کا کام کرتے ہیں، سانپ کا کھیل دکھاتے ہیں اور بندروں اور کتوں کا تماشا دکھاتے ہیں۔ وہ سری لنکائی خانہ بدوش لوگ جو دیہی علاقوں میں آباد ہو گئے ہیں، وہ یا تو کم تر درجے کی کھیتی کا کام انجام دیتے ہیں یا پھر دیگر کسانوں کی مدد کرنے کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ سنہالی اور تمل زبانوں کا استعمال کرتے ہیں، جس کا تعلق ان کی رہائش کے علاقے سے ہے۔ ان میں کچھ لوگ ہندو مت کی مبادیات پر عمل پیرا ہیں، کچھ لوگ مسیحیت پر عمل کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ بدھ مت پر بھی عمل کرتے ہیں۔ ان کی بہت ہی کم تعداد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔[1][2][3][4][5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Uplifting the ahikuntaka gypsy community"۔ Dilmah Conservation۔ Archived from the original on 7 اکتوبر 2011۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جولائی 2011۔
  2. "By the light of the gypsy fire"۔ 13 فروری 2011۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جولائی 2011۔
  3. Wasantha Subasinghe۔ "Gypsy Culture and Society in the Changing World: A Sociological Analysis" (پی‌ڈی‌ایف)۔ University of Kelaniya۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جولائی 2011۔
  4. Dennis McGilvray۔ Crucible of Conflict: Tamil and Muslim Society on the East Coast of Sri Lanka۔ Duke University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-8223-4161-1۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. Nandadeva Wijesekera (1965)۔ The people of Ceylon۔ M.D. Gunasena۔ صفحہ 53۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔