سمیرہ موسیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سمیرہ موسیٰ
(عربی میں: سميرة موسى ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
SameeraMoussa.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 3 مارچ 1917  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
محافظہ غربیہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 اگست 1952 (35 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کیلی فورنیا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات ٹریفک حادثہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ قاہرہ (1935–1939)  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم علوم فطریہ، مشعیات اور اشعاعی تنزل  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی ایس سی اور پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل نویاتی طبیعیات،  طبعی طبیعیات  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نوکریاں جامعہ قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سمیرہ موسٰی (پیدائش 3 مارچ 1917ء) ایک مصری نژاد مسلمان جوہری سائنس دان تھیں۔ ان کی پیدائش مصر کے محافظہ غربیہ میں ہوئی۔ سمیرہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پہلی دفعہ ایٹمی قوت کو طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی اور بعض سستی دھاتوں مثلا تانبے کے ایٹموں سے سستے جوہری بم بنانے پر تحقیق کی۔ اسی ضمن میں انہوں نے ایک کانفرنس بھی منعقد کی تھی جس کا عنوان "جوہری ہتھیار امن کے لیے" رکھا تھا۔ نیز سمیرہ پہلی وہ شخصیت ہیں جنہیں امریکی ایٹمی تنصیبات کے دورے کا موقع ملا۔

وفات[ترمیم]

5 اگست سنہ 1952ء کو امریکی دورہ مکمل ہونے کے بعد جب سمیرہ مصر واپس ہو رہی تھیں تو اچانک راستے میں ان کی گاڑی 40 فٹ کی بلندی سے نیچے گہرائی میں اتر گئی اور سمیرہ حادثے کے فوراً بعد جاں بحق ہو گئی۔ اس حادثہ کے متعلق مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گاڑی نشیب میں اترنے سے قبل ہی ڈرائیور نے چھلانگ لگا دی تھی۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ ان کے قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ بہت سے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کی موت کے پیچھے اسرائیلی سراغرساں ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.elfagr.com/2992751 — اخذ شدہ بتاریخ: 3 اگست 2019
  2. Zvi Bar'el. "As Egypt elections near, one candidate faces the worst accusation – Jew". Haaretz. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جون 2016.