سنحاریب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سنحاریب
Sennacherib.jpg
Sennacherib during his Babylonian war, relief from his palace in نینوا
King of the جدید آشوری سلطنت
معیاد عہدہ 705–681 BC
پیشرو Sargon II
جانشین آسرحدون
شریک حیات Tašmētu-šarrat
Naqī'ā/Zakūtu
نسل Ashur-nadin-shumi
Ashur-ili-muballissu
Arda-Mulissu
Ashur-shumu-ushabshi
آسرحدون
Nergal-shumu-ibni
Sharezer
Shadittu
شاہی خاندان Sargonid dynasty
والد Sargon II
والدہ Atalyā
پیدائش c. 740 BC
Kalhu
وفات 681 BC
نینوا

سنحاریب (انگریزی: Sennacherib)[ا] اشوریہ کا 705 ق م تا 681 ق م بادشاہ تھا۔ اسے بابل اور مملکت یہوداہ کے خلاف جنگی مہم کے لئے جانا جاتا ہے۔ وہ تعمیری کام میں دلچسپی لیتا تھا اور اشوریہ کا پایہ تخت نینوا اسی نے بسایا تھا۔ 681 ق م میں اس کا بڑی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اسے اس کے بڑے بیٹے نے ہی مار ڈالا۔ اس کا ولی عہد اور جانشین اس کا چھوٹا بیٹا آسرحدون تھا۔

اس کی ابتدائی حکومت نام نہاد بابل کے تسلط سے شروع ہوئی۔ بابل کے لوگوں نے اشوریہ سلطنت کی ماتحتی سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا دعوی تھا کہ اشوریہ کے حکمران نے 689 ق م میں شہر بابل کو تباہ کر دیا تھا۔{{Sfn|Grayson|1991|p=105,109}اس نے بابل کے بعد اشوریہ کے شمال میں اپنی حکومت کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا اور لیوانت میں قلیقیہ کی حکمران سے لوہا لیا۔ اس کے اناطولیہ سے بھی جنگ کی اور عرب کے ریگستانوں میں عرب حکمرانوں سے جنگ کی۔[1] اس کی سوریا کی جنگی مہموں کا تذکرہ عبرانی بائبل کے کتاب سلاطین میں مذکور ہے۔ بابل میں اس کی موت کا جش منایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا شہر کو تباہ کرنے کی وجہ سے خدا کو اس کو کیفر کردار تک پہونچایا۔ وہ ایک ماہر فن تعمیر بھی تھا۔ اس کی زیر نگرانی سلطنت اشوریہ اپنے عروج پر تھی۔[2] اس نے شہر نینوا کی توسیع و تزئین کا منصوبہ تیار کیا۔ شہر میں پانی لانے کے لئے 50 کلو میٹر طویل سرنگی نہر بنوائی اور ایک محل تعمیر کرایا۔ اس نے شہر میں معلق باغ کا منصوبہ بھی پیش کیا اور اپنے منصوبہ کو کامیاب بھی بنایا۔ اس نے کئی معلق باغات بنوائے۔[3][4]

پس منظر[ترمیم]

سلطنت اشوریہ اور اس کی توسیع کا نقشہ.

اشوریہ سلطنت کی ابتدا برنجی دور میں ہوئی اور یہ دریائے دجلہ کے کنارے ایک چھوٹی سی ریاست یا شہر سے شروع ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Grayson 1991، صفحہ۔ 111–113.
  2. Von Solden 1994، صفحہ۔ 58.
  3. Von Solden 1994، صفحہ۔ 58,100.
  4. Foster & Foster 2009، صفحہ۔ 121-123.