سوفی کی دنیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوفی کی دنیا
(ناروی بوکمول میں: Sofies verden خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عنوان (P1476) ویکی ڈیٹا پر
سوفی کی دنیا

مصنف جوسٹین گارڈر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان چینو، کیلیفورنیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
موضوع فلسفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مرکزی موضوع (P921) ویکی ڈیٹا پر
ادبی صنف فلسفیانہ ناول[1]،  فلسفیانہ فکشن[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
ناشر برکلے بکس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ناشر (P123) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ اشاعت 1991  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
آئی ایس بی این 2-02-021949-2،  82-03-16841-8،  3-446-17347-1  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایس بی این-10 (P957) ویکی ڈیٹا پر
او سی ایل سی 246845141  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں او سی ایل سی کنٹرول نمبر (P243) ویکی ڈیٹا پر
کانگریس MLCM 92/06829 (P)

سوفی کی دُنیا ناروے کے معروف ناول نگار جوسٹین گارڈر کے ایک شہرہ آفاق ناول Sofies verden کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ناول اصلاً نارویجی زبان میں لکھا گیا تھا، بعد ازاں دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہوئے۔

یہ ناول ناروے کی ایک چودہ سالہ لڑکی سوفی آموڈسین اور ایک فلسفی البرٹوناکس ان دو مرکزی کرداروں کی کہانی پر مشتمل ہے۔ سوفی کی دنیا ناروے میں سب سے زیادہ بکنے والا ناول ہے۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1994ء میں ہوا جو 1995ء میں شائع ہوا، یہ اس سال سب سے زیادہ بکنی والی کتاب قرار پایا۔

2011ء تک ناول کے 58 زبانوں میں ترجمے اور پانچ کروڑ نسخے فروخت ہو چکے تھے۔[2] یہ ناروے کا بیرون ناروے سب سے زیادہ کاروبار کرنے والا ناول ہے، اس پر ایک فلم سوفی کی دنیا اور ایک کمپیوٹر گیم بھی بن چکا ہے۔

کردار[ترمیم]

یہ ناول ناروے کی رہنے والی ایک نو عمر لڑکی سوفی آموڈسین کے گرد گھومتا ہے، اس لیے اس کا نام سوفی کی دنیا رکھا گیا۔ جبکہ دوسرا کردار فلسفیانہ مزاج کا حامل ایک ادھیڑ عمر شخص البرٹو ناکس ہے جو جو سوفی کو فلسفے کی تاریخ اور اس کے نظریوں سے متعارف کراتا ہے۔

خلاصہ[ترمیم]

ناول کی کہانی کے مطابق یہ 1990 کا زمانہ ہے۔ 14 سالہ سوفی آموڈسین، اپنی والدہ، نارنجی بلی شیریکان، تین سنہری مچھلیوں، دو آسٹرین طوطوں اور ایک سبز کچھوے کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے والد ایک آئل ٹینکر کے کپتان ہیں اور زیادہ تر گھر سے دور ہی رہتے ہیں۔ ایک روز سوفیاسکول سے لوٹتی ہے تو اُسے گھر کے لیٹر بکس سے دوسری بہت سے خطوں کے ساتھ ایک خط ملتا ہے جو اس کے نام ہے۔ لفافے پر اس نام واضح طور پر لکھا تھا اور گھر کا پتا بھی۔ خط پر چونکہ کوئی ٹکٹ نہیں تھا اس لیے وہ یہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتی تھی کہ اُس کے نام یہ خط کہاں سے آیا ہے۔ لیکن وہ یہ ضرور جان لیتی ہے کہ خط کوئی دستی طور ہی ڈال کر گیا ہے۔ سوفی نے جب گھر کے اندر جا کر لفافہ کھولا تو اس میں ایک چٹ تھی جس پر لکھا تھا ’تم کون ہو؟‘۔ اسی طرح اُسے دو گھنٹے کے اندر ایک اور لفافہ ملا، وہ بھی دستی طریقے سے لیٹر بکس میں ڈالا گیا تھا، اس میں بھی ایک چٹ تھی اور اس پر بھی ایک سوال لکھا تھا ’یہ دنیا کب اور کیسے پیدا ہوئی؟ ناول ان دو پیغامات سے شروع ہوتا ہے۔ تیسرے لفافے پر اس کا نام تو تھا لیکن خط کسی اور کے لیے تھا۔ لکھا : ہلڈی مولر کانگ معرفت سو فی آموڈسین۔ اس میں ایک قدرے تفصیلی پیغام بھی تھا۔ ’پیارے ہلڈی! پندرہویں سالگرہ مبارک ہو۔ مجھے یقین ہے تم میری باتوں کو سمجھ گئی ہو گی۔ میں تمھیں جو تحفہ دے رہا ہوں وہ تمھاری زندگی کو خوشگوار بنانے میں مددگار ہوگا۔ مجھے معاف کردینا کہ یہ کارڈ سوفی کی معرفت بھیج رہا ہوں۔ تمھارا پتا میرے پاس نہیں ہے، لہٰذا یہی آسان طریقے ہے۔ تمھارے ابو کی طرف سے پیار‘۔ اس کے بعد اسے مسلسل لفافے ملتے رہتے ہیں جو اسے دنیا اور سقراط سے سارتر تک کے فلسفے کے بارے میں بتاتے ہیں۔

فلسفیوں کی فہرست[ترمیم]

جن فلسفیوں کے فلسفہ کو ناول میں جگہ دی گئی ہے ان میں تھالس، اناکسی میندر، اناکسی مینس، پرمیندیس، ہیراکلیٹس، ایمپیدوکلز، اناکساگوراس، سقراط، ڈیموکریٹس، پروٹوگراس، افلاطون، ارسطو، اینٹی شینز۔

دیگر استعمالات[ترمیم]

فلم[ترمیم]

1999 میں سوفی کی دنیا کی کہانی پر ناروی زبان میں فلم بنائی جس کو پیٹر سکاولین نے لکھا۔ فلم ناروے سے باہر نہین دیکھائی گئی۔[3]

تراجم[ترمیم]

ناول کا انگریزی ترجمہ 1995ء میں ہوا جس کے اب تک تین کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ ناول کا ترجمہ دنیا کی پچپن سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اردو میں ناول کے دو ترجمے ہو چکے ہیں۔ پہلا ترجمہ 1998ء میں اردو سائنس بورڈ لاہور سے شائع ہوا۔ یہ ترجمہ شائد حامد نے کیا ہے،[4] جبکہ دوسرا ترجمہ ابو الفرح ہمایوں نے کیا ہے، جو کراچی سے، سٹی بک پوائنٹ نے 2015ء شائع کیا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://www.murphyslibrary.com/2010/09/spider-webs-1-sophie%E2%80%99s-world-jostein-gaarder/
  2. (The National: Sophie's World author turns from philosophy to climate change on Sophie's World: "The novel has now been translated into 59 languages, and has sold an estimated 40 million copies." (14 مارچ 2011))
  3. "AMANDA-VINNERE 1985–2006"۔ Filmweb.no۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-03-03۔ 
  4. Sofi ki duniya (Book, 1998) [WorldCat.org]

بیرونی روابط[ترمیم]