سچر کمیٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

راجندر سچر کمیٹی 2005ء میں سابقہ انڈین وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے قائم کی تاکہ مسلم کمیونٹی کی تازہ ترین سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لے کر اس پر رپورٹ پیش کر سکے۔ کمیٹی کی سربراہی دلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر کو دی گئی اور اس میں چھ اور ارکان بھی شامل تھے۔[1][2][3][4][5] اس کے کام کرنے کے ضوابط وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے۔[6] 30 نومبر 2006 کو اپنے قیام کے بیس ماہ بعد کمیٹی نے 403 صفحات پر مشتمل رپورٹ انڈین ایوانِ زیریں لوک سبھا میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں مسلم کمیونٹی کو پیش مسائل کو اجاگر کیا گیا اور بتایا گیا کہ عوامی سطح پر ان کی نمائندگی کیسی ہے۔[7] تاہم اس کے کام کے طریقہ کار اور بعض سفارشات پر تنقید کی گئی۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ 2100 تک انڈیا کی کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 17 سے 21 فیصد ہی رہے گا۔[8]

ساخت[ترمیم]

کمیٹی کے کُل سات ارکان تھے جن میں سے 4 مسلمان تھے اور اس کی سربراہی دلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر کو دی گئی تھی۔ [حوالہ درکار] دیگر اراکین کے نام سید حامد، ٹی کے اومن، ایم اے بسیتھ، اختر مجید، ابو سلیم شرفی اور راکیش بسانت تھے۔ وزیر اعظم نے سید ظفر محمود کو کمیٹی کے لیے افسر بکارِ خاص بنا دیا تھا۔

کمیٹی میں کوئی بھی خاتون رکن نہیں تھی مگر یہ خواتین کی جماعتوں اور ایکٹیوسٹ سے ملی تھی۔

رپورٹ[ترمیم]

سچر کمیٹی میں انڈین مسلمانوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کر کے ان کو ختم کرنے کے بارے تجاویز دی گئی تھیں۔ یہ مسائل خاص طور پر معاشی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں سے متعلق تھے۔ انڈین مسلمانوں کی پسماندگی پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگرچہ انڈین مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 14 فیصد ہے مگر انڈین بیوروکریسی میں ان کی نمائندگی محض اڑھائی فیصد ہے۔[9] سچر کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلمانوں کی حالت شیڈیولڈ کاسٹس اور شیڈیولڈ قبائل سے بھی گئی گزری تھی۔[10]

سچر کمیٹی رپورٹ نے قومی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ عدم مساوات کو واضح کیا اور اس پر ابھی تک بحث جاری ہے۔ کمیٹی نے تجویز کیا کہ مساوی مواقع کا ایک کمیشن بنایا جائے جو عدم مساوات بشمول گھروں کے حصول وغیرہ کی شکایات کی تحقیق کرے۔[11] کمیٹی کی سفارشات کے جواب میں وزیرِ خزانہ پی چدمبرم نے اقلیتوں کے ترقیاتی بجٹ میں اضافے کی تجویز پیش کی اور بتایا کہ اس طرح کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اقلیتوں کی ترقی کی کارپوریشن کی ذمہ داریوں اور پہنچ میں وسعت لائی جا سکے گی۔[12]

کام کا طریقہ[ترمیم]

سچر کمیٹی نے 2001 کی مردم شماری کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے آبادی کی مختلف خصوصیات، بنیادی سہولیات کی دستیابی اور تعلیمی کامیابیوں کو سمجھا۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے نیشنل سیمپل سروے کو استعمال کرتے ہوئے ملازمت، تعلیم، اخراجات اور غربت کی سطح کا تجزیہ کیا۔ معاشی ڈیٹا مختلف ذرائع بشمول ریزرو بینک آف انڈیا، زرعی اور دیہاتی ترقی کے قومی بینک، چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے قومی بینک، اقلیتوں کی ترقی اور معاشی کارپوریشن اور پسماندہ طبقات کی معیشت اور ترقی کی کارپوریشن سے لیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف حکومتی کمیشنوں کے ڈیٹا کو بھی بروئے کار لایا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف وزاتوں، محکموں، یونیورسٹیوں، کالجوں وغیرہ کے ڈیٹا سے بھی مدد لی گئی۔

تنقید[ترمیم]

نومبر 2013 میں گجرات حکومت نے سپریم کورٹ میں اس کمیٹی کو غیر آئینی قرار دینے کی سفارش کی اور کہا کہ یہ کمیٹی صرف مسلمانوں کی مدد کو بنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سچر کمیٹی نے 2005 کے سروے کو استعمال کیا، اس پر بھی کڑی تنقید کی کہ اس نے صرف مسلمانوں کے معاشی اور سماجی مسائل کا جائزہ لیا جبکہ دیگر تمام مذہبی اقلیتوں کو نظرانداز کر دیا۔ اس حلف نامے کا پسِ منظر یہ تھا کہ مرکز نے گجرات میں مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذمہ دار مودی حکومت کو ٹھہرایا تھا۔[13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Padmanabhaiah, Sachar, Mamata favorites for governor"۔ Times of India۔ 23 دسمبر 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 فروری 2010۔ 
  2. "PUCL urges Supreme Court to quash Pota"۔ Times of India۔ 3 اپریل 2003۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 فروری 2010۔ 
  3. "Innocent people victimised during terror probes: Activists"۔ Times of India۔ 2 اکتوبر 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 فروری 2010۔ 
  4. TARUNABH KHAITAN (10 مئی 2008)۔ "Dealing with discrimination"۔ Frontline۔ The Hindu Group۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 فروری 2010۔ 
  5. "‘Sachar Committee report is unconstitutional’"۔ Indian Express۔ 27 اپریل 2008۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 فروری 2010۔ 
  6. Clarification On the Work of Justice Rajindar Sachar Committee
  7. "Ten years after Sachar Report"۔ Indian Express۔ Indian Express۔ 24 دسمبر 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-02-24۔ 
  8. "Five charts that puncture the bogey of Muslim population growth"۔ 
  9. Faheem Aslam (21 مارچ 2011)۔ "Muslims’ share 2.5% in bureaucracy, says Sachar Committee member"۔ Greater Kashmir۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 جون 2016۔ 
  10. "US feels India has 180 m Muslims"۔ The Times Of India۔ 4 ستمبر 2011۔ 
  11. "Endemic discrimination"۔ The Hindu۔ 29 مئی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 جون 2016۔ 
  12. More funds for minorities' welfare وثق شدہ بتاریخ ستمبر 26, 2007, در وے بیک مشین
  13. "Gujarat to Supreme Court: Sachar panel illegal, only to help Muslims"۔ Indian Express۔ 28 نومبر 2013۔