سکندر بخت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سکندر بخت ٹیسٹ کیپ نمبر 74
Sakener bakhat.jpeg
ذاتی معلومات
مکمل نامسکندر بخت
پیدائش25 اگست 1957(1957-08-25)
کراچی, سندھ, پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بیٹ
گیند بازیدایاں بازو ،تیز بالنگ
حیثیتبالر
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 74)اکتوبر 1976  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
آخری ٹیسٹجنوری 1983  بمقابلہ  بھارت
پہلا ایک روزہ (کیپ 25)30 دسمبر 1977  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ایک روزہ6 فروری 1989  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
قومی کرکٹ
سالٹیم
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کرکٹ ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ فرسٹ کلاس لسٹ اے
میچ 26 27 186 100
رنز بنائے 146 31 1,944 187
بیٹنگ اوسط 6.34 7.75 14.18 8.90
100s/50s -/- -/- -/3 -/-
ٹاپ اسکور 22* 16* 67 28
گیندیں کرائیں 4870 1277 25,305 4,490
وکٹ 67 33 553 119
بالنگ اوسط 36.00 26.06 25.61 22.74
اننگز میں 5 وکٹ 3 0 29
میچ میں 10 وکٹ 1 0 3
بہترین بولنگ 8/69 4/34[1] 8/69 4/15
کیچ/سٹمپ 7/– 105/– 82/– 23/–
ماخذ: ESPNcricinfo، 23 January 2015

سکندر بخت Sikander Bakht(پیدائش: 25 اگست 1957ء کراچی) پاکستان کے سابق کرکٹر ہیں جنہوں نے 25 ٹیسٹ اور 27 ایک روزہ میچز کھیلے۔ وہ کرکٹ پر مختلف پاکستانی چینلوں میں تبصرہ نگار کے طور پر بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ کراچی' پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز' پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ' سندھ اور یونائیٹڈ بینک کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔

ٹیسٹ کرکٹ[ترمیم]

1976ء میں سکندر بخت کو نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ سکندر بخت نے کیوی وکٹ کیپر وارن لیز کو بولڈ کرکے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ وارن لیز اس کیوی اننگ کے ٹاپ سکورر تھے اور ٹیم کے سکور کو 468 تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوئے تھے۔ پہلی اننگ میں 68/1 کے بعد انہوں نے دوسری اننگ میں 38/2 کی وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح پہلے ٹیسٹ میں 3 وکٹیں لے کر انہوں نے اپنے کیریئر کا اچھا آغاز کیا۔ 1977ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ ان کی بہترین کارکردگی کا آئینہ دار تھا جب انہوں نے ٹیسٹ میں 126/5 کی کارکردگی کے ساتھ ویسٹ انڈیز کی تیز وکٹوں پر اپنے جوہر دکھائے۔ اس میں پہلی اننگ میں گورڈن گرینج کولس کنگ جبکہ دوسری باری میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر گورڈن گرینج کی وکٹ حاصل کی جبکہ کولس کنگ اور کالی چرن بھی ان کا شکار بنے۔ ٹیسٹ پاکستان ہار گیا تھا مگر سکندر بخت نے اپنی بولنگ سے شائقین کے دل جیت لئے تھے[2] 1978ء میں پاکستان اور انگلستان کے درمیان 5 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔ سکندر بخت نے مجموعی طور پر اس سیریز میں 10 وکٹیں حاصل کیں جس میں کراچی 79/3، برمنگھم کے ٹیسٹ میں 132/4، لارڈز کے ٹیسٹ میں 115/2 اور لیڈز کے ٹیسٹ میں 26/1 شامل تھے۔ اسی سیزن میں بھارت کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ کراچی کے ٹیسٹ میں سکندر بخت نے 118 رنز کے عوض 3 کھلاڑی آئوٹ کئے جبکہ بیٹنگ میں 22 ناقابل شکست رنز بنائے۔ 1979ء میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کا دورہ کیا۔ حیرت انگزیز طور پر سکندر بخت نے اس سیریز میں 12 وکٹ سمیٹے۔ کرائسٹ چرچ میں 102/4، نیپئر میں 67/4 اور آکلینڈ میں 132/4 کی عمدہ کارکردگی کے ساتھ انہوں نے سیریز کا اختتام کیا۔ اس کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے دورے پر گئی۔ پرتھ کے ٹیسٹ میں 33/1 کے علاوہ وہ موثر کارکردگی دکھانے سے قاصر رہے۔ اس کے بعد اسی سیزن میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کے دورہ پر روانہ ہوئی۔ دوسرے ٹیسٹ میں دہلی کے مقام پر انہوں نے 69 رنز دے کر 8 بھارتی کھلاڑیوں کی وکٹیں لیں۔ انہوں نے کپتان سنیل گواسکر31، چیتن چوہان 11، دلیپ ونگسارکر 1، راجر بنی 1، سید کرمانی 5، کپل دیو 15، کرسن گھاوری 0، شیولال یادیو 4 کو اپنے چنگل میں پھنسایا۔ اس اعلیٰ کارکردگی کی بدولت بھارت کی کرکٹ ٹیم 126 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ جبکہ پاکستان نے پہلی اننگز میں 273 رنز وسیم راجہ 97، آصف اقبال 64 کی بدولت بھارت پر برتری حاصل کرلی۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں وسیم راجہ 61، ظہیر عباس 50 کی مدد سے 242 رنز سکور کئے۔ بھارت نے دوسری اننگز میں 390 رنز کے ہدف میں 364 رنز 6 وکٹوں پر بنا لئے تھے۔ اس اننگ میں دلیپ ونگسارکر 146، شیو لال یادیو 60 اور چیتن چوہان کے 40 رنز کی بدولت نہ صرف یقینی شکست کو ٹالا بلکہ جیت کے بھی قریب پہنچ گئے۔ سکندر بخت نے اس نے اننگ ایک بار پھر اچھی بولنگ کی مگر قدرے مہنگے 121 رنز کے عوض 3 وکٹوں کا اختتام کردیا اور میچ میں 190 رنز کے عوض 11 وکٹیں حاصل کرگئے۔ ممبئی کے دوسرے ٹیسٹ میں انہوں نے 85/7، کانپور کے تیسرے ٹیسٹ میں 119/5 اور چنائی کے چوتھے ٹیسٹ میں 142/1 کے ساتھ دورے کا اختتام کیا جبکہ کولکتہ کے آخری ٹیسٹ میں انہیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔ اسی سیزن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف واحد ٹیسٹ میں فیصل آباد کے مقام پر وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ 1981ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر آسٹریلیا کے دورہ کیا مگر یہ دورہ سکندر بخت کیلئے زیادہ خوش قسمت ثابت نہ ہوا اور صرف پرتھ کے پہلے ٹیسٹ میں 126 رنز کے عوض 4 وکٹیں وہ لے پائے جبکہ برسبین کے ٹیسٹ میں انہیں ایک ہی وکٹ حاصل ہوسکی اور میلبورن کے ٹیسٹ میں وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ 1982ء میں پاکستان نے انگلستان کا دورہ کیا مگر وہ زیادہ کامیاب دکھائی نہ دیئے۔ 2 ٹیسٹوں میں 3 وکٹوں کے ساتھ وہ خود بھی مایوس تھے۔ جبکہ اگلے سال بھارت کے دورہ فیصل آباد کے مقام پر جو کہ ان کا آخری ٹیسٹ تھا انہوں نے ایک ہی وکٹ حاصل کی اور یوں ان کا ٹیسٹ کیریئر اپنے اختتام کو پہنچا۔

ون ڈے کیریئر[ترمیم]

سکندر بخت نے 1977ء میں انگلستان کے خلاف سیالکوٹ کے میچ میں ون ڈے ڈیبیو کیا اور گراہم روپ ان کی پہلی وکٹ بنے جسے انہوں نے 7 رنز پر ہارون رشید کے ہاتھوں کیچ کروایا۔ 1978ء میں پاکستان نے انگلستان کا دورہ کیا تو وہ ٹیم کے ہمراہ تھے۔ مانچسٹر میں انہوں نے 56 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی ٹیم 85 رنز پر آئوٹ ہو کر یہ میچ 132 رنز سے ہار گئی۔ اوول کے اگلے میچ میں وہ صرف ایک وکٹ لے پائے۔ بھارت کے خلاف سیالکوٹ میں انہوں نے 2 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ 1979ء میں دوسرے عالمی کپ میں کینیڈا کے خلاف انہوں نے اچھی بولنگ کی۔ 18 رنز کے عوض ایک وکٹ لے اڑے۔ تاہم نوٹنگھم میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 3/34 کی کارکردگی دکھائی اور لیڈز میں انگلستان کے خلاف 32/3 کے ساتھ سب کی نظروں میں آگئے لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف اہم میچ میں اوول کے مقام پر انہیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔ 1980ء میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کا دورہ کیا مگر سیالکوٹ اور لاہور کے میچوں میں وہ صرف ایک ہی وکٹ لے سکے۔ 1981-82ء میں آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی بینسن اینڈ ہیجز ورلڈ سیریز میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 12 وکٹیں حاصل کیں جن میں میلبورن میں آسٹریلیا کے خلاف 4/34 ان کی بہترین بولنگ تھی۔ پاکستان نے یہ میچ 4 وکٹوں سے جیت لیا تھا۔ سکندر بخت نے رک ڈارلنگ 41، گریگ چیپل 3، ایلن بارڈر 6 اور کم ہیوز 67 کو اپنا نشانہ بنایا۔ پاکستان نے مقررہ ہدف آخری اوور میں پورا کیا۔ جاویدمیانداد 72، مدثر نذر 44 اور عمران خان نے ناقابل شکست 28 رنز بنائے جبکہ برسبین میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 29/3 بھی ان کی اعلیٰ کارکردگی کا آئینہ دار تھے جہاں پاکستان بارش سے متاثرہ میچ میں ایک وکٹ سے شکست کھا گیا۔ پاکستان نے 9 وکٹوں پر 170 رنز بنائے جس میں مدثر نذر 40، عمران خان 31 اور جاوید میانداد 25 رنز شامل تھے تاہم ویسٹ انڈیز 107 رنز 9 وکٹوں پر بنا کر بھی یہ میچ جیت گیا۔ سکندر بخت نے لیری گومز 13، کلائیو لائیڈ 1 اور جیفری ڈوجون 13 کو ہزیمت سے دوچار کیا تھا۔ اسی سیزن میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ لاہور اور کراچی کے 2 میچوں میں سکندر بخت 3 وکٹیں حاصل کرسکے۔ اسی طرح اسی سیزن میں انگلستان کے دورے میں بھی وہ صرف ایک وکٹ ہی تھام سکے۔ آسٹریلیا کے خلاف حیدر آباد کے میچ میں 24/1 اور اپنے آخری ون ڈے میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈونیڈن کے میچ میں 43/1 کے ساتھ انہوں نے اپنا ایک روزہ کیریئر اختتام پذیر کیا۔

اعداد و شمار[ترمیم]

سکندر بخت نے 25 ٹیسٹ میچوں کی 35 اننگز میں 12 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 146 رنز سکور کئے۔ 6.34 کی اوسط سے ہونے والے سکور میں 22 ناقابل شکست رنز ان کی کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ انہوں نے 27 ایک روزہ مقابلوں کی 11 اننگ میں 7 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر محض 31 رنز بنائے۔ 16 ناٹ آئوٹ ان کی کسی ایک اننگ کا سکور اور 7.75 فی اننگ اوسط تھی۔ سکندر بخت نے 186 میچوں کی 202 اننگز میں 65 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 1944 رنز بنائے۔ 14.18 کی اوسط سے بننے والے ان رنزوں میں 67 ان کی کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ سکندر بخت نے ٹیسٹ میچوں میں 7' ایک روزہ مقابلوں میں 4 اور فرسٹ کلاس میچوں میں 82 کیچز پکڑے۔ سکندر بخت نے 26 ٹیسٹوں میں 2412 رنز دے کر 67 وکٹیں اپنے نام کیں۔ 69/8 ان کی کسی اننگ میں بہترین بولنگ اور 11/190 کسی ایک ٹیسٹ میں بہترین بولنگ کا ریکارڈ تھا جو انہوں نے 36.00 کی اوسط سے اپنے نام کیا جبکہ ایک روزہ مقابلوں میں 860 رنز دے کر 33 وکٹوں کے مالک بنے۔ 4/34 ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ فرسٹ کلاس میچوں میں انہوں نے 14167 رنز دے کر 553 وکٹ حاصل کئے۔ 69/8 ان کی بہترین کارکردگی تھی جس سے انہیں 25.61 کی اوسط حاصل ہوئی۔ 29 مرتبہ کسی ایک اننگ میں 5 اور 3 دفعہ کسی ایک اننگ میں 10 وکٹ ان کے کھاتے میں دیکھے جاسکتے ہیں[3]

حوالہ جات[ترمیم]