سیف الدین ایبک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیف الدین ایبک
Islamic Sultanates. Bengal. Malik Saif al-Din Aibak. AH 627-631 AD 1230-1233. Lakhnauti mudafat mint. Struck in the names Delhi sultan Shams al-Din Iltutmush and Abbasid caliph al-Mustansir, dated AH 628 (AD 1230-1).jpg
 

معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1236  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سیف الدین ایبک (انگریزی: Saifuddin Aibak) بنگالی زبان: মালিক সাইফুদ্দীন আইবক مملوک سلطنت کے ماتحت 1232ء تا 1236ء بنگال کے گوڑ کے بادشاہ رہے۔ وہ خاندان غلاماں کے پہلے فرد تھے جنہوں نے بنگال پر حکومت کی تھی۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

سیف الدین ایبک ترک فارسی خاندان کے کھیتان نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں التتمش نے چشت قبا کے اختیار الدین سے خرید لیا تھا۔ اپنی محنت اور لگن کی وجہ سے ایبک بلند مرتبہ حاصل کرتے گئے۔ یہاں تک کہ انہیں امیر مجلس کا خطاب مل گیا۔1227ء میں انہیں 28 ولایتوں کا اقطاع دیا گیا۔[2] بعد ازاں انہوں نے بہار میں سکونت اختیار کی۔ انہیں بہار کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ بعد میں علاءالدین جانی کو برطرف کر کے سلطان نے ایبک کو بنگال کا گورنر مقرر کیا۔ انہوں نے تقریباً 3 برس تک بنگال پر حکومت کی۔ مگر ان کی حکومت کچھ زیادہ جاہ و جلال والی نہ رہی۔ البتہ اپنی حکومت کے دوران میں ایبک نے جنوبی بنگال پر قبضہ کیا۔ انہوں نے جنوبی بنگال پر ہاتھیوں کو پکڑنے کے لئے حملہ کیا تھا۔ ان کا حملہ کامیاب رہا اور اسی کے نتیجہ میں انہیں کئی ہاتھی ملے۔ ان میں سے کچھ ہاتھیوں کو انہوں نے سلطان التتمش کو پیش کئے۔ سلطان التتمش نے ان کے تحفے اور کامیابی سے خوش ہو کر انہیں ‘‘یوغانتت‘‘ کے خطاب سے نوازا۔[3][4]

ایبک نے اپنی بیٹی کی شادی ملک قمر الدین کیرن تیمور خاں سے کردی۔[5]

سیف الدین ایبک کی حکومت مستحکم نہ رہ سکی۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ان کے ایک درباری اوار خاں ایبک نے ان سے بغاوت کر دی اور انہیں زہر دے کر قتل کردیا۔ سلطان التتمش نے فوراً اوار خاں کو شکست دی اور طغرل طغان خان کو بنگال کا گورنر مقرر کردیا۔ یہ وہی طغرل خاں ہیں جنہوں نے بہار میں بھی سیف الدین ایبک کے بعد گورنری سنبھالی تھی۔[6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Kumar، Sunil (1994). When Slaves were Nobles: The Shamsi Bandagan in the Early Delhi Sultanate. دہلی یونیورسٹی. 
  2. Minhaj Siraj (1864). ویکی نویس: W. Nassau Lees؛ Maulawi Khadim Hosain؛ Abd al-Hai. Tabaqat-i-Nasiri. کولکاتا. صفحات 238–248. 
  3. ABM Shamsuddin Ahmed (2012). "Malik Saifuddin Aibak". In Islam، Sirajul؛ Miah، Sajahan؛ Khanam، Mahfuza؛ Ahmed، Sabbir. Banglapedia: the National Encyclopedia of Bangladesh (ایڈیشن Online). Dhaka, Bangladesh: Banglapedia Trust, Asiatic Society of Bangladesh. ISBN 984-32-0576-6. OCLC 52727562. اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2022. 
  4. Mandal، Sushila (1963). বাংলাদেশের ইতিহাস: মধ্যযুগ (بزبان بنگالی). Prakash Mandir. 
  5. Shahnawaz، Fazeela (2014). Socio-Cultural Life of the Shamsi Nobles. Anamika Publishers. 
  6. King Lists, Bengal (History Files)