شراب کی تلچھٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پوٹاشیم بائی ٹارٹریٹ
Potassium bitartrate
Potassium bitartrate
نام
دیگر نام
potassium hydrogen tartrate
cream of tartar
potassium acid tartrate
monopotassium tartrate
potassium;(2R,3R)-2,3,4-trihydroxy-4-oxobutanoate
شناختساز
کاس عدد

[868-14-4]

پبکیم 13352
اسمائلس
شناختساز
ChemSpider ID 12783
خـواص
سالماتی_صیغہ

KC4H5O6

مولرکمیت

188.177

ظہور white crystalline powder
کثافت

1.05 g/cm3 (solid)

حل پذیری

پانی میں

0.37 g/100mL (20 °C)
6.1 g/100mL (100 °C)

حل پذیری

soluble in acid, alkali
insoluble in acetic acid, alcohol

Refractive index (nD) 1.511
Except where noted otherwise, data is given for materials in their standard state (at 25 °C (77 °F), 100 kPa)
 N ویری فائی (کیا ہےYesY/N؟)
خانہ معلومات حوالہ جات

’’’شراب کی تلچھٹ ‘‘‘ عربی :دردی الخمراور انگریزی: (Potassium bitartrate - Cream of tartar) (پوٹاشیم بائی ٹارٹریٹ) جسےشراب کا بقیہ اوراس کی کدورت کو کہتے ہیں

مفہوم[ترمیم]

دردی الخمرمائع اشیاء جیسے تیل،شہد اور شراب کی تہہ میں جو تلچھٹ رہ جاتی ہے اسے دردی کہتے ہیں، اسے روبہ یعنی خمیرہ بھی کہا جاتا ہے جو شیرہ پر شراب بنانے کی غرض سے ڈالا جاتا ہے۔اس پر اتفاق ہے کہ عام شرابوں کی طرح یہ بھی حرام اور نجس ہے۔اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز وحرام ہے۔

فقہ حنفی اور دوسری فقہ[ترمیم]

حنفیہ کے علاوہ دیگر مسالک میں اس کا ایک قطرہ پینا بھی حد کا موجب ہے،البتہ احناف کے نزدیک ا گر نشے سے کم مقدار میں شراب کی تلچھٹ( دردی خمر )استعمال کرلیا جائے تو حد واجب نہیں ہوگی کیونکہ یہ شراب کی تلچھٹ اور کدورت ہوتی ہے اور اس طرح رغبت اور شوق سے نہیں پی جاتی جس طرح دیگر حرام شرابیں پی جاتی ہیں، عادی شرابی بھی اسے ناپسند کرتے ہیں ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خمریت کا وصف اس میں ناقص ہے، اس نقص کی وجہ سے اس کے پینے والے پر حد واجب نہیں ،مگر چونکہ یہ حرام اور نجس ہے اس لیے اس کا پینا اور استعمال میں لانا جائز نہیں اور جس پروڈکٹ میں دردی خمر شامل ہو اس کا استعمال بھی جائز نہ ہوگا۔

موجودہ حکم[ترمیم]

جس میں خمر اور غیر خمر کے اجزاء مخلوط ہوتے ہیں ،آج کل فلٹریشن کے عمل کی وجہ سے خمر کے اجزاء جدا اورالگ کرلیےجاتے ہیں اور پھر مختلف مصنوعات میں خاص طور پر ذائقہ بڑھانے کی غرض سے اس کی آمیزش کی جاتی ہے۔تقطیر یعنی فلٹریشن کے عمل کی وجہ سے دردی خمر کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی بلکہ مزید شدت پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ استخلاص سے پہلے وہ خمر اور غیر خمر کا مجموعہ تھا اور استخلاص کے بعد خالص خمر کے ذرات رہ گئے،جس کا نجس اور حرام ہونا اور اس سے انتفاع کا ناجائز ہونا غیر اختلافی ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الدر المختار شرح تنوير الابصار فی فقہ مذہب الامام ابی حنيفہ -جلد 6 /صفحہ 457