شندور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شندور
Shandur Lake
مقامغذر، گلگت بلتستان,
متناسقات35°59′44″N 72°36′42″E / 35.9956029°N 72.6116242°E / 35.9956029; 72.6116242متناسقات: 35°59′44″N 72°36′42″E / 35.9956029°N 72.6116242°E / 35.9956029; 72.6116242
قسمکھڑے پانی کی جھیل, زخیرہ
بنیادی داخلی بہاودریائے غذر/ دریائے سندھ
طاس ممالکGilgit Baltistan
زیادہ سے زیادہ لمبائی2 کلومیٹر (6,600 فٹ)
زیادہ سے زیادہ چوڑائی0.754 کلومیٹر (2,470 فٹ)
سطحی رقبہ98 acre (40 ha)
زیادہ سے زیادہ گہرائی80 فٹ (24 میٹر)
منجمدNovember to April
آبادیاںوادی گولاغمولی

شندور دنیا کا بلند ترین پولوگراؤنڈ کے طور پر مشہور ہے جہاں پر ہر سال گلگت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کے درمیان پولو کا مقابلہ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح جولائی کو شندور کا رخ کرتے ہیں۔ شندور میں دو بڑی جھیلیں بھی ہیں۔ ایک جھیل ماحوران پال پولوگراؤنڈ کے پاس واقع ہے اور دوسری جھیل مشہور زمانہ مس جنالی کے پاس واقع ہے۔

شندور گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے بالکل درمیان واقع ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اختلاف اور جھگڑوں کے علاؤہ سیاسی اداکاروں کا بھی ایک محور رہا ہے۔

حدود اربعہ[ترمیم]

ضلع غذر کے نقشے پر شندور مغرب کی سمت اور چترال کے نقشے پر مشرق کی سمت میں واقع ہے۔ طبعی لحاظ سے شندور پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ غوݯھار کہلاتا ہے۔دوسرا حصہ زنگیان شال کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔  تیسرا حصہ جھیل کے اطراف کا میدانی علاقہ ہے جو جسے پنجی لشٹ کہتے ہیں چوتھا حصہ مڑان شال کہلاتا ہے جو جھیل کے مشرق میں ہے۔ پانچواں حصہ اشپیر زوم کہلاتا ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

شندور کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے کافی آرا پائے جاتے ہیں۔ یہاں کے مقامی بزرگوں کے بقول شندور کو زمانہ قدیم میں شاہانن دور کہا جاتا تھا جس کا مطلب ہے بادشاہوں کا گھر۔ چونکہ مقامی حاکم، مہتر اور راجاگان یہاں آکر پڑاؤ ڈالتے تھے اور پولو بھی کھیلا کرتے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق شندور کو پرانے زمانے میں شاوانانن دور سے بھی جانا جاتا تھا۔ کھوار زبان میں شاوانانن دور پریوں کے مسکن یا پریوں کے گھر کو کہا جاتا ہے۔

پولو کا آغاز[ترمیم]

شندور میں زمانہ قدیم سے پولو کھیلنے کا رواج رہا ہے۔ غذر اور چترال کے مقامی لوگ جب گرمیوں میں اپنے مال مویشی لیکر شندور آتے تو ساتھ کسی کھلے میدان میں پولو بھی کھیلتے تھے۔ رسمی طور پر شندور میں پولو کا آغاز اس وقت ہوا جب گلگت بلتستان کے انگریزی پولیٹیکل ایجنٹ لفٹننٹ کرنل ایویلین ہے کاب (جسے مقامی لوگ کاب صاب کہتے ہیں) نے شندور پر ایک مہا پولوگراؤنڈ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ پولوگراؤنڈ کی تعمیر کا یہ حکم کوہ غذر کے چارویلو اعلیٰ نیت قبول حیات کاکاخیل کو ملا تھا[1][2][3] جنہوں نے اپنے حدود میں رہنے والے لوگوں کو کثیر تعداد میں جمع کیا اور یوں پولوگراؤنڈ کی تعمیر کا کام چند دنوں سے ایک مہینے کے قلیل عرصے میں مکمل ہوا۔ اس پولوگراؤنڈ کو۔مس جنالی کا نام دیا گیا[1]۔ کرنل کاب اس کام سے متاثر ہوئے اور کسی انعام کی پیش کش کی جسے چاوریلو نیت قبول حیات کاکاخیل نے مسترد کر دیا۔ مگر کاب کی زد کی وجہ سے چارویلو نیت قبول حیات نے انعام کو اجتماعی مفاد میں لینے لیے مطالبہ کیا کہ انگلستان سے ٹھنڈے پانی کی مچھلی ٹراؤٹ وافر مقدار میں لاکر دریائے غذر اور متصل جھیلوں میں ڈال دیا جائے[4]۔ یہ مطالبہ پورا ہوا اور یوں اس نسل کی مچھلی نے نقل مکانی کرکے ضلع غذر کی بیشتر جگہوں تک پہنچ گئی۔ اور یوں سیاحوں کے لئے بھی پولو میچ دیکھنے کے لئے ایک بڑے گراونڈ کے علاؤہ کھانے کے لئے مچھلی کی ایک بہترین نسل بھی پیدا ہوگئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://www.express.pk/story/893306
  2. https://urdu.arynews.tv/up-coming-shandoor-polo-festival-2019/
  3. https://alifkitab.com/2021/07/27/%D8%A8%D9%84%D8%AA%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%84%D9%88%DA%A9-%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%D8%A7%D8%B3-%D8%AC%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%8C/2/
  4. https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2017-08-02/19204