مندرجات کا رخ کریں

صالح فوزان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
صالح فوزان
(عربی میں: صالح الفوزان ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: صالح بن فوزان بن عبد الله آل شماس الودعاني الدوسري ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش سنہ 1935ء (عمر 89–90 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سعودی عرب   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
مفتی اعظم سعودی عرب [1] (4  )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
22 اکتوبر 2025 
عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ  
 
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ (–1961)  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ڈاکٹریٹ   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ عبد العزیز ابن باز [1]،  عبد الله بن حميد [1]،  محمد امین شنقیطی [1]  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص عامر بہجت   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان ،  فقیہ ،  استاد جامعہ ،  مفتی ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک سلفی   ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صالح بن فوزان الفوزان (پ۔ 1354ھ / 1935ء) سعودی عالمِ دین، فقیہ اور استاذ ہیں۔ وہ اس وقت مملکتِ سعودی عرب کے مفتیِ اعظم، سینئر علما کونسل کے سربراہ اور مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیقات و افتاء کے صدرِ اعلیٰ ہیں، جنھیں یہ منصب 22 اکتوبر 2025ء کو تفویض ہوا۔ رابطہ عالم اسلامی کے ماتحت مکہ مکرمہ کے فقہی مجمع کے رکن ہیں، نیز کمیٹی برائے حج میں مبلغین کی نگرانی کے بھی رکن ہیں۔ صالح فوزان جامع الامیر متعب بن عبد العزیز آل سعود (ریاض) میں امام، خطیب اور مدرس کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ریڈیو پروگرام ’نور علىٰ الدرب‘ میں شرکا کے فقہی سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالات، علمی مضامین، فتاویٰ اور تصانیف مختلف علمی مجلات میں شائع ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی کو جمع کر کے مستقل طور پر شائع کیا گیا ہے۔ فوزان اپنی کٹر قدامت پسندی کے لیے تنقید کا نشانہ بھی بنائے جاتے رہے ہیں۔

تنقید

[ترمیم]

صالح الفوزان پر مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے ان کے متعدد فتاویٰ کے سبب تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ مثلاً 2017ء میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک بار جب فوزان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا سنی مسلمانوں کو شیعہ مسلمانوں کو اپنے ”بھائی“ سمجھنا چاہیے، تو الفوزان نے جواباً کہا تھا: ”وہ شیطان کے بھائی ہیں۔“ اس کے بعد ہیومن رائٹس واچ نے ایک مختلف موقع پر فوزان کے ایک علاحدہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے یہ مبینہ الفاظ بھی رپورٹ کیے تھے کہ شیعہ ”خدا اور اس کے (آخری) نبی کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اس حوالے سے کوئی شبہ موجود نہیں۔“ دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوم فوزان کے اس موقف سے پر انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔ اس کے علاوہ نئے فوزان سے منسوب اور 2016ء میں دیا گیا ایک فتویٰ یہ بھی تھا کہ موبائل فون پر کھیلی جانے والی مشہور گیم ”پوکے مون گو“ بھی جوئے ہی کی ایک شکل ہے حالانکہ موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کی رہنمائی میں سعودی عرب اب Nintendo نامی کمپنی اور اس کے گیمنگ ڈویژن Niantic کے اچھے خاصے ملکیتی حقوق کا مالک بھی ہے، جو ’پوکے مون گو‘ نامی گیم کے تیار کنندہ ادارے ہیں۔[4]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ تاریخ اشاعت: 4 ستمبر 2023 — صالح بن فوزان الفوزان — اخذ شدہ بتاریخ: 1 نومبر 2025
  2. موقع الشيخ صالح الفوزان | موقع معالي الشيخ صالح الفوزان — سے آرکائیو اصل
  3. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb13621352b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. مقبول ملک (23 اکتوبر 2025)۔ "نوے سالہ کٹر قدامت پسند الفوزان سعودی عرب کے نئے مفتی اعظم"۔ ڈوئچے ویلے اردو۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-26

بیرونی روابط

[ترمیم]

حالات زندگی

[ترمیم]