عبادی سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عبادی سلطنت، ہسپانیہ کی ایک عرب سلطنت تھی۔ جس نے ۱۰۲۳ء سے لے کر ۱۰۹۱ء تک اشبلیہ پر حکومت کی۔ جب خلافتِ قرطبہ میں انتشار اور کمزوری پیدا ہوئی تو اشبلیہ کے گورنر ابوالقاسم نے اپنی خود مختاری کا اعلان کرکے عبادی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ۱۰۴۴ء میں اس کا بیٹا ابو عمر عباد، معتصد کے لقب سے تخت نشین ہوا۔ جس نے ۴۴۵ھ میں قرطبہ پر قبضہ کرکے ایک مضبوط حکومت قائم کی۔

۴۶۱ھ/۱۰۴۹ء میں اس کی وفات کے بعد عباد سوم، معتمد کے لقب سے تخت نشین ہوا۔ وہ شاعری اور آرٹ و فن کا بڑا دلدادہ تھا، لیکن ایک کمزور حکمران تھا۔[1] جب الفانسو ششم نے اس پر حملہ کیا تو اس نے مراکش کے حاکم یوسف بن تاشفین سے امدام طلب کی۔ جس نے آکر الفانسو کو ذلاقہ کے مقام پر شکست دی (اس لڑائی کو تاریخ میں جنگ ذلاقہ کے نام سے جانا جاتا ہے) اور واپس چلا گیا، لیکن جب معتمد کی بداطواریا حد سے بڑھ گئیں تو یوسف نے اس کو پکڑ کر مراکش کے ایک شہر میں قید کردیا۔ جہاں چار سال کے بعد وہ فوت ہوگیا اور اڑسٹھہ سال حکومت کرنے کے معد ہسپانیہ سے عبادی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔

بنو عباد کے حکمران[ترمیم]

نمبر شمار حاکم عہد حکومت
۱ ابو القاسم محمد بن عباد ۱۰۲۳ء - ۱۰۴۲ء
۲ ابو عمر معتمد ۱۰۴۲ء - ۱۰۶۹ء
۳ معتمد بن عباد ۱۰۶۹ء - ۱۰۹۱ء

حوالہ[ترمیم]

  1. ^ بعض تاریخی کتابیں، جیسے خلافتِ اندلس، مصنف: نواب ذولقدر جنگ، میں اسے ایک بہت عقلمند اور طاقتور حمران اقرار دیا گیا ہے، جو صرف اس کتاب میں ہی نہیں بلکہ دوسری اور تاریخی کتابوں میں بھی لکھا ہے اور یہ بلکل ٹھیک بھی ہے۔