عبد الماجد دریا آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبدالماجد دریا بادی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
مَولانا عبد الماجد دریا آبادی
اسلامیات
مَولانا عبد الماجد دریا آبادی
Maulana Abdul Majid Daryabadi Urdu Library, Begumganj, Barabanki - August 2013.JPG
مولانا عبد الماجد دریا آبادی اردو لائبریری، بیگم گنج، بارہ بنکی
پیدائش 16 مارچ 1892(1892-03-16)دریا آباد، ضلع بارہ بنکی
وفات 6 جنوری 1977(1977-10-06) (عمر  84 سال)ضلع بارہ بنکی، بھارت
قومیت بھارتی
پیشہ اکیڈیمی
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
شعبۂ عمل ترجمہ قرآن، تعلیم

عبد الماجد دریابادی 16 مارچ 1892 کو دریا آباد، ضلع بارہ بنکی، بھارت میں ایک قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں جزائر انڈومان میں بطور سزا کے بھیج دیا گیاتھا۔ آپ ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔ آپ بہت سے تنظیموں سے منسلک رہے۔ اِن میں تحریک خلافت، رائل ایشیاٹک سوسائٹی،لندن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ندوۃ العلماء، لکھنؤ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ کے علاوہ اور بہت سی اسلامی اور ادبی انجمنوں کے رکن تھے۔ عبد الماجد دریابادی نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر مسیحیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنتے رکھتے ہوئے لکھی ہے، مزید ان تفاسیر میں مسیحیت کے اعتراضات رد کرتے ہوئے بائبل اور دوسرے مغربی مستشرقین کی کتابوں سے دلائل دیے ہیں۔ آپ نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ آپ نے تفسیر ماجدی میں سورۃ یوسف کے آخر میں لکھا ہے کہ اٹھاونویں پشت پر جا کر آپ کا شجرہ نسب لاوی بن یعقوب سے جا ملتا ہے۔

شبلی نعمانی سے ملاقات[ترمیم]

انہوں نے شبلی نعمانی سے ملاقات کے بعد اُن کی سیرت النبی کی تصنیف میں اُن کے ساتھ کام کیا۔

احباب[ترمیم]

اُن کے مولانا ابو الکلام آزاد، سید سلیمان ندوی، محمد علی جوہر، اکبر الہ بادی اور دوسرے بہت سے عظیم مصنیفین کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔

کتابیں[ترمیم]

انہوں نے قرآن، سیرت، سفر ناموں، فلسفہ اور نفسیات پر 50 سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات، بہت سے ادبی اور تنقیدی مضامین بھی لکھے۔ انہوں نے ریڈیو گفتگو کی میزبانی بھی کی اور بہت سی کتابوں کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ ان کی کتابوں کی کچھ تفصیل ذیل میں ہے۔

  1. فلسفہ اجتماع یعنی جماعت کی دماغی زندگی کی تمثیل و تشریح
  2. فلسفہ جذبات
  3. فی ما فی ملفوظات محمد جلال الدین رومی و تبصرہ
  4. مردوں کی سیمائی (Mardaun Ki Seemaee)
  5. مضامین عبد الماجد دریابادی
  6. محمد علی کی ذاتی ڈائری
  7. تفسیر قرآن، تفسیر ماجدی، جلد 1، 2، 3 (چوتھی جلد بھی آچکی ہے، لیکن مولانا کے قلم سے نہیں ہے۔)
  8. وفیات ماجدی یا ناشری مرثیائی
  9. تفسیر القرآن، انگریزی
  10. بشریت انبیا علیہ السلام
  11. حکیم الامت
  12. آپ بیتی

بعد از مرگ[ترمیم]

عبد القوى دسنوى نے دریابادی پر لکھنؤ میں ایک اردو جریدے نیا دور میں ایک خصوصی نمبر شائع کیا۔ انہوں نے دریا بادی پر ایک خصوصی تبصرہ بھی معاصرین میں کیا جو ساحر بمبے والیوم 51 نمبر 7 سن 1980 میں شائع ہوا۔[1]

سنہ 2008ء میں مدراس یونیورسٹی کے ”شعبہ عربی، فارسی و اردو“ کے ایک محقق محمد شمس عالم نے دریابادی پر ”مولانا عبد الماجد دریابادی کی علمی و ادبی خدمت“ نامی ریسرچ پیپر لکھا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Abdul Qavi Desnavi Biography"۔ Bihar Urdu Youth Forum, Bihar۔ اصل سے جمع شدہ 16 اپریل 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 مارچ 2013۔ 
  2. "University of Madras: Department of Arabic, Persian and Urdu: Research Scholars"۔ University of Madras۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 مارچ 2013۔