عبد الماجد دریابادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبدالماجد دریا بادی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مولانا عبد الماجد دریاآبادی اردو لائبریری، بیگم گنج، بارہ بنکی

عبد الماجد دریابادی 16 مارچ 1892 کو دریاباد،ضلع بارہ بنکی، بھارت میں ایک قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں جزائر انڈومان میں بطور سزا کے بھیج دیا گیاتھا۔ آپ ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔ آپ بہت سے تنظیموں سے منسلک رہے۔ اِن میں تحریک خلافت، رائل ایشیاٹک سوسائٹی،لندن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ندوۃ العلماء، لکھنؤ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ کے علاوہ اور بہت سی اسلامی اور ادبی انجمنوں کے رکن تھے۔ عبد الماجد دریابادی نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر مسیحیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنتے رکھتے ہوئے لکھی ہے، مزید ان تفاسیر میں مسیحیت کے اعتراضات رد کرتے ہوئے بائبل اور دوسرے مغربی مستشرقین کی کتابوں سے دلائل دیے ہیں۔ آپ نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ آپ نے تفسیر ماجدی میں سورۃ یوسف کے آخر میں لکھا ہے کہ اٹھاونویں پشت پر جا کر آپ کا شجرہ نسب لاوی بن یعقوب سے جا ملتا ہے۔

کتابیں[ترمیم]

  1. فلسفہ اجتماع یعنی جماعت کی دماغی زندگی کی تمثیل و تشریح
  2. فلسفہ جذبات
  3. فی ما فی ملفوظات محمد جلال الدین رومی و تبصرہ
  4. مردوں کی سیمائی (Mardaun Ki Seemaee)
  5. مضامین عبد الماجد دریابادی
  6. محمد علی کی ذاتی ڈائری
  7. تفسیر قرآن، تفسیر ماجدی، جلد 1، 2، 3 (چوتھی جلد بھی آچکی ہے، لیکن مولانا کے قلم سے نہیں ہے۔)
  8. وفیات ماجدی یا ناشری مرثیائی
  9. تفسیر القرآن، انگریزی
  10. بشریت انبیا علیہ السلام
  11. حکیم الامت
  12. آپ بیتی