عبد الرحمن شیخ ثالث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الرحمن شیخ ثالث
معلومات شخصیت

شیخ المشائخ عبد الرحمن بھر چونڈی شریف کے تیسرے سجادہ نشین اور مجاہد اعظم ہیں۔

ولادت[ترمیم]

شیخ ثالث عبد الرحمن1310ء بمطابق 1891ء میں آپ کی ولادت حافظ محمد عبد اللہ (المتوفیٰ 1310ھ 1892ء)کے ہاں بھرچونڈی ڈھرکی صوبہ سندھ میں ہوئی۔ ان کی ولادت کی خوشخبری نبی کریم ﷺ نے شیخ ثانی کو پیدائش سے پہلے دی گئی۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

سن تمیز پر مکتب میں بٹھائے گئے قرآن مجید ناظرہ پڑھا سراج العلماءمفتی سراج احمد خان بیلوی ثم خانپوری کو ان کی تعلیم پر مقرر کیا گیا نحو اور فقہ حنفی کی کتابیں ان سے پڑھیں اس کے بعد مولانا عبد الکریم ساکن میانوالی پنجاب سے تعلیم مکمل کی جو سیرو سیاحت کے لیے بھرچونڈی آئے تھے پھر تعلیم و تعلم اور سلوک و تصوف کا ایسا سلسلہ چل نکلا کہ 40 سال تک یہیں رہے۔

القاب[ترمیم]

مجاہد ملت، ناصر تحریک پاکستان،شیخ ثالث،

مسند نشینی[ترمیم]

اپنے پیر و مرشد اور والد کی وفات کے بعد تیسرے دن 28 رجب 1346ھ کو حسب دستور خانقاہی قل خوانی کے موقع پر دستار بندی ہوئی مولوی احمد صاحب سجادہ نشین خانگڑھ شریف نے دستار بندی کی۔ ان کی سجاد نشینی کے دوران میں خانقاہ پھرچونڈی نے نمایا ں کام کیے جو تاریخ کا روشن باب ہیں۔

شریعت کی پابندی[ترمیم]

نماز باجماعت کے اتنے پابند کہ شاید زندگی بھر اکیلے نماز پڑھی ہو بیماری کی حالت میں جب چلنے پھرنے کی طاقت نہ ہوتی تو چارپائی کو اٹھوا کر جماعت میں شرکت فرماتے عموما خود نماز پڑھاتے یہ مقررہ امام کو اشارہ کرتے پوری زندگی میں نماز قضا نہ ہوئی۔ ازان کے دوران میں گفتگو کو ناپسند کرتے حکم یہ تھا کہ سونے والا اٹھ بیٹھے چلنے والا رک جائے ننگے سر والا سر کو ڈھانپ لے کھانا کھانے والا کھانے سے رک جائے اور ازان کا جواب دے اذان میں بے رخی کو ندائے خداوندی کی تحقیر سمجھتے تھے۔ تقبیل ابہامین کو مستحسن خیال کرتے، نہایت سادہ لباس پسند کرتے ،ظاہری کروفر سے کوئی سروکار نہ رکھتے۔ ان کے ہر کام میں للہیت جلوہ گر ہوتی۔[حوالہ درکار]

محبت رسول[ترمیم]

محمد ﷺ سے عشق کی حد تک محبت تھی جب اپنے نبی کا ذکر سنتے آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آتا، ربیع الاول کا پورا مہینہ عید میلاد النبی مناتے جماعت کے لیے بہترین کھانا پکواتے اور تمام مہمانوں کے ہاتھ خود دھلواتے وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔[حوالہ درکار]

انجمن احیاء الاسلام[ترمیم]

آپ اپنے دور کے سیاسی حالات سے خوب آگاہ تھے جب آپ نے دیکھا کہ سیاسی لوگ صرف ووٹ لینے کے لیے لمبے چوڑے وعدے کرتے ہیں لیکں عملی کام نہیں کرتے تو آپ نے صوبہ سندھ میں انجمن احیاء الاسلام قائم کی جس کا مقصد شرعی قوانین کا نفاذ،چوری، ڈکیتی اور غیر شرعی امور کا انسداد،اور ملک و ملت کے خیر خواہ اراکین کو کامیاب کرانا تھا ۔

دینی علوم کی نشرو اشاعت[ترمیم]

امام احمد رضا خان کا مشہور فتاویٰ ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ‘‘جو بڑے سائز کی دس جلدوں پر مشتمل تھا اس کی ہر جلد ہزار صفحات سے زیادہ ہے شیخ ثالث کے مالی تعاون سے پہلی بار لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے شائع کیا ۔ دینی کتابوں کی فراہمی قلمی کتابوں کی بڑے بڑے کتب خانوں سے نقلیں تیار کرائیں انہیں محفوظ کرا کر محفوظ رکھتے تھے۔ جو ان کی علم دوستی کی پہچان ہے۔

وفات[ترمیم]

9 جمادی الاول 1380ھ بمطابق 30 اکتوبر 1960ء بروز اتوار وفات ہوئی اپنے والد کے پہلو میں دفن ہیں۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عباد الرحمن، سید مغفور القادری، حافظ الملت اکیڈمی بھرچونڈی شریف سندھ
  2. تذکرہ اکابرِاہلسنت ،صفحہ 218،محمد عبد الحکیم شرف قادری ،نوری کتب خانہ لاہور