سراج احمد خانپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سراج الفقہا مولانا سراج احمد خانپوریاستاذ العلماء والمشائخ ہیں علم میراث میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

نام سراج احمد۔ لقب:سراج الفقہا۔ والد کا نام مولانا احمدیار بن مولانا محمد عالم۔ ان کے نانا مولانا امام بخش بھی ممتاز عالم دین تھے۔

ولادت[ترمیم]

سراج الفقہا کی ولادت بروز بدھ، 14 ذوالحجہ 1303ھ، بمطابق 4 اگست 1886ء کو قصبہ " مکھن بیلہ" اسٹیشن ججہ عباسیاں مضافات خانپور ضلع رحیم یار خان میں ہوئی۔

حصول علم[ترمیم]

سراج احمد خانپوری کے والد اور جد امجد اپنے علاقہ کے مشہورعالمِ دین مدرس اور مفتی تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی، پھر چاچڑاں شریف کے مشہور مدرسہ جامعہ فرید یہ میں مولانا تاج محمود اور مولاناغلام رسول سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی، فنون کی بعض انتہائی کتب اور حدیث شریف کا درس قصبہ "مہند" ضلع بہاولپور میں مولانا امام بخش سے لیا اور 1317ھ میں تحصیل علوم سے فارغ ہوئے ۔

بیعت وخلافت[ترمیم]

دس سال کی عمر میں خواجہ غلام فرید (کوٹ مٹھن شریف ) کے دست پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئے اور فیوض و برکات سے مستفید ہوئے۔

سیرت و خصائل[ترمیم]

سراج الفقہا نے نو جوانی کے عالمَ میں تدریس کی ابتدا کی پہلے ایک عرصہ تک قصبہ ڈیرہ گبولاں (ٗضلع رحیم یار خاں ) میں اور پھر اپنے گاؤں مکھن بیلہ میں تشنگان علوم کو سیراب کیا، بعد ازاں چا چڑاں شریف کے سجادہ نشین بھر چونڈی شریف خواجہ فیض فرید کی تعلیم و تربیت آپ کے سپرد ہوئی جسے آپ نے بطریق احسن انجام دیا۔ کچھ عرصہ دربار قادریہ بھر چونڈی شریف (ضلع سکھر ) میں مقیم رہے جہاں مجاہد اسلام پیر عبد الرحمن کو پڑھاتے رہے ۔جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں بھی فرائض تدریس انجام دیے، آخر میں [[مدرسہ عربیہ سراج العلوم کی خانپورکی بنیاد رکھی اس مدرسہ کے آپ بانی مبانی تھے آپ کے علاوہ حافظ سراج احمد درانی جو کہ آپ شاگرد تھے بھی بانئ مدرسہ تھے اسی مدرسہ میں آپ]] بحیثیت مدرس اور مفتی عرصۂ درازتک کام کیا، آپنے تقریباً ستر سال علوم ِدینیہ کا درس دیا واوربے شمار مشتاقان علم کو فیضیاب کیا۔ آپ کے تلامذہ کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ جن میں سے ایک نام فیضِ ملت مولانا ابوصالح فیض احمد اویسی کا بھی ہے۔ سراج الفقہا ء نے تدریس کے علاوہ ایک طویل عرصہ تک منصب افتاء کو بطریق احسن انجام دیا۔ آپ کے فتاویٰ آپ کے تبحر علمی کے شاہد وعادل ہیں، آپ کو علوم فقہیہ خاص طور پر علم میراث پر زبردست عبور حاصل تھا ۔

سراج الفقہا کا لقب[ترمیم]

غزالی ٔ زماں سید احمد سعید کاظمی آپ کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، مولانا سراج احمد خانپوری کو" سراج الفقہا" کا لقب انہی نے دیا تھا جو آپ کی علمی ثقاہت کی بنا پر نہایت ہی مناسب ہے ۔

تصانیف[ترمیم]

  • الزبدۃ السراجیہ فی علم المیقات والمیراث والوصیہ
  • سراج الفتاویٰ

وفات[ترمیم]

مولانا سراج احمد 5 ذوالقعدہ 1392ھ، بمطابق 12 دسمبر 1972ء بروز منگل وفات پا گئے ۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نور نور چہرے ،محمد عبد الحکیم شرف قادری ،صفحہ 95،مکتبہ قادریہ لاہور
  2. تذکرہ اکابرِ اہلِسنت صفحہ 146،محمد عبد الحکیم شرف قادری، نوری کتب خانہ لاہور