غزالہ علیزادہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غزالہ علیزادہ
Ghazaleh Alizadeh.png 

معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1949  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مشہد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 مئی 1996 (47 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
جواہر دہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات خود کشی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ،  ناول نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل شاعری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

فاطمہ «غزالہ» علیزادہ 1947 ء میں پیداہوئیں۔ ان کا انتقال 12 مئی 1996 ء کو ایران میں ہوا۔وہ ایک ایرانی شاعرہ اور مصنفہ ہیں۔. ان کی ماں بھی شاعرہ اور مصنفہ تھیں.وہ دو مرتبہ رشتہ ازواج میں منسلک ہوئیں اور ان کے شوہر بزن الہیہ سے سلمی نامی ایک بیٹی بھی تھی۔ انھوں نے 1961 کے زلزلے سے بچ جانے والی دو لاوارث  لڑکیوں کو بھی  گود لیا۔[1]

سرگزشت[ترمیم]

وہ اسکول کے دنوں میں ایک ذہین اور لائق طالب علم تھیں۔انھوں نےڈپلوما مہستی ہائی اسکول سے انسانی حقوق میں حاصل کیا اور انھی دنوں وہ سبزی خور بن گئیں۔. انھوں نےبی اے کی تعلیم سیاسی سائنس میں تہران یونیورسٹی سے حاصل کی، پھر سورنون یونیورسٹی میں فلسفہ اور سنیما کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے فرانس چلی گئی۔. وہ ابتدائی طور پر قانون میں پی ایچ ڈی کی کرنے کے لیے پیرس گئی، لیکن بعد میں مولویت پرمقالہ لکھنے لگی جسے اپنے والد کی اچانک موت کی وجہ سےچھوڑنا پڑا۔.

انھوں نے اپنے ادبی کیریئر کا آغاز مختصر کہانیاں لکھ کر شروع کیا۔. اان کے بڑے  ناول کا نام "خانه ادریسیها" ("ادریسس ہاؤس" ) ہے. ان کی مختصر کہانیوں میں "کراس روڑ"، "آفٹر سمر،" اور "ان ٹرانسیٹری جرنی" اور اس کے دیگر ناولوں میں د"ٹو لینڈ اسکیپ" اور" تہران نائٹ" شامل ہیں. ان کے کچھ کام کا انگریزی ترجمہ "رزا جمالی" نے کیا ہے۔ غزالہ علیزادہ نے سب سے پہلے بیژن الہی سے شادی کی ، پھر وہ اس سے الگ ہوگئیں اور 1983 میں محمد رضا نصر شهیدی سے شادی کی۔

جن دنوں وہ کینسر کے مرض سے نبرد آزما تھیں اس وقت دل برداشتہ ہوکر دو دفعہ خودکشی کی  کوشش کی ۔بالا آخر انھوں ایک درخت سے پھندا لگا کر مئی 1996 میں خود کشی کر لی۔ ایک دستاویزی فلم، "غزالہ علیزادہ آزمائش" ان کی زندگی کے بارے میں تیار کی گئی ہے[2]۔

کتب[ترمیم]

ناول[ترمیم]

دو خیالات

ادریسس ہاؤس (دو جلد)

تہران کی راتیں

کہانیاں[ترمیم]

"موسم گرما کے بعد"

"ناقابل یقین سفر"

دیگر[ترمیم]

ہال

ہاؤس کا خواب اور ڈراؤنا خواب

حوالہ جات[ترمیم]

  1. electricpulp.com۔ "ALIZADEH, Ghazaleh – Encyclopaedia Iranica"۔ www.iranicaonline.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Karim Nikoonazar۔ Heaven can wait۔ Kargozaran newspaper۔ صفحہ 5۔