قاضی محمد نور قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قاضی محمد نور قاری
معلومات شخصیت
پیدائشی نام محمد نور
پیدائش 8 مارچ 1890(1890-03-08)
اوڈھروال، پنجاب، پاکستان
وفات 0 جنوری 1915(1915-01-00)
چکوڑہ، پنجاب، پاکستان
قومیت ہندوستان
عملی زندگی
صنف عالم دین سوانح نگار
موضوعات عربی
مادر علمی اتر پردیش
پیشہ مصنف، مفتی
کارہائے نمایاں 15 کتب کے مصنف
متاثر اہلسنت
P literature.svg باب ادب

مولانا ابوالفخرقاضی محمد نور قادری چکوال کی اپنے دور میں صاحب تصنیف اور علمی شخصیت تھے۔

ولادت[ترمیم]

ابوالفخر محمد نور رضوی 13 رجب 1307ھ مطابق 5مارچ 1890ء موضع اوڈھروال (ضلع چکوال، پنجاب، پاکستان) کےایک علمی کہوٹ قریشی گھرانے میں ہوئی۔والد کا نام مولانا قاضی عالم نور قریشی اور دادا حافظ محمد سرداراحمد قریشی ہے۔ خاندانی شجرے کے مطابق آپ کا سلسلۂ نسب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے جا ملتاہے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

اپنے والد مولاناقاضی عالم نورصاحب سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے علاقے کے جید علما سے استفادہ کیا۔اترپردیش ہندبھی تشریف لےگئے، شاہجہانپور اور دیگر شہروں میں علمِ دین حاصل کیا، آپ بہت ذہین وفطین تھے۔دیگرعلوم کے ساتھ ساتھ عربی زبان پر کامل دسترس رکھتےتھے اور اپنے زمانے کے علمائے کرام سے عربی زبان میں مراسلت کیا کرتے تھے۔

علمی مقام[ترمیم]

عالِمِ ربّانی عالِمِ باعمل، شاعِر، مُصَنِّف، اُردو اور عربی زبان کے ماہر تھے علمی مقام :آپ عالمِ جلیل، مفتیِ اسلام، صوفی ِباصفا، شاعراورمصنف تھے۔ عربی، اردواورپنجابی میں نظم ونثرمیں کامل دسترس تھی، علمائے اہلسنت سے عربی میں مراسلت بھی فرماتے تھے۔جن علماسے آپ کا رابطہ تھا ان میں سے حضرت قبلہ عالم پیرمہرعلی شاہ گولڑوی حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری، صدرُالافاضل علامہ نعیمُ الدّین مرادآبادیاورحضرت علامہ فیضُ الحسن فیض وغیرہ شامل ہیں۔

بیعت واجازت[ترمیم]

ابتدائی عمر میں سلسلۂ چشتیہ کےشیخ طریقت سیّدصاحب کی صحبت یابیعت کا شرف پایا۔) آپ کو آستانہ عالیہ قادریہ گیلانیہ بغداد شریف کے سجادہ نشین شیخ سیّدعلی قادری گیلانی سے بھی سندِاجازت حاصل تھی۔حرمین طیبین سے واپسی پر بریلی شریف حاضرہوئے اور اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان قادری سے شرفِ تلمذحاصل کرکےاجازت حدیث اورسلسلۂ قادریہ رضویہ میں خلافت سے سرفراز ہوئے۔

تصنیف وتالیف[ترمیم]

قاضی محمد نور نے اپنی زندگی کو علمِ دین کے حصول اوراس کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ نے عربی، اردو اور پنجابی میں نظم ونثرپر مشتمل 15 کتب تصنیف کیں، جن کے نام یہ ہیں:

  • (1) دفع الجہال عن تکرار الجماعة(عربی )
  • (2)دفع الجہال عن تکرار الجماعة (اردو)
  • (3) المباحثۃ المعمدة قضاء السنة قبل الجمعة (اردو)
  • (4) ردّ الشہاب علی المفتری الکذاب (اردو )
  • (5)مجموعہ المورد الروی فی المولا النبی (پنجابی منظوم
  • (6)المراة الحلیہ للحلیة النبویة (پنجابی، منظوم)
  • (7) سلوک اکمل السبیل یا التوجہ الی افضل الرسول (پنجابی، منظوم)
  • (8) احسن النغم فی مدح الغوث الاعظم (پنجابی منظوم)
  • (9) الخزی المزید (اردو، مطبوعہ)
  • (10) التوضیحات لمافی اشعة اللمعات (عربی
  • (11) قول الکلم فی ظہر الجمعة(عربی مسودہ)
  • (12) النیرالوضی فی علم النبی(عربی مسودہ)
  • (13) قہدالاھوتی(عربی مسودہ)
  • (14) ضرب الحدیدعلی راس الرشید (عربی مسودہ)
  • (15)الدود الجلیل لتاویلات الذلیل (عربی مسودہ)

وفات[ترمیم]

قاضی محمد نور قادری کی1333ھ بمطابق جنوری 1915ء میں طاعون سے وفات ہوئی۔ آپ کا مزار پنجاب (پاکستان) کے شہر چکوال سے متصل موضع اوڈھروال کے قبرستان میں ہے، آپ کا یومِ عُرْس 13رجب ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع چکوال، ص 45،47،