قسطا ابن لوقا
| قسطا ابن لوقا | |
|---|---|
| (عربی میں: قسطا ابن لوقا البعلبکي)، (عربی میں: قسطا بن لوقا البعلبكي)[1] | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 820ء [2] بعلبک |
| وفات | سنہ 912ء (91–92 سال) آرمینیا [3] |
| مذہب | مسیحیت [4] |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | طبیب ، ریاضی دان ، مترجم ، مصنف [1]، ماہر فلکیات ، فلسفی [5][1]، مفسر [1] |
| مادری زبان | عربی |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی [6][7] |
| شعبۂ عمل | فلسفہ [8]، طب [8]، مذہب [8]، فلکیات [8]، ریاضی [8] |
| درستی - ترمیم | |
قسطا ابن لوقا، جسے کوسٹا بن لوکا یا کونسٹیبلس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے [9] (820 – 912) ایک شامی میلکائٹ عیسائی طبیب، فلسفی، ماہر فلکیات، ریاضی دان اور مترجم تھے۔ وہ بعلبک میں پیدا ہوئے تھے۔ بازنطینی سلطنت کے کچھ حصوں کا سفر کرتے ہوئے، وہ اپنے ساتھ یونانی تحریریں لائے اور ان کا عربی میں ترجمہ کیا۔[10]
سوانح حیات
[ترمیم]قسطا بن لوقا کا تعلق یونانی نژاد خاندان سے تھا، اسی لیے انھیں یونانی (رومی) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے عربی، یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کی اور انھی زبانوں میں علمی کام انجام دیا۔ ان کی عربی زبان پر گرفت بہت عمدہ تھی اور وہ یونانی میں فصاحت و بلاغت کے حامل تھے۔
انھوں نے متعدد یونانی سائنسی اور فلسفیانہ کتابیں عربی میں منتقل کیں اور خود بھی کئی اہم تصانیف لکھیں جن میں طب، طبیعیات، فلکیات، ریاضیات اور زراعت جیسے موضوعات شامل تھے۔[11]
وفات
[ترمیم]ان کی وفات کے سال میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے: مشہور روایت کے مطابق 300ھ / 912ء میں وفات ہوئی، جبکہ بعض نے 286ھ / 899ء یا 310ھ / 922ء بھی کہا ہے۔[12]
علمی خدمات
[ترمیم]قسطا بن لوقا کا شمار اُن مترجمین میں ہوتا ہے جنھوں نے یونانی علوم کو عربی میں منتقل کر کے اسلامی علمی روایت کو فروغ دیا۔ ابن ندیم نے اپنی کتاب الفہرست میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ "یونانی زبان میں فصیح اور عربی میں نہایت عمدہ بیان رکھنے والے" تھے۔[13]
اُن کی معروف تصانیف
[ترمیم]قسطا بن لوقا کی تصانیف میں سے چند مشہور یہ ہیں: 1. کتاب في رفع الأشياء الثقيلة — (وزنی اجسام کو اٹھانے کے اصول) اس کتاب کی تصحیح بارون كارّه دي فو (Baron Carra de Vaux) نے کی۔ 2. كتاب الفلاحة الرومية — (رومی زراعت) یہ کتاب دراصل ایک قدیم یونانی مؤلف "قسطوس بن اسكورا سكينه" کی تھی، جسے قسطا نے عربی میں ترجمہ کیا۔ ان کی بہت سی دیگر تحریریں طِب، منطق، فلکیات، علمِ نفس اور طبیعی فلسفے پر تھیں اور ان کے اثرات بعد کے مسلم فلاسفہ جیسے الکندی، الرازی اور ابن سینا پر نمایاں نظر آتے ہیں۔[14]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — : اشاعت 15 — جلد: 5 — صفحہ: 196 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
- ↑ ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6086wd0 — بنام: Qusta ibn Luqa — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ عنوان : Les penseurs libres dans l'islam classique — صفحہ: 78
- ↑ https://islamsci.mcgill.ca/RASI/BEA/Qusta_ibn_Luqa_al-Balabakki_BEA.htm
- ↑ این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=osd20201073957 — اخذ شدہ بتاریخ: 19 دسمبر 2022
- ↑ عنوان : Identifiants et Référentiels — ایس یو ڈی او سی اتھارٹیز: https://www.idref.fr/028266706 — اخذ شدہ بتاریخ: 5 مارچ 2020 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=osd20201073957 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مارچ 2022
- ↑ این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=osd20201073957 — اخذ شدہ بتاریخ: 7 نومبر 2022
- ↑ Nancy G. Siraisi, Medicine and the Italian Universities, 1250-1600 (Brill Academic Publishers, 2001), p 134.
- ↑ مجلة العلوم الانسانية والحضارة، Volume 4, Numéro 2, Pages 93-113، 2022-07-05، قسطا بن لوقا الحكيم، ودوره في الحضارة العربية الاسلامية، رابط المقالة آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ asjp.cerist.dz (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ خير الدين الزركلي (أيار 2002 م)۔ الأعلام - ج 5 (الخامسة عشر ایڈیشن)۔ بيروت: دار العلم للملايين۔ ص 197۔ 2019-12-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) - ↑ زهير حميدان۔ "قسطا بن لوقا"۔ الموسوعة العربية۔ هئية الموسوعة العربية سورية- دمشق۔ 2016-04-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ ذو الحجة 1435 هـ
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(معاونت) و|آخری=و|مصنف آخری=پیرامیٹر ایک سے زائد دفعہ استعمال کیا (معاونت) - ↑ ابن النديم (1430 هـ / 2009 م)۔ كتاب الفهرست - المجلد الثاني۔ قابله على أصله أيمن فؤاد سيد - لندن: مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي۔ ص 293۔ ISBN:1905122217۔ 29 مايو 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ يوسف اليان سركيس۔ معجم المطبوعات العربية والمعربة - الجزء الثاني۔ القاهرة: مكتبة الثقافة الدينية۔ ص 1510۔ 28 مايو 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)
- 820ء کی پیدائشیں
- 912ء کی وفیات
- آرمینیا میں موت
- دسویں صدی کے طبیب
- اسلامی قرون وسطی کے ماہرین فلکیات
- قرون وسطی کے سوری ماہرین فلکیات
- قرون وسطی کے اسلام کے طبیب
- لبنانی اطباء
- اسلامی قرون وسطی میں ریاضی دان
- مسیحی اسکالر
- 300ھ کی وفیات
- نویں صدی کے ماہرین فلکیات
- دسویں صدی کے ماہرین فلکیات
- نويں صدی کے ریاضی دان
- دسویں صدی کے ریاضی دان
- قدیم یونانی متون کے مترجمین
- نویں صدی کے مترجمین
- نویں صدی کے عرب مصنفین