لبیک (سفر نامہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اردو میں حج کے سفر ناموں کی روایت کافی قدیم اور بھر پور ہے یہ روایت بھی فارسی کی دین ہے اردو حج ناموں میں ” حاجی محمد منصب علی خان“ کا سفر نامہ ”ماہ مغرب“ 1817ءپہلا حج نامہ تسلیم کیا جاتاہے۔ یہ معلوماتی اور واقعاتی سفرنامہ ہے۔ اس سفر نامے کا اسلوب سیدھا سادھا ہے یعنی اردو کایہ پہلاحج نامہ رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔
برصغیر دیار مقدس سے خاصے فاصلے پر ہے اور انیسویں صدی کے آخر تک سفر کی مناسب سہولتیں بھی میسر نہ تھیں۔ چنانچہ کم زائرین کو یہ سہولتیں اور سعادت نصیب ہوتی تھی۔ اس دور نے آتش شوق کو فروزاں کیے رکھا۔ اور حج کے سفر نامے لکھے گئے تو انہیں وصل کا ایک ذریعہ سمجھ کر پڑھا گیا وہ تمام زائرین جو مقدس مقامات دیکھنے کے بعد لوٹتے ہجر و فراق کی کیفیت سے بھی گزرتے اور اس بیان نے حج کے سفر ناموں کے اسلوب کو گداز بنا دیا۔ اس عہد کے قاری کے لیے حج کے سفر نامے نعمت عظمیٰ سے کم نہ تھے۔ اور پھر ذرائع آمدورفت کی بدولت یہ سفر آسان ہواتو حج کے سفر نامے داخلی کیفیت سے آشنا ہوئے۔ حج کے ابتدائی سفر ناموں میں معلومات اور مناسک کی تفصیل ہوتی تھی۔ موجودہ دور کے حج کے سفر ناموں میں تاثرات کی بہتات ملتی ہے۔ آج زبان و بیان کا قرینہ اور سلیقہ خالق کو اپنی باطنی تجربات تحریری شکل میں لانے میں مدد دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ابتدائی سفر نامے ”کیا ہے“ کی تفصیل تھے جبکہ موجودہ حج ناموں میں ”کیا پایا “ کی تشریح ملتی ہے۔ اس دور کے حج نامے آپ بیتی کے قریب ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے اُ ن کا اندازڈائری جیسا ہے اور مقصد محسوسات، قلب اور تجربات روحانی کا بیا ن کرنا ہے۔
ان حج ناموں میں ذات کی خود نمائی کا احساس نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر جگہ ذات کی نفی کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔ عاجزی انکسار حج ناموں کی بنیادی خصوصیت رہی ہے۔ شور ش کاشمیری کا حج نامہ ” شب جائے کہ من بودم‘ ‘ غلام ثقلین کا ” ارض ِ تمنا“ عبد اللہ ملک کا ” حدیث دل“ اور ممتاز مفتی کا لبیک جدید حج ناموں کی چند نمایاں جہتیں پیش کرتی ہیں۔

لبیک :۔[ترمیم]

ممتاز مفتی کا ”لبیک“ منفرد حیثیت و اہمیت کا حامل ہے یہ ایک باغی شخص کی قلبی واردات ہے جو اسرار کھولنا چاہتا ہے۔ پردہ اٹھانا چاہتا ہے ہر لمحہ قاری کو اپنا ہمنوا بنائے رکھتا ہے۔ بقول ظہور احمد اعوان،
”مفتی ایک مہم جو کی طرح اپنی ذات کی تسخیری مہم پر رواں تھا۔ اس نے جگہ جگہ رسمی تصورات پر چوٹیں کی ہیں۔ فرسودہ رسومات پر طنزکے تیر برسائے ہیں۔ خارجی رسمیات سے آگے گزر کر داخلی اور روحانی دنیا میں جھانکنے کی کوشش بھی کی ہے۔
یہ سفر نامہ رپورتاژ کہلایا جا سکتا ہے کیونکہ خود مصنف نے اسے رپورتاژ کہا ہے۔ رپورتاژ سے مراد ایسی تحریر ہے جس میں حقیقت کا بیان داخل اور خارج دونوں کے امتزاج سے ہوتا ہے۔ سفر نامے اور رپورتاژ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سفر نامے میں سفر بنیادی شرط ہے جبکہ رپورتاژ میں روحانی، ذہنی اور جذباتی سفر کی زیادہ اہمیت ہے۔
ممتاز مفتی نے اس سفر نامے کو رپورتاژ کہا ہے دیگر ناقدین نے بھی اس بات کی تائید کی ہے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان اپنی کتاب ”داستان تاریخ رپوتاژ نگاری“ میں اسے رپورتاژ کی حیثیت میں شامل کیا ہے۔ جبکہ انور سید ید نے اسے سفر نامے کی حیثیت دی ہے۔ اس رپورتاژ میں خارج سے داخل اور داخل سے خارج کا سفر ملتا ہے۔
ممتاز مفتی 11 ستمبر 1905ءمیں بٹالہ میں پیدا ہوئے اور 27 اکتوبر 1995ءکو اسلام آباد میں وفات پائی ممتاز مفتی، مفتی محمد حسین کے ہاں پیداہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر، میانوالی، ملتان اور ڈیر ہ غازی خان میں پائی۔ استاد کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بنیادی طور پر ایک اچھے افسانہ نگار اور ناول نگار رہے۔ ان کی تخلیقات پر فرائڈ، نطشے، ڈاکٹر اڈلر اور ڈاکڑ یونگ کے اثرات نمایاں ہیں یعنی نفسیات اور جنس ان کے دو بنیادی موضوعات ہیں۔

کلاسیک:۔[ترمیم]

لبیک ایک متنازع کتاب ہے۔ یہ تصنع بناوٹ اور ریاکاری کے درمیان، سچ اور خلوص اور جذبے کی ایک مثال ہے۔ جس نے اپنی حیثیت و اہمیت کو منوالیا ہے۔ لبیک ایک ایسے فنکار کا شاہکار ہے جو تجزیہ کرتا ہے سوچتا ہے محض جذبے میں لتھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ سوچ سمجھ کر اس راستے پر روانہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا مزاج دیگر حج ناموں سے ہٹ کر ہے۔ ممتاز مفتی اس رپورتاژ میں عقیدت نہیں پالتے بلکہ عقیدے کو سے نچتے نظرآتے ہیں۔ وہ ایسی کئی باتوں کو منظر عام پر لانے سے نہیں چونکتے۔ جو دیگر دنیا دار قسم کے لوگ چھپاتے ہیں۔ وہ اپنی داخلی کیفیات کا بیان کھل کر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید لبیک کے بارے میں لکھتے ہیں۔
”اس سفر نامے سے تشکیک اور اثبات کے زاویے پہلو بہ پہلو ابھرتے ہیں۔ اور ایک ایسے غریب الوطن کی روداد بیان کرتے ہیں جو احساس گناہ سے آزاد نہیں اور سفر کے دوران کئی مرتبہ تخریب اور تعمیر کے مرحلوں سے گزرتا ہے۔ وہ کبھی جڑ جاتا ہے کبھی حیرت کو جگاتا ہے اور کبھی نور انوار کی بارش میں شرابور ہونے لگتا ہے۔“
اس رپورتاژ میں شعور کی رو کی تکنیک کو پور ی توجہ اور مہارت سے استعمال گیا ہے۔ لبیک کی ہیئت طے شدہ نہیں چنانچہ شاہکار ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں فنی اور فکری لحاظ سے کئی اصناف کی خوبیان جمع ہوتی ہیں۔ جیسے مختار مسعود کی ” آواز دوست“ اور ابولکلام آزاد کی ”غبار خاطر“ ایسی کتابیں ہیں جس کو محدود کینوس پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ لبیک کا شمار بھی ایسی ہی کتابوں میں ہوتا ہے۔ فنی لحاظ سے لبیک بیک وقت سفر نامہ، رپورتاژ، آپ بیتی، یاداشت، افسانہ، ناول، سوانح عمری اور حج نامہ ہے اس تخلیقی کاوش کو ادب عالیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ بقول ظہور احمد اعوان
”لبیک ارد و ادب کا ایسا کلاسیک ہے جس کی مثال نہ صرف اس سے پہلے ملی ہے نہ اس کا مثل مدتوں تک پیدا ہونے کی توقع ہے۔ وقت نے ممتاز مفتی کی ذات میں روحانی، سماجی اور ادبی قدروں کا ایسا وصال یکجا کر دیا تھا۔ جسے بیباک اور باکمال اظہار خیال نے پرواز تخیل سے مزین کرکے لازوال تحریربنا دیا ۔۔۔ حالانکہ مصنف نے نہ صرف اسے رپورتاژ ڈیزائن کرکے لکھا اور نہ اس کے سامنے کسی اور قسم کا ہیئتی نمونہ تھا۔“
آئیے لبیک کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں،اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کیوں اس سفر نامے کو اردو ادب کا بہترین سفر نامہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

آغاز:۔[ترمیم]

اس حج نامے کا بنیادی مزاج تلاش ہے۔ کرید جستجو چھپتے ہوئے کو سامنے لانے کی خواہش اس کتاب میں عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ ممتاز مفتی ایک بے چین روح کی طرح بھٹکتے دکھائی دیتے ہیں۔ جاننے کی تمنا اور آرزو انہیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتی اوروہ ہر راز سے پردہ اٹھا دینا چاہتے ہیں۔ اس سفر نامہ نما رپور تاژ کا آغاز اُس وقت ہوتا ہے جب ممتاز مفتی کو فوارہ چوک روالپنڈی میں ایک مجذوب حج پر جانے کی بشارت دیتا ہے۔ پھر خوشاب سے ایک ایڈوکیٹ کا خط ملتا ہے جس میں ممتاز مفتی حج پر جانے والے لوگوں میں اُن کا نام شامل نہیں اگلے سال ممتاز مفتی حج پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ یہ سفر وہ اپنے دوست قدرت اللہ شہاب اور ان کی بیگم عفت شہاب کے ہمراہ کرتے ہیں ۔

قدرت اللہ شہاب :۔[ترمیم]

اس سفر نامے کاہیرو قدرت اللہ شہاب ہے۔ جو خود بھی بڑے قلمکا ر وں میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن اس سفر میں ان کی حیثیت ایک اعلیٰ و ارفع انسان کے طور پر سامنے آتی ہے۔ مختلف ناقدین نے قدرت کی شخصیت کی چوتھی سمت کو زیر بحث لا کر ممتاز مفتی پر کڑی تنقید کی ہے۔ کہ مفتی نے انہیں ایک ماورائی انسان بنا کر پیش کیا ہے۔ جبکہ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ اس سفر نامے میں قدرت اللہ شہاب ایسا کردار ہے جو تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔ ابن انشاء، اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی چاریاروں کی ٹولی تھی جن میں ہر ایک نابغہ روزگار تھا۔ اور ابن انشاء اشفاق احمد اور ممتاز مفتی تینوں کی رائے یہی ہے۔ کہ قدرت اللہ شہاب ایک پراسرار شخصیت کے مالک تھے۔ ابن انشا ءاور اشفاق احمد نے قدرت اللہ شہاب کی شخصیت کی چوتھی سمت سے سمجھوتہ کر لیا اور اس بارے میں بے نیازی برتتے رہے۔ جبکہ مفتی کا رویہ مختلف ہے۔ وہ جاننے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ اس مقدس سفر کے دوران وہ قدرت اللہ شہاب کے ساتھ کافی دیر تک رہے اور بعض ایسے واقعات اور مشاہدات سے واسطہ پڑا کہ قدرت اللہ شہاب کی حیثیت و شخصیت خود بخود بڑی ہوتی گئی۔ اس بارے میں ذو الفقار تابش لکھتے ہیں،
مفتی صاحب کا یہ ”رپورتاژ“ پیچیدہ تہ در تہ اور پردہ در پردہ معانی کی ایک ایسی اوڈیسی ہے جس کی مثال کم از کم میر ے سامنے نہیں۔ معنی کے پیاز کے چھلکے اترے ہیں۔ مفتی کا یہ ” رپورتاژ “ پڑ ھ کر جانے مجھے کیوں قران کی وہ تمثیل باربار یادآئی جس میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے ایک عجوبہ سفر کا بیان رقم ہے۔

دل کی آنکھ:۔[ترمیم]

یہ پوری کتاب غیر معمولی واقعات اور مشاہدات سے بھر پڑی ہے۔ چنانچہ اس کتاب کو دماغ سے نہیں دل سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جہاں عقل کی حدیں ختم ہو تی ہیں وہاں جذبے اور روح کی پرواز شروع ہوتی ہے۔ عقل میں خواص خمسہ پر انحصار کیا جاتا ہے۔ یعنی جس چیز کو آنکھوں نے دیکھ لیا وہ ضرور موجود ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ دیکھنے کی یہی صلاحیت صحرائوں میں سراب دکھاتی ہے۔ دھوپ میں تپتی سڑک گیلی نظر آتی ہے۔ یعنی عقل جس چیز پر سب سے زیادہ انحصار کرتی ہے اس کا یہ حال ہے تو پھر عقل کی رسائی محدود ہے اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں جہاں تک ان اعتراضات کا تعلق ہے کہ ممتاز مفتی قلمی شعبدہ بازی پر اُتر آئے ہیں اور من گھڑت قصے لکھ رہے ہیں۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ بعض باتیں، حالات و واقعات انسانی عقل کے دائرے میں نہیں آسکتے۔ خود مفتی صاحب اپنی کتاب تلاش میں کہتے ہیں کہ
”ماننے کے لیے جاننا ضروری نہیں۔“

روانگی:۔[ترمیم]

لبیک کا آغاز مصنف کے مختلف اور منفر د انداز فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ حج پر روانگی کے دوران جہاز میں دنیا دارر حاجی تسبیح رولتے ہوئے خاموش بیٹھے ہیں جبکہ مصنف چاہتے ہیں کہ اتنی بڑی خوشی کا اظہار بھر پور طریقے سے ہونا چاہیے۔ عالم خوشی میں جو والہانہ پن ہوتا ہے اُسے حاجیوں کی ہرحرکت سے ظاہر ہونا چاہیے۔ جبکہ جہاز میں خاموشی، اداسی اور تقدیس بھر ی کیفیت طاری ہے۔ وہ حاجی جو جہاز میں خاموش دم سادھے بیٹھے ہیں اور ایک عظیم بارگاہ میں حاضری کے لیے روانہ تھے جدہ ائیر پورٹ پر عام انسان بن جاتے ہیں۔ اپنے سامان کے سوا اور کوئی مقصد ان کے پیش نظر نہیں رہتا۔ وہ حج کی غائیت بھو ل جاتے ہیں۔ یہاں ممتاز مفتی کا پیرایہ اظہار بے مثال ہے۔
” کسی کو شعور نہ تھا کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں بے سروسامانی سامان بن جاتی ہے وہ سب چلا رہے تھے اے سامان میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں اے سامان میں حاضر ہوں۔“

کالا کوٹھا:۔[ترمیم]

جدہ میں اپنا معلم مقرر کرنے کے بعد مکہ معظمہ کا سفر شروع ہوتا ہے۔ یہاں مفتی صاحب سچائی اور بے تکلفی سے بتاتے ہیں کہ جدہ میں قیام کے دوران ان پر کوئی کیفیت طاری نہیں ہوئی نہ ہی وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کسی نظم کی جگہ پر ہے بلکہ صاف بتاتے ہیں کہ اللہ کے سامنے اس سے زیادہ حاضر تو میں اپنے گھر کی چٹائی پر بیٹھ کرتھا۔ لیکن جب خانہ خدا پر حاضر ہوتے ہیں ساری بے نیازی بھک سے اڑ جاتی ہے اور ساری کائنات کالے کوٹھے میں بدل جاتی ہے۔ ممتاز مفتی نے خانہ کعبہ کے لیے کالا، بھدا، بے ڈھب کوٹھا جیسے الفاظ استعمال کیے جو بعض مکتب فکر کے لوگوں کے لیے قابل قبول نہ تھے۔ ان پر سخت اعتراض کیا گیا یہاں تک کہ ممتاز مفتی پر کمیونسٹ ہونے کے فتوئے لگائے گئے۔ لیکن اہل دل جانتے ہیں کہ ممتاز مفتی نے اللہ تعالٰیٰ کو اپنا دوست سمجھا ہے۔ ممتاز مفتی بے تکلفی پیار ومحبت سے ایسا کہتے ہیں۔ اور یہ محبت اور عقید ت اُس وقت دیکھی جا سکتی ہے جب وہ پہلی دفعہ خانہ کعبہ میں داخل ہوتے ہیں۔ ان پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے۔ وہ کم زائرین کو نصیب ہے وہ لکھتے ہیں،
”میرے وجود کے فیتے میں گویا چنگاری دکھا دی گئی اور زو۔۔ زوں سے راکٹ کی طرح فضا میں اڑ گیا میرے قلب میں ایک دھماکا ہوا میرے وجود کی دھجیاں اُڑ گئیں جو سارے حرم شریف میں بکھر گئیں۔ وہ عظیم الشان مسجد معدوم ہو گئی زائرین کا بے پناہ ہجوم چو نٹیوں میں بدل گیا صرف کو ٹھا رہ گیا پھر وہ کوٹھا ابھرا ابھرتا گیا حتیٰ کہ ساری کائنات اس کی اوٹ میں آگئی۔“
اب ایسے شخص کو کافر اور کمیونسٹ کہاں کا انصاف ہے اور یہ کونسا دائرہ اسلام ہے جہاں ایسے شیدائیوں کو نکالنے کی بات ہوتی ہے ایسے تنگ دل اور کمزور نظر لوگوں کی سوچ پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ محض لفظوں کو دیکھتے ہیں ان کے پیچھے چھپے ہوئے معنی اور محبت و دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لبیک کو پڑھنے کے لیے دل بینا کی ضرورت ہے۔

حقیقت نگاری:۔[ترمیم]

لبیک نے ہمارے عقائد کے بہت سے راز کھولے ہیں اس میں اس اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ روانگی کے وقت اور دوران سفر ہمارا مقصد اور ترجیح حج ہی ہونا چاہیے۔ عام مشاہد ہ ہے کہ لوگ شو ق سے حج پر جاتے ہیں اور بعض بے معنی باتوں میں الجھ کر اپنی منزل کھوٹی کر دیتے ہیں۔ کسی کو گرمی کی شکایت ہے کسی کو نامناسب جگہ ملنے پر شکوہ کوئی سامان کی کمی یا ذیادتی کا شکار ہو کر ان لمحات کو ضائع کر دیتا ہے جو اسے نصیب ہوتے ہیں۔ چنانچہ نظر”کل “ پررکھتے ہوئے جزئیات کو نظرانداز کرنا لازمی ہے اس کتاب کاایک واضح مقصد ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ممتاز مفتی اُس مقصد کو براہ راست سامنے نہیں لاتے۔ وہ کسی خاص مقصد کی تبلیغ نہیں کرتے بلکہ قاری کو اپنا ہم خیال اور ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ اعلیٰ ادب کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے مقصد سے بیگانہ رہے اور انجانے میں ایسے حقائق سامنے لائے جو تدریس کا کام بھی کرے اور قاری کو پور ی حظ بھی فراہم کرے ممتاز مفتی لبیک میں یہ دونوں کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اور حج کے سلسلے میں ان کے یہ مختصر جملے قاری کو تادیر محظوظ کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں،
” یہاں کوئی تفصیل اہم نہیں کوئی بھی اہم نہیں صرف ایک حاضری اور حضوری کا احساس لیکن ہم حاضر ہو کر بھی غیر حاضر رہتے ہیں۔“
ممتاز مفتی ایک زائر کی حیثیت سے مشتاق اور بے تاب ہی نہ تھے بلکہ اپنے گناہوں کا احساس بھی انہیں گھیرے ہوئے تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کئی مقامات پر مجھے خود سے بد بوآنے لگی اور مجھے محسوس ہوا کی میری ہستی ان مقامات کے لائق نہ تھی۔

حج کی تعریف:۔[ترمیم]

وہ حج کی ظاہر ی شکل کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
”حج کی خارجی تفصیلات وہی ہیں جو اسلام سے پہلے تھیں لیکن اسلام نے حج کی داخلی حالت میں عظیم تبدیلی برپا کی ہے۔“
حج کی اس سے بہتر اور کیا تعریف ہو گی کہ انسان اپنے دل و دماغ سے غیر اللہ کو نکال دے اور صرف اللہ ہی اللہ باقی رہ جائے غیر اللہ سے مراد نفسانی خواہشات مقاصد آرزئوئیں اور تمنائیں ہیں جن کے لیے انسان دن رات سرگرداں رہتا ہے۔ ان سب کو تج کر محض اللہ کو دل میں بسا لیناحج ہے۔

رجائیت:۔[ترمیم]

پوری کتا ب میں ایک بات بخوبی محسوس کی جاسکتی ہے کہ ممتاز مفتی رجائیت پسند تھے وہ مایوس نہیں ہوئے ان کا آزاد فکر ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ وہ اپنی کم مائیگی اور گناہوں پر بھی نظر رکھتے ہیں لوگوں کی عمومی رویوں کی کمزوریاں بھی ان پر عیاں ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے۔ تجربات مشاہدات اور حالات و واقعات کو دیکھنے والی ان کی نگاہ نکتہ چیں ضرور ہے مگر کم نگہی کا شکار نہیں وہ تخریب کے پردے میں تعمیر کو دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حاجیوں کی توجہ بھٹکانے کے لیے شیطان ہر وقت مصروف عمل رہتاہے۔ اس کے لیے عمدہ مثال دیتے ہیں کہ اگر ایک کمرہ خالی ہواور دوسرا خزانے سے بھرا ہوا تو چور ضرور خزانے سے بھرے ہوئے کمرے پر حملہ کرے گا۔ شیطان بھی ایمان سے بھرے ہوئے دل پر نظر رکھتا ہے۔ اس کی دوسر ی وجہ یہ بھی ہے کہ زائرین کے دل شوق وجذبے سے اتنے بھرے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر تھوڑے وقفہ کے لیے شیطان ا ن کی توجہ بھٹکا نہ دے تو کیفیت کی شدت سے دیوانگی کا شکار ہو جائیں۔ ممتاز مفتی کے مثبت انداز کو نظیر احمد نے ان الفاظ میں سراہا ہے۔
”ممتاز مفتی ہمیشہ مثبت باتوں اور رویوں پر زور دیتا ہے وہ آنکھوں کی پلکوں اور تخیل کی انگلیوں سے ہمیشہ حقیقت کا متلاشی رہا ہے اور جب ایسے شخص کا استوار کیا ہوا حقیقت کا مینار گرتا ہے تو وہ مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتا وہ ایک نیا مینار کھڑا کر دیتا ہے۔“

مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کا موازنہ:۔[ترمیم]

مدینہ منورہ میں حاضری کے دوران ممتاز مفتی پر ایک جنون طاری ہو جاتا ہے کہ کہ رسول کریم ان کا سلام قبول کر لیں۔ یہ سلام رسمی نہیں اور نہ ہی کتابوں میں پڑھا ہوسلا م ہے بلکہ یہ وہ سلام ہے جو ایک ادنیٰ، عاجز، مسکین، شخص ایک اعلیٰ ارفع ہستی کو جھک کر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کرتا ہے۔ اور اس سلا م کے قبول ہوجانے کے احساس پر مفتی کے دل کو قرار آتا ہے۔ مفتی ہر شے کے بنیادی مزاج کو سمجھنے اور بیان کرنے پر قادر ہیں۔ کتاب کے اس حصے میں وہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں حاضری کے آداب سے ان شہروں کے روح کو سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اپنے مختصر جملے مگر جامع انداز میں وہ سوچ و فکر کا پہلو نمایاں کرتے ہیں،
”ماحول کے تاثرات مختلف ہیں یوں سمجھ لیجئے کہ مکہ معظمہ قانون ہی قانون ہے۔ اور مدینہ منورہ رحمت ہی رحمت ۔“

عام رویوں پر طنز:۔[ترمیم]

مدینہ منورہ میں قدرت اللہ شہاب اور ان کی بیگم مفتی کو اکیلا چھوڑ کر پہلے روانہ ہو جاتے ہیں اور VIPکلچر جو شہاب صاحب کی وجہ سے انھیں نصیب تھا ختم ہو جاتا ہے۔ چھ دن در بدر ٹھوکریں کھانے کے بعد ان کی ملاقات پاکستانی سفیر سے ہوتی ہے۔ ان چھ دنوں کے روداد بھی کتاب کا دلچسپ حصہ ہے۔ جدہ کے مسافر خانے میں اپنی ذات کے کچھ ایسے گوشے عریاں کرتے ہیں کہ بہت سے زائرین اس آئینے میں اپنا چہر ہ دیکھ سکتے ہیں۔
”یقین جانیے جدہ کے مسافر خانے میں ،میں نے بڑی کوشش کی کہ اپنے انداز میں وقار، پاکیزگی، تشکر اور آنکھ میں فاتحانہ چمک پیدا کروں تاکہ واپسی پر مستند حاجی بن سکوں۔“
اور رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو جاتی ہے جب وہ واپس کراچی ائیر پورٹ پر اترے ہیں جیسے ایک طلسم تھا جو ٹوٹ گیا اور ذات کے غبارے سے ساری ہوا نکل گئی۔ اب عام حاجیوں کی طرح مفتی کا بھی جی چاہتا ہے کہ لوگ انہیں سپیشل سمجھیں ان کے ہاتھ چومیں کہ ان ہاتھوں کو سبز جالی پکڑنے کا اعزاز حاصل تھا وہ قدرے مبالغے اور طنزیہ انداز میں ہمارے معاشرے کے عام رویوں پر چوٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انکا مزاحیہ انداز ملاحظہ ہو۔
”میں نے کئی بار بہانے بہانے سے ہاتھ آگے بڑھایا لیکن کسی نے اسے نہ چوما۔ کوئی سینے پر ہاتھ باندھ کر میرے روبرو کھڑا نہ ہوا کسی نے میری بات کو موتی سمجھ کر نہ آٹھا یا مجھے شک پڑنے لگا کہ وہ جانتے ہیں کہ جیسا گیاتھا واپس آگیا ہوں۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ وہ درپردہ مجھ پر ہنس رہے ہیں۔

آخری پیرا گراف:۔[ترمیم]

سفر نامے کا آخری پیراگراف معروض سے اندرون کا سفر ہے جب ممتاز مفتی تسلیم کرتے ہیں کہ جب کبھی ان کا دل دنیا کی ہنگاموں سے اکتا جاتا ہے تو ایک کالا بے ڈھب کوٹھا چاروں سمت محیط ہونے لگتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پکار کر کہہ رہا ہو کہ آؤ میر ے گرد گھومو اور مفتی ایک دفعہ پھر اس کے گرد گھومنے سے ڈر محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ انھیں یقین ہے کہ اگر ایک دفعہ پھر انہیں طواف کرنے کا موقع ملا تو وہ ابد تک ان کے گرد گھومتے رہیں گے۔ وہ لکھتے ہیں، ”کالے کوٹھے کے گرد پھیرے لینا اس سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں کوئی نشہ نہیں، کوئی کیف نہیں۔“

اسلوب:۔[ترمیم]

بلاشبہ لبیک ایک تخلیقی کارنامہ ہے اس کے مطالعے کے لیے عقیدت بھرا دل اور بصیرت درکار ہے۔ سرسر ی مطالعہ گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ لبیک میں فنی لحاظ سے ایک سفر نامے، رپورتاژ، آپ بیتی اور یاداشتوں کی خوبیاں یکجا ہیں۔ اور مفتی صاحب کا اسلوب پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ کئی حصوں میں چھوٹے مختصر اور چونکا دینے والے جملے قاری کو تادیر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا عقیدہ اتنا پختہ، عقیدت اتنی بھر پور اور قلم اتنا رواں ہے کہ لبیک ایک دائمی تخلیق بن گئی ہے۔ اور اس عالمی ادب میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ مفتی نے جلوت میں خلوت کا سفر کیا ہے اور اس داخلی کیفیت کو بہت صاف ذہن اور رواں قلم سے بیان کیا ہے۔ کسی ذہنی الجھائو یا شعوری کوشش کا احساس نہیں ملتا اور یہی اہم خوبی اس فن پارے کی صداقت کی دلیل ہے۔

مجموعی جائزہ:۔[ترمیم]

کوئی بھی ادبی تخلیق اس وقت بنتی ہے جب وہ ہنگامی موضوعات سے ہٹ کر دائمی اقدار پر مبنی ہو۔ ہنگامی موضوعات اور اشتعالی واردات قلب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معدوم ہوجاتے ہیں۔ جبکہ دائمی اقدار پر مبنی تخلیقات کی ضرورت اور قدر و قیمت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ ہوتی ہے۔ لبیک ایک ایسی ہی ادبی تخلیق ہے۔ جو 1970ءسے لے کر اب تک مسلسل شائع ہوتی رہی ہے۔ اس کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور ہر دور کا قاری اس سے محظوظ ہوتا ہے۔ مصنف کی عقیدت، بیباکی، جرات اور سعی محبت کو ہردور کے قاری نے سلام پیش کیاہے خود مصنف کو بھی اس تخلیق کی اہمیت کا احساس ہے ممتاز مفتی لکھتے ہیں،
” لبیک میری پہچان بن گئی اور میری دیگر تصانیف کی راہنما، اگر میں یہ کہوں کہ لبیک میری تقدیر بن گئی تو کچھ غلط نہ ہوگا۔“
لبیک کے بارے میں ظہور احمد اعوان لکھتے ہیں،
”رپورتاژ لبیک اردو ادب کی پہلی اور آخری روحانی رپورتاژ ہے۔ اسے روحانی سفر نامہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا وصف اس کا انوکھا انداز ہے۔ اسے جتنی بار پڑھا جائے اس سے لطف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ۔۔۔ یہ ایک منفرد شخص کی منفرد قلبی واردات کا خوبصورت اظہار ہے۔ اردو ادب کا دامن اس کتاب کی تخلیق سے ایک ایسے کلاسیکی شاہکار سے بھر گیا ہے کہ جس کے ادب کے بقائے دوام کے دربار میں مستقل جگہ متعین ہو چکی ہے۔ ممتاز مفتی کو ان کے ڈرادینے والے ضخیم ناول زندہ رکھیں یا نہ رکھیں۔ 320 صفحات پر مشتمل یہ رپورتاژ ضرور زندہ رکھے گی۔“