للہ عارفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

للہ عارفہ ، آٹھویں صدی ہجری میں وادی کشمیر کی ایک عجیب و غریب شخصیت ہیں

نام کا تنازع[ترمیم]

ہندو کہتے ہیں کہ یہ خاتون ہندو تھیں اور ان کا نام للہ ایشوری یا للہ دید تھا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ مسلمان تھیں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ کشمیر کے مسلمان ان کو للہ عارفہ اور احتراماً للہ ماجہ”لل ماجی” کہتے ہیں۔ (“لل ماجی” کا مطلب ہے”بزرگ خاتون”)صوفیائے کشمیر کے تذکروں میں ان کو مسلم اولیاء اللہ میں شمار کیا گیا ہے عام طور پر لل ہی کے نام سے مشہور ہیں جو کشمیری زبان میں پیار کا لفظ سمجھا جاتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

کشمیر کی یہ عظیم صوفیہ خاتون 1330ء کو سری نگر سے تین میل دوریا ندرھُن گاؤں میں پیدا ہوئی۔

برہمن سے شادی[ترمیم]

للہ عارفہ سترہ برس کی تھیں کہ ان کی شادی ایک ہندو برہمن سے کر دی گئی وہ جاہل اور اجڈ تھا۔ آپ کا ظالم شوہر نہ صرف خود آپ کو مارتا پیٹتا بلکہ آپ کی ساس بھی آپ پر بے پناہ ظلم کرتی تھی۔ یہ سلسلہ جب حد سے گزر گیا تو للہ عارفہ خاتون حالت دیوانگی میں ویرانوں کی طرف نکل گئی۔

معرفت و سلوک[ترمیم]

وہ صوفیوں، سادھوؤں اور رشیوں کی محفلوں میں بیٹھ کر معرفت اور شعور و آگہی کی تعلیم حاصل کرنے لگی۔ رفتہ رفتہ للہ عارفہ سلوک کی راہ میں اتنی بے خود ہو گئی کہ اس نے دیوانگی کے عالم میں معرفت و حکمت کی باتیں کرنی شروع کر دیں مشہور ولی اللہ سید سمنانی تانی جب کشمیر میں آئے تو للہ عارفہ ان کے دست حق پرست پر مسلمان ہو گئیں اور پھر ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہو کر وقت کا بیشتر حصہ عبادت الٰہی میں گزار دیا۔

شاعری[ترمیم]

اور صوفیانہ اشعار کہنے لگی جنہیں لوگ یاد کر لیتے۔ للہ عارفہ نے انسان دوستی کا فلسفہ پیش کیا۔ وہ اخوت، مساوات اور عدل و انصاف کی پیروکار تھی۔ للہ عارفہ خاتون کشمیری زبان کی پہلی صوفی شاعرہ ہے۔ اس کا کلام حکمت و معرفت کا خزینہ ہے۔

وفات[ترمیم]

للہ عارفہ کی وفات کا واقعہ بھی بڑا ایمان افروز ہے کہ اس کی وفات پر ہندو اسے جلانا چاہتے تھے اور مسلمان دفن کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جب چادر ہٹائی گئی تو وہاں پھولوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ تاریخ میں اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ للہ عارفہ خاتون کہاں گئی اور کہاں دفن ہے۔ (حوالہ جموں کشمیر باب آف نالج صفہ)[1] [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سہ ماہی تجزیات اسلام آباد
  2. ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین،مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی صفحہ نمبر 271 تا 275