لوئی التھیوز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


لوئی التھیوز
(فرانسیسی میں: Louis Althusser ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Louis Althusser sketch (8420987781).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 16 اکتوبر 1918[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بئر مراد رایس[4]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 اکتوبر 1990 (72 سال)[3][4][5][6][7][8]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیرس[4]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of France.svg فرانس  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت فرانسی کمیونسٹ پارٹی (1948–)  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص برنرڈ-ہنری لیوی  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فلسفی[4]، سیاست دان[4]، استاد جامعہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان فرانسیسی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل سیاسی فلسفہ[9][4]، علمیات[9]، ماوراء الطبیعیات[9]، فلسفۂ سائنس[9]  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر کارل مارکس[9]، ولادیمیر لینن[9]، لیوی سٹراؤس[9]، ماؤ زے تنگ[9]، سپینوزا  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک مارکسیت[9]  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

لوئی التھیوز (انگریزی: Louis Althusser) مارکسی ادیب، فلسفی اور نظریہ ساز نقاد ہیں۔ 16 ا کتوبر 1918 میں الجزائر میں پیدا ہوئے۔ کیتھولک گھرانے سے تعلق تھا فرانس کی معروف درسگاہ ”ایکو ناملے سپیر“ میں تعلیم حاصل کی۔ اسی تعلیمی ادارے میں پروفیسر بھی رہے۔ مارکسی مفکرہونے کے باوجود وہ فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کے ناقد بھی رہے کیونکہ فرانس میں وہ سوشلسٹ پارٹی کو خطرات میں گھرا محسوس کرتے تھے۔ ان کو جلد محسوس ہو گیا تھا کہ سویت یونین کے کمیونزم میں انفرادی تحیریروں پر اثر ڈالا مگر انہیں جلد ہی احساس ہو گیا تھا کہ سویت یونین کے کمیونزم میں انفرادی آزادی فاشزم کی طرح محدود ہے۔ لہذا انہوں نے یساریت پسندی کی رویتی تعریفات سے انحراف کرتے ہوئی فرانسیسی طرز کے انسانی مارکسزم پر تنقید کی جو کارل مارکس کے معاشی اور سیاسی فلسفے سے مرتب کیا گیا ہے۔ جس کا اصل مبدا مارکس کی 1831 میں شائع ہونے والی تحریر "ECONOMIC AND PHILOSOPHICAL MANUSCRIPTS" تھا۔ التھیوز نے اسے مارکسی مسودے میں متن کے معنی اور مغائرت کے تصور کو دانستہ طور پر بھلادینے کی کوشش کو بورژوائی فلسفہ کہا۔ اس نے لیوی اسٹروس اور دیگر ساختیاتی لکھنے والوں شے شدید اختلاف بھی کیا۔ لیکن التیہوز کا بنیادی ساختیاتی نطریہ "سائنٹفک" روابط کا نظریہ ہے جس کو وہ" کثیر المعنویت" کہتے ہیں جو کہ تاریخی جدلیات کے تصور سے پھوٹتا ہے۔ جس میں معاشرتی کشمکش کا نطریہ ان کی فکر کا بنیادی نکتہ قرار پاتا ہے۔ جو نظریاتی عملیات عموما مخصوص قسم کا ساختیاتی عمل ہوتا ہے۔ جو اپنے موضوع کو اپنے جبر اور مخصوص فکری فریم ورک مین رکھ کر پرکھتا ہے۔ مگر یہ سپر ساختیے سے مکمل طور پر علاحدہ ہو کرھی اپنی حرکیات کو جنم دیتا ہے۔ کیونکہ اعلیٰ ساختیے کے مسائل ان کی کلیدی مسائل نہیں ہوتے۔ ان کی نظریاتی عملیات اصل میں سائنسی عملیاتی فلسفے (جدلیاتی مادیت کا نظریہ) اور سائنسیی آگھی کے درمیان میں کا نظریہ ہے لیکن بھر بی ان کے یہاں ادراکی ثنوتیت کا تصور ملتا ہے، ییداواری آگھی کو آگھی سے علحیدہ کرکے اپنی جداگانہ شناخت بناتے ہیں۔ یہ عمل "ابتدا" اور "اختتام" کے مراحل کے بغیر ہوتا ہے۔ لوئی التھیوز نے لاکان سے یہ بات سیکھی کی معاشرے کے نظریہ حیات (آئیڈیا لوجی) کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے اور پھر انہوں نے یساریت پسند آئیڈیالوجی کی آگاہی کے لیے مارکس کے نظریات کا انتخاب کیا اور یہ خیال پیش کیا کہ آئیڈیالجی دنیا کا مکر آمیز یا جہوٹا شعور ہوتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جبر کی صورت میں ہم اشیاء کھلے بازار سے خریدتے ہیں جو محنت کشوں کے استحصال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ التھیوز کا کہنا ہے کہ مارکس کی آئیڈیالوجی ایک فراڈ ہے کیونکہ بہت سے ادیبوں اور اہل فکر کے نزدیک خالصتًا ”پیکریت کا خواب“ ہوتی ہے جس کا نتیجہ صفر ہی ہوتا ہے۔ وہ آئیڈیا لوجی کو مادی وجود تصور کرتے ہیں کیونکہ آئیڈیالوجی ہمیشہ ”آلاتیاتی“ ہوتی ہے۔ آلتھیو نے نظریہ حیات (آئیڈیالوجی)اور فن کے انسلاک اور اس کے ادبی مضمرات پر پر فکر اور دلچسپ بحث کی ہے بقول ان کے استدلال ار دلیل صرف یہ نہیں ہوتی کی ادب ان حقیقی معاشرتی رشیتوں کی اسطور ں طریہ حیات کی تشکیل کرتے ہیں جس سے براہ راست بحث و مکالمہ کرتا ہے۔ جس نے متن کی آگاہی آسان ہو جاتی ہے۔ اور "موضوع" اپنے طور پر نطریہ حیات (آئیڈیوالوجی) کے بطن میں آئیڈیالوجی چھپی ہوتی ہے جو اپنے آپ کو مسترد بھی کرتی ہے۔ آلتھیو نے کارل مارکس کیے حوالے سے لکھا ہے کہ آئیڈولوجی سرف تجریدی تصورات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ مخاطبہ (ڈسکورس)، تخیل اور اسطیری کی موجودگیوں کا وہ نظام ہے جو آپس کے ان صداقتوں کا انسلاک ہے جس میں افراد زندگی بسر کرہے ہیں۔ آئیڈیالوجی کا ایسا نطام نہیں ہے جو افراد کے دماغوں میں بسا ہوتا ہے۔ جو اصل مین اظہار کت مادی رشتوں کی ایک اعلیٰ سظح پر ہوتا ہے۔ بلکہ یہ معاشرتی تشکیل ہے ں ظاموں کے اندر فرد کے اعمال کے ایک ضرورت ہے۔ جس کو التھیوز مجمر انفرادی موضوع تصور کرتے ہیں۔ شروع میں ان پر عمرانیات اور معاشیات کا گہرا اثر تھا جو بعد میں انسان دوستی اور مارکسی جہموریت میں تبدیل ہوگیا۔ وہ تجربیت کو بھی پسند کرتے ہیں یوں ان کا تعلق فرانس کے ساختیاتی دبستان سے منسلک ہوگیا۔ لیکن یہ حیرت کی بات ہے کی وہ ساختیاتی نظریے کے منکر ہیں۔ 1946 میں التھیوز نے لیتھوینا کی ایک انقلابی خاتوں سے شادی کی جو عمر میں ان سے آٹھ (8) سال بڑی تھیں۔ انکو 1980 میں التھیوز نے گلا دبا کر قتل کر دیا۔ قتل کی بعد وہ شدید زہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور اپنی یادداشت کہو بیٹھے کے بعد سینٹ آنا نفسیاتی ہسپتال میں داخل کیے گئے۔ 1980 کے بعد ان کا لوگوں سے ملنا ملانا تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ اپنی سوانح عمری لکھنا چا رہے تھے مگر ان سے یہ کام نہ ہوسکا۔ التھیوز کا انتقال 22 اکتوبر 1990 میں 72 سال کی عمر میں ہوا۔::: {تحریر:احمد سہیل} :::

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وصلة : https://d-nb.info/gnd/118502298  — اخذ شدہ بتاریخ: 27 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. وصلة : https://d-nb.info/gnd/118502298  — اخذ شدہ بتاریخ: 27 ستمبر 2015 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Альтюссер Луи — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  3. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11888581g — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11888581g — مصنف: Paul de Roux — عنوان : Nouveau Dictionnaire des œuvres de tous les temps et tous les pays — اشاعت دوم — جلد: 1 — صفحہ: 71 — ناشر: Éditions Robert Laffont — ISBN 978-2-221-06888-5
  5. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Louis-Althusser — بنام: Louis Althusser — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  6. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6258xh3 — بنام: Louis Althusser — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب دائرۃ المعارف اطالوی ثقافت آئی ڈی: https://enciclopedia.itaucultural.org.br/pessoa405433/louis-althusser — بنام: Louis Althusser — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: Itaú Cultural — ناشر: Itaú Cultural — ISBN 978-85-7979-060-7
  8. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/althusser-louis — بنام: Louis Althusser
  9. ^ ا ب پ مصنف: Diané Collinson — عنوان : Biographical Dictionary of Twentieth-Century PhilosophersISBN 978-0-415-06043-1