لوئی التھیوز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

لوئی التھیوز (انگریزی:Louis Althusser) مارکسی ادیب ، فلسفی اور نظریہ ساز نقاد ہیں۔ 16 ا کتوبر 1918 میں الجزائیر میں پیدا ہوئے۔ کیتھولک گھرانے سے تعلق تھا فرانس کی معروف درسگاہ“ ایکو ناملے سپیر “میں تعلیم حاصل کی۔ اسی تعلیمی ادارے میں پروفیسر بھی رہے۔ مارکسی مفکرہونے کے باوجود وہ فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کے ناقد بھی رہے کیونکہ فرانس میں وہ سوشلسٹ پارٹی کو خطرات میں گھرا محسوس کرتے تھے۔ ان کو جلد محسوس ہوگیا تھا کہ سویت یونین کے کمیونزم میں انفرادی تحیریروں پر اثر ڈالا مگر انھیں جلد ہی احساس ہوگیا تھا کہ سویت یونین کے کمیونزم میں انفرادی آزادی فاشزم کی طرح محدود ہے۔ لہذا انھوں نے یساریت پسندی کی رویتی تعریفات سے انحراف کرتے ھوئی فرانسیسی طرز کے انسانی مارکسزم پر تنقید کی جو کارل مارکس کے معاشی اور سیاسی فلسفے سے مرتب کیا گیا ہے۔ جس کا اصل مبدا مارکس کی 1831 میں شائع ھونے والی تحریر" ECONOMIC AND PHILOSOPHICAL MANUSCRIPTS " تھا۔ التھیوز نے اسے مارکسی مسودے میں متن کے معنی اور مغائرت کے تصور کو دانستہ طور پر بھلادینے کی کوشش کو بورژوائی فلسفہ کہا۔اس نے لیوی اسٹروس اور دیگر ساختیاتی لکھنے والوں شے شدید اختلاف بھی کیا۔ لیکن التیھوز کا بنیادی ساختیاتی نطریہ " سائنٹفک" روابط کا نظریہ ہے جس کو وہ" کثیر المعنویت" کہتے ہیں جوکی تاریخی جدلیات کے تصور سے پھوٹتا ہے۔ جس میں معاشرتی کشمکش کا نطریہ ان کی فکر کا بنیادی نکتہ قرار پاتا ہے۔ جو نظریاتی عملیات عموما مخصوص قسم کا ساختیاتی عمل ہوتا ہے۔ جو اپنے موضوع کو اپنے جبر اور مخصوص فکری فریم ورک مین رکھ کر پرکھتا ہے۔ مگر یہ سپر ساختیے سے مکمل طور پر علاحدہ ھو کرھی اپنی حرکیات کو جنم دیتا ہے۔ کیونکہ اعلی ساختیے کے مسائل انکی کلیدی مسائل نہیں ھوتے۔ ان کی نظریاتی عملیات اصل میں سائنسی عملیاتی فلسفے (جدلیاتی مادیت کا نظریہ) اور سائنسیی آگہی کے درمیان کا نظریہ ہے لیکن بھر بی ان کے یہاں ادراکی ثنوتیت کا تصور ملتا ہے ، ییداواری آگہی کو آگہی سے علحیدہ کرکے اپنی جداگانہ شناخت بناتے ہیں۔یہ عمل " ابتدا‘ اور " اختتام" کے مراحل کے بغیر ہوتا ہے۔ لوئی التھیوز نے لاکان سے یہ بات سیکھی کی معاشرے کے نظریہ حیات (آئیڈیا لوجی) کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے اور پھر انھوں نے یساریت پسند آئیڈیالوجی کی آگاھی کے لیے مارکس کے نظریات کا انتخاب کیا اور یہ خیال پیش کیا کہ آئیڈیالجی دنیا کا مکر آمیز یا جھوٹا شعور ہوتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جبر کی صورت میں ہم اشیاء کھلے بازار سے خریدتے ہیں جو محنت کشوں کے استحصال کا نتیجہ ھوتی ہے۔ التھیوز کا کہنا ہے کہ مارکس کی آئیڈیالوجی ایک فراڈ ہے کیونکہ بہت سے ادیبوں اور اہل فکر کے نزدیک خالصتا “ پیکریت کا خواب“ ھوتی ہے جس کا نتیجہ صفر ہی ہوتا ہے۔ وہ آئیڈیا لوجی کو مادی وجود تصور کرتے ہیں کیونکہ آئیڈیالوجی ہمیشہ “ آلاتیاتی“ ھوتی ہے۔آلتھیو نے نظریہ حیات (آئیڈیالوجی)اور فن کے انسلاک اور اس کے ادبی مضمرات پر پر فکر اور دلچسپ بحث کی ھےبقول ان کے استدلال ار دلیل صرف یہ نہیں ھوتی کی ادب ان حقیقی معاشرتی رشیتوں کی اسطور ںطریہ حیات کی تشکیل کرتے ہیں جس سے براہ راست بحث و مکالمہ کرتا ہے۔ جس نے متن کی آگاھی آسان ھو جاتی ہے۔ اور " موضوع" اپنے طور پر نطریہ حیات ( آئیڈیوالوجی) کے بطن میں آئیڈیالوجی چھپی ھوتی ہے جو اپنے آپ کو مسترد بھی کرتی ہے۔ آلتھیو نے کارل مارکس کیے حوالے سے لکھا ہے کہ آئیڈولوجی سرف تجریدی تصورات کا مجموعہ نہیں ھوتی بلکہ مخاطبہ (ڈسکورس)، تخیل اوراسطیری کی موجودکیوں کا وہ نظام ہے جو اآپس کے ان صداقتوں کا انسلاک ہے جس میں افراد زندگی بسر کرھے ہیں۔ آئیڈیالوجی کا ایسا نطام نہیں ہے جو افراد کے دماغوں میں بسا ہوتا ہے۔ جو اصل مین اظہار کت مادی رشتوں کی ایک اعلی سظح پر ہوتا ہے۔بلکہ یہ معاشرتی تشکیل ہے ںظاموں کے اندر فرد کے اعمال کے ایک ضرورت ہے۔ جس کو التھیوز مجمر انفرادی موضوع تصور کرتے ہیں۔ شروع میں ان پر عمرانیات اور معاشیات کا گہرا اثر تھا جو بعد میں انسان دوستی اور مارکسی جہموریت میں تبدیل ھوگیا۔ وہ تجربیت کو بھی پسند کرتے ہیں یوں ان کا تعلق فرانس کے ساختیاتی دبستان سے منسلک ھوگیا۔ لیکن یہ حیرت کی بات ہے کی وہ ساختیاتی نظریے کے منکر ہیں۔ ١٩٤٦ میں التھیوز نے لیتھوینا کی ایک انقلابی خاتوں سے شادی کی جو عمر میں ان سے آٹھ (٨) سال بڑی تھیں۔ انکو ١٩٨٠ میں التھیوز نے گلا دبا کر قتل کردیا۔ قتل کی بعد وہ شدید زہنی دباؤ کا شکار ھوئے اور اپنی یادداشت کھو بیٹھےکے بعد سینٹ آنا نفسیاتی ہسپتال میں داخل کئے گئے۔ ١٩٨٠ کے بعد ان کا لوگوں سے ملنا ملانا تقریبا ختم ھو گیا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ اپنی سوانح عمری لکھنا چا رھے تھے مگر ان سے یہ کام نہ ھوسکا۔ التھیوز کا انتقال ٢٢ اکتوبر ١٩٩٠ میں ٧٢ سال کی عمر میں ھوا۔