مخدوم احمد غوث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث
دیگر ناممخدوم احمد غوث
ذاتی
پیدائش493ھ
دیوپال گڑھ (موجوددہ کوٹ کروڑ، پاکستان)
وفات579ھ
دیوپال گڑھ
مذہباسلام
دیگر ناممخدوم احمد غوث
مرتبہ
مقامکوٹ کروڑ ، پاکستان
دورپانچویں اور چھٹی صدی ہجری
پیشروشیخ سیّد جمال الدین سلیمان
جانشینمخدوم عبد الرشید حقانی
منصبقاضی القضاۃ ، سلطان

مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث (پیدائش: 493ھ — وفات: 579ھ) برصغیر کے عظیم روحانی بزرگ مخدوم عبد الرشید حقانی کے والد بزرگوار ہیں۔ آپ کوٹ کروڑ (سابقہ دیوپال گڑھ) کے قاضی القضاۃ اور عملدار کے منصب پر فائز تھے۔ آپ اپنی رحم دلی اور منصب پسندی کی وجہ سے عوام الناس میں معروف تھے۔ آپ کوٹ کروڑ کے معروف روحانی بزرگ تھے۔

ولادت با سعادت[ترمیم]

آپ 493ھ میں صوبہ ملتان کے قریب کوٹ کروڑ، لیہ میں ایک کامل بزرگ مخدوم الملک سیّدعلی قاضی بمقلب شیخ ابو بکرؒکے ہاں پیدا ہوئے۔

نسب[ترمیم]

آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ بنی ہاشم سے ہے۔آپ کے آباؤ اجداد خوارزم کے راستے غزنی سے سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان پر تیسرے حملے (1004ء) کے وقت یہاں تشریف لائے۔

ابتدائی تعلیم و تربیت[ترمیم]

مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث نے خالص علمی و روحانی اور صوفیانہ ماحول میں آنکھ کھولی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار مخدوم الملک سیّدعلی قاضی بمقلب شیخ ابو بکر سے حاصل کی۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث کے پردادا سلطان سیّد حسین شاہ خوارزمیؒ سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان پر تیسرے حملے (1004ء) کے وقت ہندوستان میں داخل ہوئے۔ سلطان محمود غزنوی سلطان سیّد حسین شاہ خوارزمیؒ سے بے حد عقیدت رکھتا تھا۔ سلطان سید حسین شاہ خوارزمی جس لشکر میں شامل تھے اس لشکر کی قیادت آپ کے چچا شیخ المشائخ سیّد شمس الدین خوارزمی کر رہے تھے۔ بعد ازاں کوٹ کروڑ فتح کرنے کے بعد سلطان محمود غزنوی نے یہ علاقہ سیّد حسین شاہ خوارزمی کی عملداری میں دیا اور خود دوسرے علاقوں کو فتح کرنے کی خاطر روانہ ہوا۔

ازواج[ترمیم]

خاندانی ملفوظات کے مطابق آپ نے دو شادیاں کیں۔ آپؒ کی پہلی شادی سیّدہ جنت جیلانی (سیّدہ فاطمہ الصغری) سے ہوئی۔ یہ بی بی غوث الاعظم شیخ سیّد عبد القادر الجیلانی کی نسل سے تھیں۔ سیّدہ جنت جیلانیؒ کے والد کا نام شیخ سیّد عیسی جیلانیؒ درج ہے جن کے متعلق درج ہے کہ وہ بی غوث الاعظم شیخ سید عبد القادر الجیلانی کے پوتے تھے۔ اور بعض ملفوظات کے مطابق یہ شیخ عیسی جیلانیؒ دراصل سیّد شرف الدین ابو محمد عیسی جیلانی تھے۔ مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث کی ان بی بی سے پانچ اولادیں ہوئیں۔ شرف الدین عیسیٰ کے بارے میں لوگوں میں مغالطہ ہے کہ وہ لاولد تھے، حالانکہ وہ صاحب اولاد تھے اور ان کی کنیت "ابو عبد الرحمن عبد اللہ" تھی۔

1) مخدوم سیّد عبد الرشید حقانی (مدفن مخدوم رشید، ملتان)
2) مخدوم سیّد عبد الرحمن شاہ (مدفن بستی بوسن، ملتان)
3) مخدوم سیّد طاہر شاہؒ المعروف بگا شیر (مدفن بستی بگا شیر، مظفر گڑھ)
4) مخدوم سیّد سعید الدین شاہ المعروف شیخ سادھن (مدفن ہیڈ محمد شاہ، مظفر گڑھ)
5) مخدومہ سیّدہ بصراں بی بی (مدفن قبرستان بی بی پاک دامنہ، ملتان) (زوجہ شیخ الاسلام مخدوم بہاؤ الدین شاہ زکریا)

مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث کی دوسری شادی سے آپ کے چار فرزند تولد ہوئے۔ ملفوظات مخدوم سلطان ایوب قتال میں آپ کی دوسری زوجہ کا نام موجود نہیں۔

1) سیّد پیر موسیٰ نواب المعروف نواب الاولیاء (مدفن سنجرپور، صادق آباد)
2) مخدوم سیّد داول دریا المعروف حاجی محمد شاہ (مدفن سنجرپور، صادق آباد)
3) مخدوم سیّد شہاب الدین شاہ المعروف ڈیڈھا لعل (بستی روہیلانوالی، مظفرگڑھ)
4) مخدوم سیّد علی شاہ المعروف ملاں فقیر (بستی ٹاٹے پور، ملتان)
ملفوظات نوابیہ (حالات و احوال پیر موسیٰ نواب) کے مصنف محمد عبد اللہ تونسوی نظامی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پیرسیّد موسیٰ نواب اور مخدوم سیّد داول دریا حضرت احمد غوث کی اول زوجہ سیّدہ جنت جیلانی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ جبکہ جامع الکرامات کے مؤلف شیخ شمس الدین لاہوری نے ان بزرگان کو حضرت احمد غوث کی دوسری زوجہ سے لکھا ہے۔ (ممکن ہے آپ کی سبھی اولاد ایک ہی بی بی سے ہو)۔

بہن/بھائی[ترمیم]

آپ کے صرف ایک ہی بھائی تھے مخدوم سیّد وجیہ الدین محمد غوث۔

طریقت[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم اور روحانی فیض اپنے پدر بزرگوار کے زیر سایہ ہی میں حاصل کیا۔ مکتوبات شیخ حسن دیپال پوری میں نقل ہے کہ مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوثؒ سلسلہ طریقت میں شیخ سیّد جمال الدین سلیمان کے حلقہ ارادت سے منسلک تھے۔ جامع الکرامات کی روایت ہے کہ ایک رات مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث نے اپنے والد بزرگوار مخدوم الملک سیّد علی کو دیکھا جنہوں نے ان سے فرمایا کہ اے فرزند تم شیخ سیّد جمال الدین سلیمان والد بزرگوار شیخ بابا فرید الدین گنج شکر کے پاس پہنچو اور اپنا فیضہ حاصل کرو۔ والد بزرگوار کا حکم پاتے ہی آپؒ اگلے دن صبح ملتان کے قریب قصبہ کھتووال کی طرف روانہ ہوئے جہاں شمس العارفین شیخ سیّد جمال الدین سلیمانؒ عہدہ قاضی پر فائز تھے۔ شیخ نے ملاقات کے بعد فرمایا: آپ مخدوم الملک حضرت سیّد سلطان علی کے فرمان کے مطابق اپنے حصے کے طلبگار ہیں؟ مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث نے فرمایا: آپ سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔ شیخ سیّد جمال الدین سلیمان نے فرمایا کہ میں آپ ہی کا منتظر تھا۔ آپ خاطر جمع رکھیں آپ کی امانت جو میرے پاس محفوظ ہے وہ آپ تک ضرور پہنچے گی۔ آپ نے شیخ سیّد جمال الدین سلیمان کے پاس دو سال قیام فرمایا اور خوب ریاضت کی اور اللہ نے انھیں بلند روحانی منصب سے نوازا۔ مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث روحانی کامیابیوں کے بعد اپنے آبائی علاقے پہنچے۔ آپ پر فقر غالب آچکا تھا اور آپ نے تمام عمر فقر کے رنگ میں گزاری اور ساتھ ساتھ قاضی کروڑ کے منصب پر رہتے ہوئے نظام حکومت بھی سنبھالا اور مخلوق خدا کو تعلیم بھی دیتے رہے۔

منصب[ترمیم]

سیّد وحید الدین احمد غوث کروڑی کے والد سیّد سلطان علی قاضی نے اپنی زندگی میں ہی احمد غوث کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا اور دیپال گڑھ کا نظم و ضبط سنبھالنے کی ذمہ داری آپکو دے دی تھی۔ آپ علاقہ میں نظم و ضبط قائم رکھنے اور لوگوں کی خدمت کی خاطر ہمیشہ مصروف رہتے تھے۔ جبکہ آپ کے برادر اصغر مخدوم سیّد وجیہ الدین محمد غوث اپنے والد کی خدمت میں رہتے تھے۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات چھیاسی سال کی عمر میں سنہ 579ھ میں کوٹ کروڑ کے مقام پر ہوئی اور آپ اپنے والد مخدوم الملک حضرت سیّد علی قاضی کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند اکبر مخدوم عبد الرشید حقانی صف ماتم پرسی پر بیٹھے۔ بلخ، بخارا، غزنی و دیگر علاقوں سے ماتمی خلعتیں ارسال ہوئیں اور آپ کو خاندانی روایات کے مطابق آپؒ کی دستار بندی ہوئی اور والد کی مسند پر بٹھایا گیا۔

مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث کی نسل آپ کے فرزندان مخدوم زماں مخدوم عبد الرشید حقانی، شمس المشائخ مخدوم داول دریا اور سلطان العارفین مخدوم علی شاہ سے جاری ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • جامع الکرامت، ملفوظات شیخ شمس الدین لاہوری و مخدوم سلطان ایوب قتالؒ۔
  • ملفوظات نوابیہ، مؤلف محمد عبد اللہ تونسوی نظامی۔
  • اولیاء کروڑ لعل عیسن، مؤلف مہر محمد تھند۔
  • احوال و آثار مخدوم المسلمین حضرت مخدوم عبد الرشید حقانیؒ۔
  • تاریخ لیہ، مؤلف مہر محمد تھند۔