مسجد حسن ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسجد حسن ثانی
Hassan II mosque, Casablanca2.JPG
مسجد حسن ثانی، کاسابلانکا
بنیادی معلومات
مقامFlag of Morocco.svg مراکش
مذہبی انتساباسلام
بلدیہکاسابلانکا
ضلعکاسابلانکا
کمشنریکاسابلانکا-انفا
ریاستکاسابلانکا
علاقہعظیم کاسابلانکا
ملکمراکش
سنہ تقدیس1993
مذہبی یا تنظیمی حالتزیر استعمال
حیثیتفعال
سربراہیشاہ حسن ثانی
تعمیراتی تفصیلات
معمارمائیکل پنسو (فرانس)
نوعیتِ تعمیرمسجد
طرز تعمیرعرب-اندلسی، مراکشی معماری
ٹھیکیداربوئگس
سنگ بنیاد12 جولائی 1986
سنہ تکمیل30 اگست 1993
تعمیری لاگت400–700 ملین امریکی ڈالر
تفصیلات
گنجائش105,000 (25,000 اندورنی، مزید 80,000 مسجد کے میدانوں میں)
گنبدOne
مینارایک
مینار کی بلندی210 میٹر (690 فٹ)
موادسیڈار وسطی اطلس سے
پتھر اغادیر سے
گرینائٹ تفراؤٹے سے[1]

منفرد طرز تعمیر کی حامل مسجد حسن الثانی مراکش کے شہر کاسابلانکا میں واقع ہے۔ اس مسجد کا ڈیزائن فرانسیسی ماہر تعمیرات مائیکل پنیسو نے تیار کیا۔ اس نے مسجد کے ڈیزائن کی تیاری میں اسلامی فن تعمیر سے مدد لی۔ مسجد میں ایک لاکھ سے زائد نمازیوں کی گنجائش ہے۔

یہ دنیا کی ساتویں بڑی مسجد ہے۔ اس کی تعمیر پر 80 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی۔ اس مسجد کا مینار دنیا کا سب سے بلند مینار ہے جس کی بلندی 210 میٹر(689 فٹ) ہے۔ اس مسجد کی تعمیر اس طرح کی گئی ہے کہ اس کا نصف حصہ سمندر سے حاصل کی گئی زمین پر اور نصف حصہ بحر اوقیانوس کی سطح پر ہے۔ اس کے فرش کا ایک حصہ شیشے کا ہے جہاں سے سمندر کا پانی دکھائی دیتا ہے۔

اسلامی فن تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ مسجد کئی جدید سہولیات سے بھی مزین ہے جن میں زلزلے سے محفوظ ہونا، سردیوں میں فرش کا گرم ہونا، برقی دروازے اور ضرورت کے مطابق کھولنے یا بند کرنے کے قابل چھت شامل ہیں۔

اس کا طرز تعمیر اسپین میں قائم الحمرا اور مسجد قرطبہ سے ملتا جلتا لگتا ہے۔ مسجد کے مینار سے سبز رنگ کی شعاع کا اخراج ہوتا ہے اور یہ شعاع نہایت دور سے دیکھی جا سکتی ہے اور اس سے شہر کے رہنے والوں کو قبلے کی سمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

مسجد کے تعمیراتی کام کا آغاز 12 جولائی 1986ء کو کیا گیا اور افتتاح سابق شاہِ مراکش حسن ثانی کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر 1989ء میں کیا جانا تھا لیکن مسجد کے تعمیراتی کام میں تاخیر کے باعث اس کا افتتاح 30 اگست 1993ء کو ہوا۔ مسجد کی تعمیر میں مراکش بھر کے 6 ہزار ماہرین نے 5 سال تک محنت کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پال کلیمر (1 فروری 2009). مراکش. LP. صفحات 105–. ISBN 978-1-74104-971-8. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 اکتوبر 2012. 

بیرونی روابط[ترمیم]