مظہر الدین مظہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مظہر الدین مظہر
ادیب
پیدائشی ناممحمد مظہر الدین
عرفیتحسان العصر
قلمی ناممظہر الدین مظہر
تخلصمظہر
ولادت1914ء ستکوہا امرتسر
ابتداقادیان، ہندوستان
وفات22 مئی1981ء لاہور (پنجاب)
اصناف ادبشاعری
ذیلی اصنافغزل، نعت
تعداد تصانیف10
تصنیف اولخاتم المرسلین
تصنیف آخرمیزاب
معروف تصانیفخاتم المرسلین ، شمشیر و سناں ، حرب و ضرب ،تجلیات ،جلوہ گاہ،باب جبریل ،میزاب ،نشانِ راہ،نورو نار، وادیٔ نیل
ویب سائٹ/ آفیشل ویب سائٹ

حافظ محمد مظہر الدین مظہردور حاضر کے بڑے نعت گو شاعر اور ادیب جنہیں’’حسان العصر‘‘ کہا جاتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

حافظ مظہر الدین بن مولانا نواب الدّین رام داسی 1332ھ / 1914ء میں بمقام ستکوہا امرتسرنزد قادیان (ہندوستان) ارائیں خاندان کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

آپ کے والد بڑے عالم دین تھے اور حافظ مظہر الدین کی ولادت سے قبل اپنے وطن قصبہ رمداس ضلع امر تسر سے نقل مکانی کر کے موضع ستکوہا میں سکونت پزیر ہوئے۔ علمی حلقوں میں نواب الدین کو فاتح قادیان کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

حافظ محمد مظہر الدین کو والد ماجد نے بچپن میں انہیں ریاست پٹیالہ بھیجا اور قرآن پاک حفظ کرایا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم موضع ستکوہا میں اپنے والد اور مشہور نعت گو شاعر امیر مینائی کے شاگرد صوفی عبد الرزاق رامپوری سے حاصل کی۔علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) اور دار العلوم دیوبند میں کچھ عرصہ حصولِ علم کے بعد آپ نے تکمیلِ درسیات کے لیے ابوالبرکات سیّد احمد کے سامنے زانوئے تلّمذ تہ کیا اور علومِ اسلامیہ کی تکمیل پر دار العلوم حزب الاحناف لاہور سے سندِ فراغت حاصل کی۔

بیعت وخلافت[ترمیم]

1929ء میں آپ نے خواجہ سراج الحق کرنالی کے دستِ پر بیعت کی اور بعد ازاں والد سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ قادریہ میں خلافت کا شرف حاصل کیا۔ خواجہ سراج الحق سے آپ کے والدین کوبیعت کی اجازت حاصل تھی

علمی خدمات[ترمیم]

حافظ مظہر الدین دورِ حاضر کے عظیم نعت گو شاعر، بلند پایہ عالمِ دین اور مشہور و معروف صاحبِ قلم ہیں اسلامی اسکالر اور کالم نگار کی حیثیت سے خاص حلقوں میں شناخت رکھتے ہیں۔ آپ کے علمی و ادبی مضامین، روز نامہ ’’کوہستان‘‘ اور روز نامہ ’’ندائے ملّت‘‘ میں مسلسل چھپتے رہے ہیں۔۔ بالخصوص آپ کی کہی ہوئی نعتیں خاصی مقبول ہوئیں۔ آپ کومشہور نغمہ’’میرے کشمیر ۔۔۔ میرے وطن تیری جنّت میں آئیں گے اِک دن۔۔۔‘‘ آپ کی شناخت بنا۔

وفات[ترمیم]

حافظ مظہر الدین مظہر کی وفات 22مئی 1981ء کو ہوئی

تصنیفات[ترمیم]

  • 1۔ خاتم المرسلین (1937ء میں شائع ہوئی)
  • 2۔ شمشیر و سناں (قومی نظمیں)
  • 3۔ حرب و ضرب (قومی نظمیں)
  • تجلیات (نعتیہ مجموعہ)
  • جلوہ گاہ (نعتیہ مجموعہ)
  • بابِ جبریل (نعتیہ مجموعہ)
  • میزاب (نعتیہ مجموعہ)
  • نشانِ راہ (نعتیہ مجموعہ)
  • نورو نار (نعتیہ مجموعہ)
  • 10۔ وادیٔ نیل (جرجی زیدان کے ناول کا اُردو ترجمہ )[1]

حوالہ جات[ترمیم]