ملوینا ڈین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ملوینا ڈین
اپریل 1999ء میں ملوینا ڈین ساؤتھمپٹن میں "ٹائیٹینک" کنونشن میں آٹوگراف پر دستخط کرتی ہوئی
اپریل 1999ء میں ملوینا ڈین ساؤتھمپٹن میں "ٹائیٹینک" کنونشن میں آٹوگراف پر دستخط کرتی ہوئی

معلومات شخصیت
پیدائش 2 فروری 1912  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 31 مئی 2009 (97 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات نمونیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United Kingdom.svg برطانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والدین برٹرم فرینک ڈین
جارجٹ ایوا لائٹ
رشتے دار برٹرم ڈین

الزبتھ گلیڈیس ملوینا ڈین (انگریزی: Elizabeth Gladys Millvina Dean) ‏ (2 فروری 1912ء -31 مئی 2009ء) ایک برطانوی سرکاری ملازمہ اور نقشہ نگارہ تھی وہ ٹائی ٹینک کے بچ جانے والے مسافروں میں آخری تھی [2]۔ صرف دو ماہ کی عمر میں وہ ٹائی ٹینک جہاز پر سوار کم عمر ترین مسافر تھی۔ [3]

خاندان[ترمیم]

ملوینا ڈین Branscombe، انگلستان میں برٹرم فرانک ڈین (1887-1912) اور جارجٹ ایوا لائٹ (1879-1975) کے ہاں پیدا ہوئی تھی۔ ان کا ایک بھائی برٹرم ویر ڈین (پیدائش 21 مئی 1910) بھی تھا۔ ملوینا ڈین نے کبھی شادی نہیں کی اور ان کے کوئی بچے نہیں تھے۔ .[4] ملوینا ڈین کے والد ٹائی ٹینک میں جاں بحق ہوئے جبکہ ان کی والدہ نے 96 سال کی عمر میں 16 ستمبر 1975ء کو وفات پائی ان کے برادر نے 14 اپریل 1992ء (کو ٹائی ٹینک جہاز کے برف کے تودے سے ٹکرانے کی 80ویں سالگرہ والے دن) کو 81 سال کی عمر میں وفات پائی۔

ٹائی ٹینک پر سواری[ترمیم]

ملوینا ڈین کے والدین نے انگلستان کو چھوڑ کر ویچیتا، کنساس ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں ان کے والد کے رشتےدار رہتے تھے وہاں ان کے والد کا ایک کزن بھی تھا جس کی تمباکو کی دکان تھی جس میں وہ حصہ ڈالنے جارہے تھے۔ [5] ملوینا ڈین کے والدین ٹائی ٹینک سے سفر نہیں کرنے والے تھے لیکن کوئلے کی ہڑتال کی وجہ سے انہیں Southampton, England میں ٹائی ٹینک میں بطور تھرڈ کلاس مسافروں کے منتقل کردیا گیا۔ ملوینا ڈین اس وقت بمشکل دو ماہ کی تھی جب وہ جہاز پر سوار ہوئی تھی۔ ان کے والد کو 14 اپریل 1912ء کی رات کو کو برفانی تودے کے ساتھ جہاز کی ٹکر کا احساس ہوا، تصدیق کے بعد وہ کیبن لوٹے جہاں پر اس نے اپنی بیوی کو بچوں سمیت تیاری کر کے اوپر ڈیک (تختہ جہاز؛ جہاز کی چھت) پر پہنچنے کی ہدایت کی۔ ملوینا ڈین اپنی والدہ اور بھائی سمیت لائف بوٹ 10 میں بیٹھ کر بچنے میں کامیاب ہوگئے [i] تاہم اسکے والد نہیں بچ پائے، اسکی لاش کی اگر بازیابی ہو بھی گئی ہوگی تو شناخت نہیں ہوسکی۔

انگلستان واپسی[ترمیم]

مِلوینا (دائیں) اور برٹرم

پہلے ملوینا کی والدہ نے اپنے شوہر کے ساتھ کنساس امریکہ میں جاکر ایک نئی زندگی شروع کرنے کی خواہش کی تھی تاہم اسے کھونے اور دو بچوں کے ساتھ تنہا رہ جانے پر وہ انگلستان واپس سانچہ:RMS جہاز پر لوٹ آئی۔

تعلیم اور پیشہ[ترمیم]

ملوینا اور برٹرم پنشن فنڈز پر Southampton میں پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی۔ ملوینا ڈین کو آٹھ سال کی عمر میں بتایا گیا کہ وہ ٹائی ٹینک پر سوار ایک مسافر تھی جب اسکی والدہ دوبارہ شادی کا سوچ رہی تھی۔ ملوینا ڈین نے جنگ عظیم دوم کے دوران برطانوی حکومت کے لیے کام کرتی رہی۔ اسکے بعد وہ مقامی انجینئرنگ فرم کے لیے بطور پرچیزر بھی کام کرتی رہی۔ اسکے علاوہ وہ ایک نقشہ نگار، سیکرٹری اور اسسٹنٹ ٹوباکونسٹ کے طور پر بھی کام کرتی رہی۔

خراب صحت اور موت[ترمیم]

اپریل 2008ء میں ملوینا ڈین نے Southampton میں ٹائی ٹینک کی 96ویں سالگرہ پر منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا لیکن سانس کے انفیکشن اور خراب صحت کی وجہ سے بعد میں شرکت منسوخ کرنا پڑی۔[6]

دسمبر 2008ء میں 96 سال کی عمر میں ملوینا کو کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ اور طبی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مجبوراً اپنے خاندان کا سامان فروخت کرنا پڑا۔ ان میں ان کی والدہ کو "ٹائی ٹینک ریلیف فنڈ" کی جانب سے دیا گیا خط اور ایک سوٹ کیس جو انہیں جہاز ڈوبنے پر نیویارک میں دیا گیا تھا شامل تھے۔ اس فروخت سے انہیں تقریباﹰ 32000£ پاؤنڈز حاصل ہوئے۔ فروری 2009ء میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مزید متعدد اشیاء فروخت کرے گی تاکہ اپنی طبی اخراجات کو پورا کرسکے جو ان کے مطابق 3000£ پاؤنڈز ماہانہ سے تجاوز کر گئے تھے۔[7]

97 سال کی عمر میں ملوینا ڈین 31 مئی 2009ء کو نمونیا کی وجہ سے Ashurst کے ایک کیئر ہوم میں وفات پا گئی۔[3][8] ملوینا ڈین کی چتا کو 24 اکتوبر 2009ء کو جلایا گیا، اس کی راکھ کو کو ایک لانچ کی مدد سے Southampton میں بکھیر دیا گیا جہاں سے ٹائی ٹینک روانہ ہوا تھا۔[9]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  • i The first third-class passenger to escape the ship was Fahim Leeni in Boat 6۔ Neshan Krekorian and Florence "Kate" Thorneycroft were two fellow third-class passengers who escaped in Boat 10 with the Deans.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://news.bbc.co.uk/1/hi/england/hampshire/8070095.stm
  2. Last Titanic survivor, a baby put in a lifeboat, dies at 97 The Guardian۔ Retrieved 31 March 2012
  3. ^ 3.0 3.1 "Last Titantic survivor dies aged 97"۔ BBC News۔ 31 May 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 May 2009۔ 
  4. ion/index.html "Sale fails to bail out last Titanic survivor"۔ CNN۔ 20 April 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 May 2009۔ 
  5. "Mr Bertram Frank Dean – Titanic Biography"۔ Encyclopedia Titanica۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 May 2009۔ 
  6. Keith Hamilton (9 April 2008)۔ "Millvina Dean to miss Titanic commemorations"۔ Southern Daily Echo۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 May 2009۔ 
  7. Linda McKee (6 February 2009)۔ "Titanic sale survivor sells memorabilia"۔ Belfast Telegraph۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 May 2009۔ 
  8. Burgess، Kaya (1 June 2009)۔ "Millvina Dean, last remaining survivor of the Titanic, dies aged 97"۔ The Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 October 2009۔ 
  9. "Ashes of last Titanic survivor scattered"۔ The Belfast Telegraph۔ 24 October 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 October 2009۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]

اعزاز و القاب
پیشرو 
Barbara Dainton
Oldest living survivor of the RMS Titanic
16 اکتوبر 2007 – 31 مئی 2009
Last remaining survivor

سانچہ:Titanic last survivors