ممتاز حسن قزلباش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ممتاز حسن قزلباش
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1897  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آگرہ، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 اپریل 1964 (66–67 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، سفارت کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مرزا ممتاز حسن قزلباش (پیدائش: 1897ء - وفات: میں 4 اپریل 1964ء) آئی سی ایس افسر، سفارت کار، پاکستانی سیاستدان، ریاست خیرپور کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ اور مغربی پاکستان کے سابق وزیر تھے۔ریاست خیرپور کا پاکستان سے الحاق بھی انہیں کی کوششوں سے ہوا۔

حالات زندگی[ترمیم]

ممتاز حسن قزلباش 1897ء میں آگرہ، اترپردیش ) کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایم اے او کالج علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ الٰہ آباد سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔وہ پراونشل سول سروس میں شمولیت کے بعد صوبہ یو پی کے متعدد انتظا می عہدوں پر فائز ہوئے۔ انہیں صوبہ یو پی کی گورنمنٹ نے کونسل آف اسٹیٹس میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا، جہاں ممتاز حسن قزلباش نے صوبہ اتر پردیش کے لئے دیہی زرعی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کی اسکیمیں متعارف کرائیں اور انہیں نافذ کرایا۔ 1938ء سے 1944ء تک ممتازحسن قزلباش نے دہلی میونسپل کمیٹی کے سیکریٹری کی خدمات بھی بڑی کامیابی اور نیک نامی کے ساتھ انجام دیں۔ ان خدمات کے اعتراف کے طور پر برطانوی ہند حکومت نے انہیں آئی سی ایس کے سنیئر گریڈ میں ترقی دے کر کابل میں کمرشل اتاشی مقرر کردیا۔قیام پاکستان کے بعد افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے میں ناظم الامورکے عہدے پر کچھ عرصہ فائز رہنے کے بعد حکومت پاکستان نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے حکم سے انہیں خیرپور ریاست بھیج دیا جہاں وہ کچھ عرصے بعد ریاست خیرپور کے وزیر اعلیٰ مقرر کئے گئے۔ پھر خیرپور اسٹیٹ لیجسلیٹو اسمبلی انٹرم کانسٹی ٹیوشن ایکٹ نمبر (6) 1953ء کے تحت ریاست خیرپور میں پہلے انتخابات ہوئے جس میں مرزا ممتاز حسن قزلباش مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور انہیں ریاست خیرپور کا پہلاوزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ 30 جنوری 1954ءمیں ریاست خیرپور میں دوسرے عام انتخابات ہوئے جس میں ممتاز حسن قزلباش نے ایک بار پھر مسلم لیگ پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور مسلسل دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ریاست خیرپور کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں ممتاز حسن قزلباش کی کوششوں کا بڑا عمل دخل تھا۔ ان کے دورِ حکمرانی میں ریاست کا بجٹ سہ چند ہوگیا۔ ان کی اصلاحات سے ریاست خیرپور کی فی کس آمدنی میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا۔ حرام اشیاءکی تجارت پر پابندی،ریاست خیرپور کے آئین کا نفاذ، جمہوری حکومت کا قیام، خیرپور ٹیکسٹائل مل کا سنگ بنیاد، ٹول ٹیکس کا خاتمہ، ہفت روزہ مراد کا اجرا، سیکڑوں نئے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا قیام، چھ سال سے بارہ سال تک کی عمر کے بچوں کی لازمی تعلیم ایکٹ کا نفاذشامل ہیں۔ 1952ءمیں منعقدہ پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس نے ممتاز حسن قزلباش کو اپنا صدر منتخب کیا۔ وہ پاکستان کی دستو ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے اور 1956ء میں مغربی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن اومغربی پاکستان کی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ ریاست خیرپور کا پاکستان سے الحاق بھی انہیں کی کوششوں سے ہوا۔ ممتاز حسین قزلباش 4 اپریل 1964ء میں مدینہ منورہ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور مدینہ منورہ ہی میں آسودہ خاک ہوئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]