منہالہ خان خاناں
منہالہ یا منہالہ خان خاناں (انگریزی: Manhala) لاہور میں عبد الرحیم خان خاناں کا آباد کردہ تاریخی قصبہ ہے۔ جو لاہور کے مشرق میں بھارت پاکستان سرحد کے قریب واقع ہے۔
| منہالہ | |
|---|---|
| شہر | |
| پاکستان میں محل وقوع | |
| متناسقات: 31°31′44″N 74°32′36″E / 31.5288°N 74.5433°E | |
| ملک | |
| صوبہ | پنجاب |
| ضلع | لاہور |
| تحصیل | واہگہ ٹاؤن |
| رقبہ | |
| • کل | 2,100 ہیکٹر (5,300 ایکڑز) |
| منطقۂ وقت | PKT (UTC+5) |
گاؤں ہے یا شہر
[ترمیم]منہالہ کہنے کو نہ تو شہر ہے اور نہ گاؤں بلکے یہ ایک بڑا قصبہ ہے۔ یہاں شہروں جیسی ہر سہولت موجود ہے۔ درجنوں سرکاری و نجی سکولز کئی چھوٹے بڑے کلینک اور انسانوں اور جانوروں کے سرکاری ہسپتال، منہالہ روڈ کے اطراف پھیلا ہوا وسیع بازار ، بينک اور پولیس سٹیشن۔ منہالہ لاہور کے بی آر بی نہر کے مشرقی 85 دیہات میں سب سے بڑا قصبہ ہے۔
منہالہ قصبہ جس کا نام عبد الرحیم خان خاناں کی وجہ سے پڑا اور بعد میں سندھو جٹوں کی ملکیت بنا اب ایک گاؤں نہیں بلکے عظیم قصبے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
محل وقوع
[ترمیم]منہالہ لاہور کے مشرق میں پاک و ہند سرحد(زیرو لائن) کے قریب واقع ایک اہم کاروباری مقام (کمرشل حب) ہے۔
منہالہ اپنے اردگرد موجود تقریباً 25 دیہات کے لیے ایک مرکزی تجارتی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے ان دیہاتوں کو روزمرہ زندگی کی اشیاء فراہم کی جاتی ہیں۔
یہ قصبہ مغلیہ دور حکومت کی قدیم شاہراہِ اعظم (Grand Trunk Road) پر واقع تھا، جو انگریز دور میں واہگہ کی طرف نئی سڑک بننے سے پہلے لاہور کو دہلی سے جوڑنے والا اصل راستہ تھا۔[1] گاؤں کے مضافات میں مغل دور کا ایک مستند منہالہ کوس مینار آج بھی موجود ہے، جو اس قدیم "بادشاہی سڑک" پر فاصلے کی پیمائش اور مسافروں کی رہنمائی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ کوس مینار اس تاریخی روٹ کا زندہ ثبوت ہے۔[2]

بھارتی سرحد یہاں سے محض چار کلو میٹر، مشرق میں ہے، جبکہ برکی یہاں سے چند کلو میٹر مسافت پر ہے ہے۔
منہالہ قصبے کے پڑوس میں قلعہ جیون سنگھ، بھینی سندھواں، پڈے، موجوکی، للوہ، کرنکے، سوئیاں، چھنکونڈی، کوہریاں ، گارد، پدری، نواں پنڈ گجراں، نتھوکی اور نروئڑ جیسے دیہات ہیں۔
تاریخ
[ترمیم]منہالہ قصبہ کی بنیاد مغل شہنشاہ اکبر کے دور کے نامور وزیر اور نورتن، عبدالرحیم خان خاناں نے رکھی تھی۔ خانِ خاناں نے اس مقام کی اہمیت (قدیم شاہراہِ اعظم پر واقع ہونے) کی وجہ سے یہاں ایک بستی بسائی۔ عوامی سہولت کے لیے انھوں نے یہاں مسافروں کے لیے سرائے، کنواں اور ایک مسجد تعمیر کروائی۔جسے منہالہ شاہی مسجد کہا جاتا ہے۔ ان یادگار تعمیرات اور عبد الرحیم خان خاناں سے منسوب ہونے کی وجہ سے اس گاؤں کا نام "منہالہ خان خاناں" یا "سرائے خان خاناں" مشہور ہو گیا۔[3]

کچھ عرصے کے بعد، اس علاقے کے پنجاب میں ماجھے کے خطے میں ہونے کی وجہ سے اس گاؤں کی ملکیت اور انتظام میں تبدیلیاں آئیں اور یہ سندھو جٹ قبیلے کے ایک سردار کے زیرِ اثر آ گیا۔ تاریخی روایت اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق، ماضی میں منہالہ کا کل رقبہ تقریباً 12 ہزار ایکڑ (بشمول ملحقہ 10 سے 12 دیہات) پر محیط تھا، جو ایک سندھو سردار کی ملکیت تھا۔
منہالہ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ وہ تھا جب مذکورہ سندھو سردار کے تین بیٹوں میں سے چھوٹے نے اسلام قبول کر لیا، جس کی اولاد آج بھی مصور (MASOOR) سندھو جٹ کہلانے لگی۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت، منہالہ کے سندھوؤں کے مسلم اراکین نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا اور منہالہ میں ہی آباد رہے، جبکہ دوسرے سندھو سکھ اراکین بھارت ہجرت کر گئے۔ آج مصور سندھو جٹوں کی آبادی اس قصبے میں کافی تعداد میں موجود ہے اور وہ اس تاریخی ورثے کے امین ہیں۔[4]
موجودہ دور میں منہالہ کا رقبہ تقریباً 5200 ایکڑ کے قریب ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے نئے دیہات ،موضع جات کی شکل میں اس سے علاحدہ ہو گئے۔[1]

