منیر لاہوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابوالبرکات منیر لاہوری، معروف بہ ملا منیر لاہوری، 12 رمضان 1019 ہجری بمطابق 28 نومبر 1610 عیسوی کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ عموماً ان کا شمار عہدِ شاہجہانی کے دوران لاہور سے تعلق رکھنے والے تین بزرگ شعرا میں ہوتا ہے۔

خاندان[ترمیم]

ابو البرکات منیر جس خاندان سے تعلق رکھتے تھے، وہ خاندان اپنے لطیف شعری ذوق، تہذیبی نفاست اور تقوے کے لیے مشہور تھا۔ اُن کے والد مشہور خطاط تھے جنہیں اکبر نے ملازمت میں رکھا تھا۔

ذاتی حالات[ترمیم]

ابوالبرکات نے چودہ سال کی عمر میں منیر بطور تخلص منتخب کیا اور اپنی شاعر کے طور پر زندگی کا آغاز کیا۔ اُن کی ابتدائی تخلیقات زیادہ تر فلکی، سنائی اور انوری کے اشعار کی تقلید پر مشتمل تھیں۔ 1635ء میں وہ اکبرآباد کے حاکم اور ملکہ ممتاز محل کے برادرِ نسبتی سیف خان کی خدمت میں آئے۔ اُن کے اپنے مطابق، سیف خان کی ادبی مجالس کے علما نے اُن کا اچھا استقبال کیا۔

1639ء میں اپنے مربی کی وفات کے بعد منیر نے حاکمِ جونپور کے دربار سے وابستگی اختیار کی، لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ اکبرآباد لوٹ گئے، جہاں کے درباری شعرا کے خصوصی حلقے میں وہ شامل کر لیے گئے۔ 7 رجب 1054ھ بمطابق 9 ستمبر 1644ء کو اُن کا جوانی ہی میں انتقال ہو گیا اور وہ لاہور میں دفنائے گئے۔

شاعری[ترمیم]

منیر کثیر گو شاعر تھے اور اُنہوں نے ایک لاکھ اشعار کہنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اُنہوں نے شاعری کی تقریباً تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ہے، لیکن اُن کی شہرت کا سبب بنیادی طور پر اُن کی مثنویاں ہیں، جن میں سوادِ اعظم، مظہرِ گل، آب و رنگ، ساز و برگ، میخانہ و مرآۃ الخیال اور بیت المعمور کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے سب سے مشہور مثنوی مظہرِ گل ہے، جسے مثنوی در صفات بنگالہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
1639ء میں ایک ہی ہفتے میں مکمل ہونے والی اس مثنوی میں بنگال کی آب و ہوا اور ماحول کا وضاحت سے نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس مثنوی میں بنگال کی تعریف کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں شاعر کی اس خطے سے ناپسندیدگی کے بھی لطیف اشارے ملتے ہیں۔ لکھنؤ میں یہ مثنوی 1889ء میں پہلی بار شائع ہونے کے بعد اب تک کئی بار شائع ہو چکی ہے۔
منیر کی اپنی اشعار کے بارے میں اعلیٰ رائے سے اُن کے معاصرین بھی متفق نظر آتے ہیں۔ چندربھان برہمن نہ صرف اُنہیں اُس دور کے سب سے زیادہ قابل شاعر سمجھتے تھے، بلکہ اُن سے اپنے اشعار کی اصلاح بھی لیا کرتے تھے۔ جبکہ محمد صالح کمبوہ نے منیر کی مدح سرائی یہ کہہ کر کی ہے کہ فیضی کے بعد منیر ہی وہ شاعر ہیں جنہیں تمام اصنافِ شاعری پر یکساں عبور حاصل ہے۔ منیر کی شاعرانہ مہارت اُن صنائعِ لفظی و معنوی کے عمدہ استعمال پر قائم ہے جو سبکِ ہندی کی خصوصیات سمجھے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ یامین خان نے اپنی کتاب تاریخِ شعر میں منیر کو سبکِ ہندی میں جدت لانے والا شاعر بتایا ہے۔

نثری نگارشات[ترمیم]

اپنے نثری اسلوب میں منیر نے شعوری طور پر ابو الفضل کی تقلید کرنے کی کوشش کی، البتہ اُنہیں ابوالفضل جیسی کامیابی نہ مل سکی۔ اُن کی اہم نثری نگارشات مندرجہ ذیل ہیں:

  1. انشائے منیر؛ یہ کتاب مسجع و مقفیٰ نثر میں لکھے گئے منیر کے رقعات اور پچپن خطوط کا مجموعہ ہے۔
  2. رقعاتِ منیر
  3. نوبادہ
  4. کارستان؛ آراستہ نثر میں ایک رومانی داستان جس میں خیالی شہزادے والہ اختر اور اُس کے کارناموں کا احوال ہے۔ یہ کتاب 1640ء میں جونپور میں مکمل ہوئی تھی اور شاہجہاں کے نام منسوب کی گئی تھی۔
  5. تذکرۂ شعرا؛ اس میں شعرا کی سوانح اور اُن کی شاعری کا تنقیدی جائزہ ہے۔
  6. شرحِ قصائدِ عرفی
  7. کارنامہ؛ 1640ء میں لکھا گیا ایک رسالہ جس میں عرفی، ظہوری، زلالی اور طالب آملی کی شاعری میں نقص نکالے گئے ہیں۔

منیر لاہوری کی تصنیفات کی معاصرانہ اور مسلسل اہمیت کے باوجود اُن کی زیادہ تر کتب تا حال مخطوطوں کی شکل میں ہیں اور اشاعت کی منتظر ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

ابوالبرکات لاہوری