میاں محمد عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میاں محمد عمر المعروف چمکنی بابا لہ مسجد

میاں محمد عمر المعروف چمکنی بابا موضع چمکنی پشاور کے معروف بزرگ ہیں۔

ولادت و نسب[ترمیم]

آپ کی ولادت 1084ھ 1673ء اسم شریف میاں محمدعمر، والد کا نام ابراہیم خان، دادا کا نام کلاخان ہے۔ پشاورشہر کے علاقہ میں عموماً اور دوسرے شہروں میں خصوصاً میاں صاحب چمکنی شریف کے نام سے مشہور ہیں۔

القابات[ترمیم]

ان کے القاب مؤرخ عظیم، شیخ المشائخ، عمدۃ العلماء، قدوۃ الفضلاء اور غوث زمان ہیں۔

پرورش[ترمیم]

میاں صاحب کی پرورش آپ کی والدہ صاحبہ کے زیر سایہ آپ کے نانا ملک سعید خان نے باحسن وجود سر انجام دی۔ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد اسی علاقہ کے اکابر مشائخ اور علما کی صحبت میں رہ کر دینیات کی تکمیل کر لی۔

بیعت و ارادت[ترمیم]

اگرچہ آپ کی محبت اور ارادت شیخ سعدی لاہوری سے بدرجہ کمال تھی، مگر آپ سرالاعظم شیخ یحییٰ المعروف اٹک حضرت جی سے بیعت تھے اور حضرت جی شیخ سعدی لاہوریکے دست گرفتہ تھے۔ شیخ سعدی لاہوری آدم بنوری کے مرید تھے اور آدم بنوری، مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے مرید و خلیفہ تھے۔ آپ نے تکمیل سلوک کے بعد مسند ارشاد کو زینت بخشی، تبلیغ اسلام، اشاعت علوم اسلامیہ اور سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج میں مصروف ہو گئے۔ گرد ونواح کے شہروں اور بستیوں میں دورے کرتے اور ’’ امر باالمعروف ‘‘ ’’ نہی عن المنکر‘‘ فرماتے۔ تمام اوقات عبادت الٰہی اور اللہ کی مخلوق کی خدمت میں بسر کرتے۔ لنگر جاری کیا، ہر آنے جانے والوں کو لنگر سے کھانا ملتا۔ مسافر کی اثنا سفر کی ضرورت بھی مہیا فرماتے۔ تقریباً پانچسو کے قریب افراد روزانہ دونوں وقت کا لنگر سے کھاتے۔ امرا ء اور غربا یکساں آپ کی صحبت سے فیض حاصل کرتے۔ آپ کی خانقاہ باقاعدہ طور پر سلوک و معرفت کی ایک درسگاہ تھی، جس میں حسب توفیق ہر ایک صاحب معرفت بن کر مخلوق خدا کی ہدایت میں مصروف ہوجاتا۔

اساتذہ کرام[ترمیم]

مولینا محمد فاضل صاحب پاپینی (نگ رہار)، شیخ فریدساکن موضع اکبر پورہ ضلع پشاور، مولینا حاجی محمد امین ساکن پشاور چھاؤنی، صدیقی نقشبندی،شیخ المشائخ عبد الغفور صاحب نقشبندی اور محمد یونس (جن کا مزار موضع طور ومعیار ضلع مردان میں واقع ہے) آپ کے اساتذہ کرام میں سے ہیں۔ ان حضرات عالی مرتبت سے آپ نے علوم متداولہ کی تکمیل کی۔

تصنیفات[ترمیم]

  • میاں محمد عمر نے ایک ضخیم کتاب بنام خزینۃ الاسرار یا سر الاسرار تقریباً نو سو صفحات پر فارسی میں لکھی ہے۔ اس میں آپ نے حاجی شیخ سعدی لاہوری کے ساتھ اپنی ارادت کا مفصل بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں اپنے مشائخ کا تذکرہ اور علم تصوف کو لکھا ہے۔ یہ کتاب بہت ہی نایاب ہے۔
  • خلاصہ کیدانی فقہ حنفی کی ایک متداول کتاب ہے جس میں نماز کا مکمل طریقہ ہے۔ آپ نے نہایت ہی تفصیل کے ساتھ اس کا پشتو نظم میں ترجمہ کیا۔ جس کا نام ’’ توضیح المعانی ‘‘ ہے۔
  • حضور ﷺ کے شمائل مبارکہ پر ایک کتاب ’’شمائل النبی ﷺ‘ ‘ لکھی۔

عادات و خصائل[ترمیم]

آپ انتہائی سادگی اور بے ریا زندگی بسر کرتے۔ عموماً روزہ سے ہوتے اور اگر کبھی کبھار افطار بھی کرتے تو بہت ہی کم کھاتے۔ بغیر ضرورت کے گفتگو نہ فرماتے۔ انتہائی درجے کے متبع سنت تھے۔ حضور اکرم سید دو عالم ﷺ کی زندگی مبارک کی عملی تفسیر تھے۔ آپ کی صحبت بابرکت میں بڑے بڑے اعاظم علما اور فقہا انتہائی ارادت سے آتے اور اپنی اس حاضری کو سعادت اخروی و دنیوی کا سبب سمجھتے، یہاں تک کہ آپ سے بیعت ہو کر صاحب مجاز بھی ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ آپ نے طریقہ نقشبندیہ کو اپنی زندگی کا مقصد اور وظیفہ بنا رکھا تھا۔ آپ نے تحریر کے ذریعہ بھی مذہب و قوم کی خدمت کی، جو آج تک رہنمائی کرتی ہے۔

کرامات[ترمیم]

آپ کی کرامات بے حد وحساب ہیں، آپ کے مریدین میں ’’ لوئے بابا‘‘ احمد شاہ ابدالی بھی تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب احمد شاہ ابدالی’’ لوئے بابا‘‘ ہندوستان پر حملہ آور ہونے کے لیے آپ سے طالب دعا ہوا، تو آپ نے فرمایا کہ ’’ ہمراہ خود ہمہ وقت مرا پنداری‘‘ یعنی مجھے ہر وقت اپنے ساتھ تصور کرنا۔ ادھر ’’لوئے بابا‘‘ لڑتا اور آپ ایک قینچی لے کر چمکنی کے کسی ایک باغ میں داخل ہو کر پتوں کو کاٹتے رہتے۔ ’’لوئے بابا‘‘ کہتے تھے کہ جس طرف بھی جہاد میں منہ پھیرتا مجھے حضرت صاحب موصوف کافروں کے ساتھ لڑتے ہوئے نظر آتے۔ اس وقت بھی آپ کی یہ زندہ کرامت ہے کہ جس شخص کے بدن کے کسی مقام پر درد ہو وہ آپ کے مزار مبارک پر حاضر ہوتا ہے۔ اللہ آپ کی برکت اور طفیل سے اس کو شفا مرحمت فرماتا ہے اور سینکڑوں لوگ روزانہ حاضری دیتے ہیں۔ پشاور شہر کے علاقہ میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔

خلفاء[ترمیم]

آپ کے خلفاء بھی اسی طرح صاحب علم، صاحب سلوک و معرفت اورصاحب تحریر ہوئے۔ ویسے تو آپ کے کافی خلفاء ہوئے ہیں مگر چند ایک نام یہ ہیں۔

  1. آخوند ملا عبد الحکیم موضع گجر گڑھی ضلع مردان
  2. آخوند زادہ حاجی فضل اللہ موضع آگرہ، تحصیل چارسدہ ضلع پشاور
  3. محمدی صاحبزادہ یہ آپ کے فرزند عزیزہیں۔ آپ بہت ہی عالم وفاضل تھے۔ آپ نے ’’مقاصد الفقہہ‘‘نامی کتاب اور ’’ درود منظوم‘‘ لکھا ہے۔ نیز برھان الاصول (اصول فقہ) عربی
  4. عبید اللہ میاں گل آپ بھی آپ کے فرزند ہیں۔ اور صاحب تصنیف عالم ہیں۔ پشتو میں ’’عبرت نامہ ‘‘ نامی کتاب لکھی ہے۔
  5. قاضی آخوند عبد الرحمن پشاو رشہر
  6. ارباب معز اللہ خان موضع سربند
  7. آخوند حافظ شیر محمد بازار احمد خان شہر بنوں۔
  8. محمد آخوند زادہ موضع رستم علاقہ سدوم
  9. نور محمد قریشی نوے کلی تھانہ، مالا کنڈ ایجنسی
  10. احمد شاہ ابدالی (لوئے بابا)۔ بادشاہ درانی

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات رجب المرجب 1190ھ 1776ء میں واقع ہوئی اور موضع چمکنی میں جو شاہی سڑک پر پشاور سے تین میل دور واقع ہے، آپ کا مزار ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علما و مشائخ سرحد جلد اوّل، صفحہ 92 تا 100،محمد امیر شاہ قادری ،مکتبہ الحسن کوچہ آقہ پیر جان یکہ توت پشاور