نذیر ناجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نذیر ناجی آج کل اخبار جنگ میں کالم لکھتے ہیں۔ ایک زمانہ میں نواز شریف کے تقریر نویس بھی رہے۔ پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کی تو ٹی وی اسٹیشن سے گرفتار ہوئے۔ فوج سے معافی مانگی اور نواز شریف کے خلاف لکھنا شروع کر دیا۔ مشرف دور میں حکومت اور مسلم لیگ (ق) کے حق میں لکھتے رہے۔ منصف اعظم افتخار چودھری کی بحالی کے مخالف رہے۔ مشرف کے جاتے دنوں میں اپنی گرفتاری کے حوالے سے تنقیدی کالم لکھے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد زرداری کے قصیدہ خواں ہو گئے۔

مختلف حکومتوں سے مراعات اور سیاسی بخششیں لینے کے ماہر ہیں۔ اکادمی ادبیات کی سربراہی بھی حاصل کی۔

اپریل 2009ء میں اپنے اخباری ادارے کے صحافی سے فون پر نازیبا الفاظ استعمال کیے جو ان سے پلاٹ (اراضی) حاصل کرنے کے بارے استفسار کر رہا تھا۔[1] یہ گفتگو یو ٹیوب کی زینت بنی اور ان کی سارے زمانے میں جگ ہنسائی کا باعث بنی۔ نذیر ناجی کا کہنا تھا کہ پچاس سال "صحافت کی خدمت" کرنے کے صلہ میں زمیں کے سستے پلاٹ ان کا مراعاتی حق بنتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نیوز، 23 اپریل 2009ء، "Senior journalist loses temper, regrets his words"