نورسلطان نظربایف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نورسلطان نظربایف
(قازق میں: Нұрсұлтан Әбішұлы Назарбаев)،(روسی میں: Нурсултан Абишевич Назарбаев ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

مناصب
وزیر اعظم قازقستان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
22 مارچ 1984  – 27 جولا‎ئی 1989 
بائیکن اشیموو 
وُزاقبائی قارامانوؤ 
صدر قازقستان (1 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
16 دسمبر 1991  – 20 مارچ 2019 
 
قاسم جومارت توقایف 
معلومات شخصیت
پیدائش 6 جولا‎ئی 1940ء (84 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوشکونیر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سوویت اتحاد
قازقستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد
جماعت اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
پیپلز یونین آف قازقستان یونیٹی
قادر لینڈ (قازقستان)
نو اوتان  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تعلیمی اسناد معاشیات میں پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان[4]،  شریک بین الاقوامی فورم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان قازق زبان،  روسی[5]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل سیاست[6]  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
اعزازات
 آرڈر آف سینٹ اینڈریو (1998)
 آرڈر آف دی ریڈ بینر آف لیبر (1972)
 گرینڈ کراس آف دی لیگون آف ہانر
 آرڈر آف دی نیل
 آرڈر آف دی ریپبلک آف سربیا
 اعزاز اکتوبر انقلاب
 حیدر علییف اعزاز
 آرڈر آف زاید
 نائیٹ گرینڈ کراس آف دی آرڈر آف سینٹ مائیکل اینڈ سینٹ جورج  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نور سلطان ابیشولی نظربایف ایک قازقستانی سیاست دان ہیں جو 24 اپریل 1990ء سے اپنے استعفی 19 مارچ 2019ء تک قازقستان کے صدر رہے۔[7] سنہ 1989ء میں قازق سوویت اشتراکی جمہوریہ کی کمیونسٹ پارٹی کے پہلے معتمد نامزد ہوئے اور سنہ 1991ء میں سوویت اتحاد سے قازقستان کی آزادی حاصل کرنے کے بعد قوم کے پہلے صدر منتخب ہو گئے۔ انھیں ”قائد ملت“ کا لقب حاصل ہے۔ [8] اپریل 2015ء میں نظربایف کم و بیش 98 فیصد ووٹ حاصل کر کے دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔[9]

نظربایف پر کچھ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو چکے ہیں اور دی گارڈین کے مطابق انھوں نے مخالفت کو دبایا اور تسلط رہے۔[10] قازقستان کی آزادی سے لے کر اب تک مغربی دنیا کی نظر آزاد اور شفاف انتخابات منعقد نہیں ہوئے۔[10][11] سنہ 2010ء میں انھوں نے کثیر الجماعتی نظام کی ترویج کے لیے اصلاحات کا اعلان کیا۔[10] جنوری 2017ء میں نظربایف نے آئینی اصلاحات کی تجویز دی جس میں قازقستان کی پارلیمان کو اختیارات تفویض کرنا مقصود تھا۔[12]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بنام: Nursultan Nazarbayev — abART person ID: https://en.isabart.org/person/86433
  2. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000020005 — بنام: Nursultan Nasarbajew — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. object stated in reference as: 1940
  4. https://cs.isabart.org/person/86433 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 اپریل 2021
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12325781b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=kn20070723008 — اخذ شدہ بتاریخ: 27 جون 2023
  7. ferganews.com آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ enews.fergananews.com (Error: unknown archive URL), President of Kazakhstan.
  8. Shaun Walker (2015-04-24)۔ "Kazakhstan election avoids question of Nazarbayev successor"۔ The Guardian۔ ISSN 0261-3077۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 ستمبر 2016 
  9. Kazakh leader gains crushing election victory BBC News, 27 April 2015
  10. ^ ا ب پ Bruce Pannier (11 March 2015)۔ "Kazakhstan's long term president to run in show election – again"۔ دی گارڈین۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2015۔ Nazarbayev has clamped down on dissent in Kazakhstan, and the country has never held an election judged to be free or fair by the West. 
  11. C.J. Chivers (6 December 2005)۔ "Kazakh President Re-elected; voting Flawed, Observers Say"۔ The New York Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2014۔ Kazakhstan has never held an election that was not rigged. 
  12. "Kazakh Leader Ready to Devolve Some Powers to Parliament, Cabinet"۔ Voice of America 

بیرونی روابط[ترمیم]