نیرہ نور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نیرہ نور
معلومات شخصیت
پیدائش 3 نومبر 1950 (69 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آسام  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش آسام  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنی زندگی
صنف غزل  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آلات موسیقی صوت  ویکی ڈیٹا پر آلۂ موسیقی (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ گلو کارہ، پس پردہ گلوکار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نیرہ نور پاکستانی فلمی صنعت، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے پس پردہ و براہ راست فلمی گانے، غزل، نظم و گیت وغیرہ گانے والی گلوکارہ ہیں۔ انکا شمار جنوبی ایشاء میں غزل گائیکی کے شارحین میں ہوتاہے۔

زندگی نامہ[ترمیم]

نیرہ نور 1950کی دہائی میں موجودہ ہندوستان کے آسام میں پیداہوئیں۔ انکا خاندان پیشہ ورانہ طورپر تاجر تھا جو امرتسر سے آسام کے شہر گوہاٹی میں آبساتھا۔ نیرہ کا والد مسلم لیگ کا ایک فعال رکن تھا اور1958میں یہ خاندان پاکستان کی طرف ہجرت کرآیا۔ نیرہ کہتی ہیں کہ بچپن میں وہ کملا اور کانن دیوی کے مذہبی گیتوں (بھجن)، ٹھمری، غزل اور بیگم اختر (اختری بائی فیض اآبادی)سے بہت متاثر تھیں۔ نیرہ کا خاندان نہ تو فن موسیقی سے وابستہ تھا اور نہ ہی نیرہ نے موسیقی کے حوالے سے کوئی رسمی تعلیم حاصل کی۔ تاہم نیرہ کو دریافت کرنے کا سہرا پروفیسر اسرار کے سر ہے جنہوں نے1968میں نیرہ کو اسلامیہ کالج لاہور کے اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے لیے قومی کالج برائے فنون ( National College of Arts)لاہور میں ایک عشائیے کے بعد گاتے سناتھا۔
1971میں نیرہ نے پاکستان ٹیلی ویژن کے سلسلے وار کھیلوں کے لیے گیت گانے سے اپنے باقاعدہ فن کا آغاز کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے بہت سے نامور شعرا جیسے میرزا اسداللہ غالب، ناصر کاظمی، ابن انشاء اور فیض احمد فیض وغیرہ کاکلام نہائت دلکش انداز سے گایاہے۔ جب کہ نیرہ نے دیگر مرد گلوکاروں جیسے کہ مہدی حسن، احمد رشدی و عالمگیر وغیرہ کے ساتھ دوگانے بھی گائے ہیں۔ نیرہ کل پاکستان محفل موسیقی میں تین سونے کے تمغے جیت چکی ہیں، ان کو بہترین پس پردہ فلمی گلوکارہ کا نگار اعزاز بھی عطا کیاگیاتھا۔ پاک و ہند میں غزل و شاعری کے دلدادہ لوگوں کے لیے نیرہ نے لاتعداد مشاعروں اور موسیقی کی محفلوں میں اپنی آواز سے شعروں کو زندگی بخشی ہے۔ بہزاد لکھنوی ریڈیو پاکستان کے ایک نامور شاعر، مکالمہ نویس، گیت کار اور مصنف ہیں شاید کہ ان کے بہترین گیتوں میں بہزاد لکھنوی کی یہ غزل ایک شاہکار ہے جس کے گانے پر نیرہ نے بے شمار داد تحسین وصول کی ہے۔
اے جذبہء دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
منزل کے لیے دوگام چلوں ا ور سامنے منزل آجائے
اے دل کی خلش چل یونہی سہی چلتا تو ہوں انکی محفل میں
اس وقت مجھے چونکادینا جب رنگ پہ محفل آجائے
ہاں یاد مجھے تم کرلینا ہاں آواز مجھے تم دے دلینا
اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آجائے
اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکادینا جب سامنے منزل آجائے
آتا ہے جو طوفاں آنے دو کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں پہ بہتا ہوا ساحل آجائے

فنی زندگی[ترمیم]

نیرہ ایک ماہر اور موسیقی میں یکتا گلوکارہ ہیں۔ ناصر کاظمی ان کے دلپسند شاعر تھے۔ ذیل میں ان کی آواز میں ریکارڈ کی گئیں چند معروف غزلیں، گیت اور نغمے دئے جا رہیں
رنگ برسات نے بھرتے کچھ تو (شاعر ناصر کاظمی)
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے(شاعر ناصر کاظمی)
اے عشق ہمیں برباد نہ کر(نظم :شاعر اختر شیرانی)
جلے تو جلاؤ گوری ،پیت کا الاؤ گوری، ابھی نہ بجھاؤ گوری۔ اب اسے بجھاؤ نہ (گیت: گیت کار ابن انشاء) نیرہ ابن انشاء کی خاص انداز کی غزلوں و نظموں کی مداح تھیں
وطن کی مٹی گواہ رہنا(ملی نغمہ) نیرہ نور کی آواز میں یہ نغمہ کراچی سے خیبر تک سب سے زیادہ سنا جانے والا ملی نغمہ ہے
نیرہ نور انتہائی سادہ، کم گو اور شرمیلی خاتون ہیں۔ انہوں تے آغاز سے اب تک اپنے مخصوص انداز اور معیار کو قائم رکھاہوا ہے۔ انکا ظاہری رکھ رکھاؤ سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔ جہاں پاکستانی اور اردو سمجھنے والوں نے ملکہ ترنم نورجہاں کے زرق برق لباس اور حسن و جمال کو دیکھ کر تالیاں بجائی ہیں وہیں انہوں نے سادگی کی ملکہ نیرہ نور کی سادگی کو دیکھ کر تالیاں بجائی ہیں۔
انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے سینکڑوں گانے و دوگانے گائے ہیں۔ جن میں سے چند معروف گیت یہ ہیں
تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجناں

حوالہ جات[ترمیم]