مندرجات کا رخ کریں

نیرہ نور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نیرہ نور
معلومات شخصیت
پیدائش 3 نومبر 1950ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گوہاٹی   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 اگست 2022ء (72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش آسام (1950–1955)
کراچی (1955–2022)  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنکارانہ زندگی
نوع غزل   ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آلہ موسیقی صوت   ویکی ڈیٹا پر (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ گلو کارہ ،  پس پردہ گلوکار   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ویب سائٹ
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نیرہ نور کو بلبل پاکستان کہا جاتا ہے۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے پس پردہ و براہ راست فلمی گانے، غزل، نظم و گیت وغیرہ گانے والی گلوکارہ تھیں۔ انکا شمار جنوبی ایشاء میں غزل گائیکی کے شارحین میں ہوتا تھا۔ ٹی وی اداکار شہریار زیدی ان کے شوہر اور جعفر زیدی ان کے بیٹے ہیں، 21 اگست 2022ء کو وفات پائی ،[1]

زندگی نامہ

[ترمیم]

نیرہ نور 3 نومبر 1950ء کو موجودہ ہندوستان کے آسام میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان پیشہ ورانہ طور پر تاجر تھا، جو امرتسر سے آسام کے شہر گوہاٹی میں آ بسا تھا۔ نیرہ کے والد مسلم لیگ کے ایک فعال رکن تھے اور 1958ء میں یہ خاندان پاکستان کی طرف ہجرت کر آئے۔ نیرہ کہتی ہیں کہ بچپن میں وہ کملا اور کانن دیوی کے مذہبی گیتوں (بھجن)، ٹھمری، غزل اور بیگم اختر (اختری بائی فیض الہ آبادی) سے بہت متاثر تھیں۔ نیرہ کا خاندان نہ تو فن موسیقی سے وابستہ تھا اور نہ ہی نیرہ نے موسیقی کے حوالے سے کوئی رسمی تعلیم حاصل کی۔ تاہم نیرہ کو دریافت کرنے کا سہرا پروفیسر اسرار کے سر ہے جنھوں نے 1968ء میں نیرہ کو اسلامیہ کالج لاہور کے اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے لیے قومی کالج برائے فنون ( National College of Arts) لاہور میں ایک عشائیہ کے بعد گاتے سنا تھا۔

1971ء میں نیرہ نے پاکستان ٹیلی ویژن کے سلسلہ وار کھیلوں کے لیے گیت گانے سے اپنے باقاعدہ فن کا آغاز کیا۔ تاہم بعد میں انھوں نے بہت سے نامور شعرا جیسے مرزا غالب، ناصر کاظمی، ابن انشاء اور فیض احمد فیض وغیرہ کا کلام نہائت دلکش انداز سے گایا۔ جب کہ نیرہ نے دیگر مرد گلوکاروں جیسے کہ مہدی حسن، احمد رشدی و عالمگیر وغیرہ کے ساتھ دوگانے بھی گائے۔ نیرہ کل پاکستان محفل موسیقی میں تین سونے کے تمغے جیتیں، ٹی وی اداکار شہریار زیدی سے شادی ہوئی تھی، ان کو بہترین پس پردہ فلمی گلوکارہ کا نگار اعزاز بھی عطا کیا گیا تھا۔ پاک و ہند میں غزل و شاعری کے دلدادہ لوگوں کے لیے نیرہ نے لاتعداد مشاعروں اور موسیقی کی محفلوں میں اپنی آواز سے شعروں کو زندگی بخشی۔ بہزاد لکھنوی ریڈیو پاکستان کے ایک نامور شاعر، مکالمہ نویس، گیت کار اور مصنف ہیں شاید کہ ان کے بہترین گیتوں میں بہزاد لکھنوی کی یہ غزل ایک شاہکار ہے جس کے گانے پر نیرہ نے بے شمار داد تحسین وصول کی ہے۔

اے جذبہء دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
منزل کے لیے دوگام چلوں ا ور سامنے منزل آجائے
اے دل کی خلش چل یونہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکادینا جب رنگ پہ محفل آجائے
ہاں یاد مجھے تم کرلینا ہاں آواز مجھے تم دے دلینا
اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آجائے
اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکادینا جب سامنے منزل آجائے
آتا ہے جو طوفاں آنے دو کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں پہ بہتا ہوا ساحل آجائے

فنی زندگی

[ترمیم]

نیرہ ایک ماہر اور موسیقی میں یکتا گلوکارہ ہیں۔ ناصر کاظمی ان کے دلپسند شاعر تھے۔ ذیل میں ان کی آواز میں ریکارڈ کی گئیں چند معروف غزلیں، گیت اور نغمے دئے جا رہیں
رنگ برسات نے بھرتے کچھ تو (شاعر ناصر کاظمی)
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے(شاعر ناصر کاظمی)
اے عشق ہمیں برباد نہ کر(نظم :شاعر اختر شیرانی)
جلے تو جلاؤ گوری ،پیت کا الاؤ گوری، ابھی نہ بجھاؤ گوری۔ اب اسے بجھاؤ نہ (گیت: گیت کار ابن انشاء) نیرہ ابن انشاء کی خاص انداز کی غزلوں اور نظموں کی مداح تھیں

وطن کی مٹی گواہ رہنا(ملی نغمہ) نیرہ نور کی آواز میں یہ نغمہ کراچی سے خیبر تک سب سے زیادہ سنا جانے والا ملی نغمہ ہے۔

نیرہ نور انتہائی سادہ، کم گو اور شرمیلی خاتون ہیں۔ انھوں تے آغاز سے اب تک اپنے مخصوص انداز اور معیار کو قائم رکھاہوا ہے۔ انکا ظاہری رکھ رکھاؤ سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔ جہاں پاکستانی اور اردو سمجھنے والوں نے ملکہ ترنم نورجہاں کے زرق برق لباس اور حسن و جمال کو دیکھ کر تالیاں بجائی ہیں وہیں انھوں نے سادگی کی ملکہ نیرہ نور کی سادگی کو دیکھ کر تالیاں بجائی ہیں۔

انھوں نے پاکستانی فلموں کے لیے سینکڑوں گانے و دوگانے گائے ہیں۔ جن میں سے چند معروف گیت یہ ہیں:

تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجناں

وفات

[ترمیم]

21 اگست 2022ء کو کراچی میں وفات پا گئیں۔[2]

نماز جنازہ مسجد و امام بارگاہ یثرب ڈیفنس کراچی میں ادا کی گئی جس کے بعد ان کی تدفین کراچی میں ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں کی گئی۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم]