نیللی بیلے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نیللی بیلے
(انگریزی میں: Elizabeth Cochran خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
الزبتھ کوچرن، ’’نیللی بیلے‘‘
الزبتھ کوچرن، ’’نیللی بیلے‘‘

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: h)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 5 مئی 1864(1864-05-05)
آرمسٹرانگ کاؤنٹی، پنسلوانیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات جنوری 27، 1922(1922-10-27) (عمر  57 سال)
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات نمونیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
رہائش پٹسبرگ
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
قومیت امریکی
شوہر روبرٹ سیمین (m. 1895-1904)
عملی زندگی
پیشہ صحافی، ناول نگار، موجد
اعزازات
نیشنل ویمنز ہال آف فیم (1998)
دستخط
دستخط: "Nellie Bly"
شادی کے بعد، نیللی اپنا نام ’’الزبتھ کوچرن سیمین‘‘ لکھا کرتی تھیں، جیسا کہ اُن کے فائل کردہ پیٹنٹس پر دستخط سے ظاہر ہوتا ہے۔

نیللی بیلے (5 مئی 1864 - 277 جنوری 1922) امریکی صحافی الزبتھ کوچرن سیمین کا قلمی نام تھا۔ وہ ایک مصنف، صنعت کار، موجد اور خیراتی کام کرنے والی بھی تھیں۔ جولس ورن کے افسانوی کردار فلیز فوگ کی تقلید کرتے ہوئے ریکارڈ توڑ 72 دن میں دنیا کے گرد سفر کرنا اور ایک ذہنی بیماری کے ادارے کو جانچنے کے لیے پاگل ہونے کا بہروپ بھرنا، نیللی بیلے کی وجہِ شہرت بنا۔ وہ اپنے اس شعبے کی بانی تھیں اور اُنھوں نے تفتیشی صحافت کی ایک نئی قسم متعارف کروائی۔

ابتدائی برس[ترمیم]

نیللی بیلے کا پیدائشی نام الزبتھ جین کوچرن تھا۔ اُنھوں نے ’’کوچرن ملز‘‘ میں جنم لیا، جو اب بیورل ٹاؤن شپ، آرم اسٹرونگ کاؤنٹی، پنسلوانیا کے پٹس برگ مضافات کا ایک حصہ ہے۔ اُن کے والد، مائیکل کوچرن، معتدل مزدور اور کارخانے میں کام کرنے والے تھے جنھوں نے میری جین سے شادی کی۔ زیادہ تر گلابی رنگ کا لباس پہننے کے باعث الزبتھ کو اکثر ’’پنکی‘‘ (گلابی) کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ الزبتھ ایک میقات تک میقاتی درس گاہ (بورڈنگ اسکول) میں زیرِ تعلیم رہیں، لیکن رقم نہ ہونے کے باعث اُنہیں مجبوراً اسکول چھوڑنا پڑا۔

1880 میں وہ اور اُن کی فیملی پٹس برگ منتقل ہو گئی۔ جب ’’پٹس برگ ڈسپیچ‘‘ میں ایک جارحانہ زن بیزار کالم بعنوان ’’واٹ گرلز آر گڈ فار‘‘ (What Girls Are Good For) شائع ہوا تو الزبتھ نے ’’لونلی اورفن گرل‘‘ (تنہا یتیم لڑکی) کے قلمی نام سے اس کا جوش و جذبات سے بھرپور رد لکھ کر مدیر کو ارسال کیا۔ مدیر، جورج میڈن، اُن کے جذبے سے متاثر ہوئے اور ایک اشتہار کے ذریعے لکھاری کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کی دعوت دی۔ جب کوچرن نے اپنے آپ کو مدیر سے متعارف کروایا تو جورج نے اُنہیں اخبار میں اپنے قلمی نام ہی سے مزید لکھنے کی پیش کش کی۔ ڈسپیچ میں اُن کے پہلے مضمون، ’’دی گرل پزل‘‘ (The Girl Puzzle) نے جورج کو ایک بار پھر متاثر کیا اور اُنھوں نے الزبتھ کو کُل وقتی ملازمت کی پیش کش کردی۔ اُس زمانے میں اخبارات میں کام کرنے والی خواتین قلمی نام استعمال کیا کرتی تھیں اور الزبتھ کے لیے مدیر کی جانب سے ’’نیللی بیلے‘‘ (Nellie Bly) کا قلمی نام تجویز کیا گیا جو اسٹیفن فوسٹر کے معروف گیت ’’نیلے بلے‘‘ (Nelly Bly) سے ماخوذ تھا۔ اگرچہ الزبتھ خود اپنا نام ’’نیلے بلے‘‘ (Nelly Bly) رکھنا چاہتی تھیں لیکن مدیر نے غلطی سے Nellie لکھ دیا اور یہ غلطی ہمیشہ کے لیے رہ گئی۔

بطور لکھاری، نیللی نے ابتدا میں زیادہ تر کام کرنے والی عورتوں کے ابتر حالات کو اپنا موضوع بنایا۔ اُنھوں نے کارخانوں میں کام کرنے والی خواتین کے بارے میں تحقیقی و تفتیشی مضامین کا ایک سلسلہ تحریر کیا، لیکن ادارتی دباؤ نے اُنہیں فیشن، معاشرے اور باغبانی سے متعلق موضوعات کا احاطہ کرنے کے لیے نام نہاد ’’خواتین کے صفحات‘‘ کے شعبے میں دھکیل دیا۔ اپنی ذمہ داریوں سے غیر مطمئن الزبتھ نے ایک قدم اٹھاتے ہوئے میکسیکو کا سفر کیا تاکہ بطور غیر ملکی نامہ نگار کام کرسکیں۔

دارالامان کو بے نقاب کرنا[ترمیم]

دنیا کا سفر[ترمیم]

بعد کے برس[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف: Virginia Blain، Isobel Grundy اور Patricia Clements — عنوان : The Feminist Companion to Literature in English — صفحہ: 220