ٹیونگا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ٹیونگا
انتظامی تقسیم
ملک Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر
تقسیم اعلیٰ اعظم گڑھ ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 26°06′07″N 82°52′16″E / 26.102°N 82.871°E / 26.102; 82.871  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 1.6026 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 85 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر

ٹیوںگا، تحصیل پھول پورضلع اعظم گڑھ میں واقع ہے۔گاؤں کے شمال میں گاؤں مان پور، خوراسون،نوادہ، مشرق میں صدر پوربرولی، مغرب سمت میں لونیہ ڈیہ، جھکہاں اور جنوب میں نہر اور نہر کی دوسری طرف پھول پور اور اودپور ہیں۔ ارد گرد میں مشہور گاؤں منڈیار، جگدیش پور واقع ہیں۔ گاؤں تک پکی سڑک موجود ہے جو براستہ شمساآباد، ستواہیاں، خوراسوں، مان پور، ہمارے گاؤں اور ماہل روڈ سے ہوتے ہوئے پھول پورتیراہے کے مقام پر ملاتی ہے۔

گاؤں میں داخل ہونے والے راستے[ترمیم]

گاؤں کے اندر آنے کے لیے کل پانچ راستے ہیں۔

سب سے پہلا اور آسان راستہ[ترمیم]

پھول پور کی جانب سے ہے جو پھول پور تراہے، ماہل موڑ اور پاور ہاؤس سے ہوتے ہوئے گاؤں کے جنوب میں واقع نہر کے کنارےمشرق کی طرف سے داخل ہوتا ہے اور یہ راستہ بڑا پورا نامی محلے میں چلا جاتا ہے۔

دوسرا راستہ[ترمیم]

نہر کے پچاس میٹر آگے سے بگیا محلہ میں داخل ہوتا ہے۔

تیسرا راستہ[ترمیم]

نہر سے تقریباً پانچ سو میٹر کے بعد چھوٹا پورا محلے میں داخل ہوتا ہے۔

چوتھا راستہ[ترمیم]

ماہل سے آنے کی صورت میں ملتاہے۔ اور یہ بھی نہر کے ذریعے مغرب سمت کی طرف سے بڑا پورا نامی محلے میں داخل ہوجاتا ہے۔

پانچواں راستہ[ترمیم]

بھی ماہل ہی کی طرف سے آتا ہے لیکن یہ راستہ نہر سے تقریباً سو میٹر پہلے نوادہ کے راستے کے ذریعے گاؤں کے مغرب سمت کی طرف سے چھوٹاپورا میں داخل ہوجاتا ہے۔

مسجدیں[ترمیم]

گاؤں میں کل چھ مسجدیں ہیں ۔

جامع مسجد[ترمیم]

فائل:JamaMasjid 1.jpg
جامع مسجد کی جنوب کی طرف سے لی گئی تصویر

جو گاؤں کے وسط میں ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بہت جلد آپ کو مہیا کرائی جائے گی۔

دوسری مسجد[ترمیم]

بگیا محلے میں ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بہت جلد آپ کو مہیا کرائی جائے گی۔

تیسری مسجد[ترمیم]

گاؤں کے مغرب سمت کی طرف ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بہت جلد آپ کو مہیا کرائی جائے گی۔

چوتھی مسجد[ترمیم]

چھوٹے اور بڑے پورے کے درمیان میں ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بہت جلد آپ کو مہیا کرائی جائے گی۔

پانچویں مسجد[ترمیم]

چھوٹے پورے میں مغرب سمت کی طرف ہے جو تقریباً ڈیڑسو سال سے زیادہ پرانی ہے۔ لیکن 2015 عیسوی میں اس کی تجدید کا کام شروع ہوا اس سے پہلے بھی اس مسجد میں تھوڑا بہت کام ہوتے رہے ہیں لیکن اس کا صحیح وقت معلوم نہیں جیسے کی مسجد کے گنبد کے مسمار ہوجانے کے بعد اس کی تعمیر نو اور صحن میں لوہے کے شیڈ کا لگایا جانا اور اسی طرح حمام اور وضو خانے کو وقت کے لحاظ سے جدید سہولت سے آراستہ کرنا لیکن 2015 عیسوی میں جو کام شروع ہوا ہے وہ کافی بڑے پیمانے پر ہیں کیوں کہ اس تجدید میں حمام، وضو خانہ مسجد کا صحن اور اس کا فرش سب کچھ تبدیل کرنا شامل ہے۔

چھٹی مسجد[ترمیم]

یہ بھی چھوٹے پورے میں مشرق کی طرف ہے جو ابھی نئی نئی تعمیر کی گئی ہے۔ اور یہ مسجد علاقے کے لحاظ سے جدید سہولیات سے مزین ہے اس کا وضو خانہ اور حمام مسجد کے داہنی طرف یعنی کی شمال کی طرف ہے اور اس مسجد میں داخل ہونے کا بس ایک ہی راستہ ہے۔ مسجد کے بائیں طرف یعنی کی جنوب میں محمد اشہد ابن شہاب الدین کا گھر ہے۔ اور اس مسجد میں سب سے پہلی تراویح پڑھانے کا شرف محمدزاہد الاعظمی کو حاصل ہے۔

گاؤں کی آبادی[ترمیم]

گاؤں کی آبادی پانچ سو اکہتر گھرانوں پر مشتمل ہے،(اکثریت مسلمانوں کی ہے۔(پانچ سو اکہتر میں وہ گھر بھی شامل ہیں جو ہندوؤں کے ہیں)) زیادہ تر آبادی کا انحصار کھیتی باڑی پر ہے۔ جبکہ کافی مقدار میں لوگ بیرون ملک بسلسلہ روزگار بھی ہیں۔ جس کا اندازہ آپ کو گاؤں میں داخل ہوتے ہی ہو جا تا ہے۔ گاوں کے نوے فی صد لوگوں کا تعلق شیخ اور خان برادری سے ہے۔ضلع اعظم گڑھ میں ہمارا گاؤں مالی اعتبار سے زیادہ خوش حال مانا جاتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

تعلیمی لحاظ سے ہمارا گاوں بہت خوش نصیب ہے جہاں پر دو اسلامی مکتب (مدرسہسعید العلوم و مدرسہنورالعلوم)اور دو ہندی پرائمری اسکول مو جود ہیں۔ اور کافی آبادی تعلیم یافتہ ہے۔ جس میں ڈاکٹرز، انجینیرز، یونیورسٹی ،کالج،اسکول ٹیچرز شامل ہیں۔ تعلیم کے علاوہ کاروبار میں بھی نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ملک بشمول دبئی، ملیشیا ،قطر اور سعودی عربیہ وغیرہ میں کامیاب کاروبار چلا رہے ہیں۔ مجھے لکھتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے گاوں میں مثالی اتحاد ہے اور کوئی کسی قسم کا عناد، لڑائی جھگڑا نہیں جو ہم پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم مہربانی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے یہ اتحاد و بھائی چارہ قائم رہے اورسب لوگ اتفاق، پیار و محبت سے رہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں بُری نظر سے بچائے۔ آمین

سعیدالعلوم[ترمیم]

اس مدرسے میں درجہ اطفال سے لیکر درجہ پنجم تک کی تعلیم کا بندو بست ہے اور باقاعدہ طور پر یہاں اردو، ہندی، انگلش اور قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور بہت سالوں پہلے یعنی کی 1999و 2003 کے آس پاس اس مدرسے میں حفظ قرآن کی بھی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ لیکن فی لحال اس مدرسے کی حالت کافی خستہ ہے پڑھائی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے ایک استاد صرف تعلیم دے رہے ہیں۔ اور اس مدرسے کے ناظم پہلے مہدی حسن مرحوم صاحب(اللہ انکی قبروں کو نور سے بھر دے) تھے اور بر وقت محترم عزیزالقدر صاحب ہیں۔ انکی نظامت میں مدرسہ کتنا پروان چڑھا اسے ہم یہاں لکھ نہیں سکتے یہ آپ خود گاؤں میں آکر معلوم کر سکتے ہیں۔

نورالعلوم[ترمیم]

اس مدرسے میں درجہ اطفال سے لیکر درجہ پنجم تک کی تعلیم کا بندو بست ہے اور یہاں بھی باقاعدہ طور پر اردو، ہندی، انگلش اور قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

عیدگاہ[ترمیم]

اس کی بھی تعمیر کی صحیح تاریخ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن ہم اس کوشش میں ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو صحیح تاریخ کا آپ کو حوالہ دیں۔ اس عید گاہ میں کب سے نماز عید ادا کی جا رہی ہے اس کا اندازہ اس کی صحیح تاریخ سے ہی لگے گا لیکن سن 1436 ہجری مطابق 2015 عیسوی کی جو عید الفطر کی نماز ادا کی گئی ہے وہ خاص خبروں کے تحت آپ دیکھ سکتے ہیں اور عید گاہ کی کچھ تصویریں یہاں جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ عید کے دن ہی لی گئی ہے۔ اسی عید گاہ سے متصل مدرسہ نورالعلوم بھی ہے جس میں اطفال سے لیکر درجہ پنجم تک اردو، ہندی، انگلش اور قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔

شہرِخموشاں(قبرستان)[ترمیم]

اس قبرستان رقبہ 40 بگہا ہے اور اس قبرستان کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ قبرستان ہر کسی کے لیے ہے چاہے وہ کسی بھی برادری سے تعلق رکھتا ہو ۔ اور پوری زمین آر سی سی باؤنڈری سے گھیری ہوئی ہے اس میں دو گیٹ ہیں ایک چھوٹا پورا کی طرف کھلتا ہے اور دوسرا بڑا پورا کی طرف۔ اور اور جنازے پرھانے کے لیے اسی کے پاس جگہ مختص کی ہوئی ہے۔

گاؤں کی مشہور شخصیات[ترمیم]

اشتیاق احمد (پردھان/ ناظم) اسلام الدین ابن عبد الکریم، عمران احمد (ہٹلر)، عزیز القدر، شرف الدین، مہدی حسن،رضوان احمد (للو)۔

حافظِ قرآن[ترمیم]

مندرجہ ذیل جدول کے ذریعے آپ اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس گاؤں میں کتنے حافظ اور قاری ہیں۔ اور کب، کہاں، کس نے حفظ کیا اور ان کے استاذ کون رہے۔ ہر حافظ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات بھی آپ کو ساتھ میں ملیں گی۔ اور ہم والد کے ناموں کے ساتھ ہر حافظ کا ذکر کرنا چاہیں گے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔

رقم شمار اسم والد کا نام حافظ بنے مکمل قرآن/جزء جنس استاذ کا نام مدرسہ کا نام تاریخ پیدائش تاریخ وفات
1 محمد زاہد منشی رضا 4/ اگست 2004 عیسوی مکمل قرآن مذکر مولانا وصی اللہ جامعہ شرقیہ اسلامیہ 10/ستمبر1989عیسوی ۔۔۔
2 عبد العظیم عزیزالقدر ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر قاری مشتاق احمد جامعہ شرقیہ اسلامیہ ۔۔۔ ۔۔۔
3 رفیع الدین اعجاز احمد ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
4 محمد اشرف محمد اسلم ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
5 ظریف ۔۔۔ ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
6 حمزہ ۔۔۔ ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
7 حکیم الدین ۔۔۔ ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
8 شحمہ ۔۔۔ ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
9 کلیم اللہ سراج الحق ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
10 عاقب سراج الحق ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
11 عبد الحفیظ شرف الدین ۔۔۔ مکمل قرآن مذکر حافظ عطاء اللہ جامعہ شرقیہ اسلامیہ ۔۔۔ ۔۔۔
12 محمد ارباز محمد انور نومبر 2015 مکمل قرآن مذکر ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

عالم دین[ترمیم]

رقم شمار اسم والد کانام جنس مدرسہ کا نام فراغت سنہ ھجری فراغت سنہ عیسوی مولانا مفتی تاریخ پیدائش تاریخ وفات
1 شاہد ۔۔۔ مذکر ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ مولانا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
2 کلیم اللہ سراج الحق مذکر دار العلوم ۔۔۔ ۔۔۔ مولانا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
3 عالمگیر ۔۔۔ مذکر ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ مولانا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
4 عبد العظیم عزیزالقدر مذکر دار العلوم ۔۔۔ ۔۔۔ مولانا مفتی ۔۔۔ ۔۔۔
4 سمیر ۔۔۔ مذکر دار العلوم ۔۔۔ ۔۔۔ مولانا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
5 عبد الحفیظ شرف الدین مذکر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ نامکمل ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

ڈاکٹر[ترمیم]

نمبر شمار اسم والد کا نام جنس ڈاکٹر بنے خصوصیت تاریخِ پیدائش تاریخ وفات
1 محمد ثاقب سراج الحق مذکر ۔۔۔ ڈنٹل سرجن ۔۔۔ ۔۔۔
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

انجینئر[ترمیم]

رقم شمار تصویر اسم والد کا نام جنس انجینئر بنے خصوصیت تاریخِ پیدائش تاریخ وفات
1 ۔۔۔ مستقم(گڈو) زبیر احمد مذکر ۔۔۔ کمپیوٹر ہاڑد ویئر انجینئر ۔۔۔ ۔۔۔
2 ۔۔۔ محمد زاہد منشی رضا مذکر 2010 عیسوی کمپیوٹر ہاڑد ویئر انجینئر 10ستمبر 1989 ۔۔۔
3 ۔۔۔ عبد الرحیم زبیر احمد مذکر ۔۔۔ کمپیوٹر ہاڑد ویئر انجینئر ۔۔۔ ۔۔۔

خاص خبریں[ترمیم]

18/ جولائی 2015 بمطابق 1/شوال 1436 ہجری کو عید الفطر بڑی دھوم دھام سے منائی گئی اور لوگ تمام گلے شکوے بھلا کر ایک دوسرے کے گلے ملتے دیکھے گئے اس کی کچھ تصویریں ٹیوں گا فیس بک آفیشیل پیج اور گوگل پلس آفیشیل پیج پر اپلوڈ بھی کی گئی ہیں اسے آپ ٹیوں گا بلاگ پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ لنک تمام لنک درج ذیل ہے۔

ٹیوں گا کی بزرگ شخصیت جناب اسلام الدین صاحب کا آج بتاریخ6/ نومبر2018 مطابق 27/ صفر 1440 ہجری تقریباصبح 6 بجے انتقال ہو گیا ۔ ان کی عمرتقریبا سو 100 برس سے زیادہ تھی اور وہ گزشتہ ایک سال سے بیمار چل رہے تھے۔ محمدزاہد الاعظمی کے دادا تھے ۔ نماز جنازہ و تدفین ان کے آبائی گاؤں ٹیوں گا میں میں ہی ظہر کے بعد ( 2 بجے دوپہر) میں ادا کی گئی۔ دعا ہے کہ اللہ مرحوم کہ مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ آرام نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

ٹیوں گا آفیشیل بلاگ

عید الفطر گوگل پلس البم

پردھانی الیکشن 2015[ترمیم]

ٹیوں گا/ 5/ دسمبر 2015 کو اووٹ پول کیے گئے اور آج بتاریخ 13/ دسمبر 2015 اللہ اللہ کر کے نتیجے کا اعلان ہوا۔ کل اوٹروں کی تعداد 2430 تھی لیکن 57.41 فیصد اووٹ(1378) ہی پول ہو سکے۔ اور جن میں سے 17 اووٹ رَد ہو گئے۔ فریدہ خاتون زوجہ عمران احمد (ہٹلر) نے 759 اووٹ حاصل کر کے 150 اووٹوں کے ساتھ اپنی جیت درج کی۔ اور ایک بار پھر ٹیوں گا کی باگ ڈور سنبھال لی اب دیکھنا یہ ہے کہ پانچ سالوں میں ٹیوں گا کو ترقی کی کس اونچائے پر لیکر جاتی ہیں۔ مد مقابل رہیں رفعت زوجہ محی الدین (مسٹر) جنہوں نے 609 اووٹ حاصل کیے یعنی تمام ڈالے گئے اووٹوں میں سے 44.19 فیصد اووٹ ہی حاصل ہو سکے جبکہ فریدہ بانو نے 55.08 فیصد اووٹ حاصل کیے اور اپنی جیت درج کی۔ اور اس طرح ایک بار پھر محی الدین (مسٹر) کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور تیسرے نمبر نسرین زوجہ شہزاد رہیں جنہیں صرف اور صرف دس اووٹ یعنی 0.73 فیصد اووٹ ہی حاصل ہو سکے اور اپنی ضمانت گنوا بیٹھیں۔ اگر تما م 2430 اوٹروں کی بات کریں تو فریدہ بانو زوجہ عمران احمد (ہٹلر) کے کھاتے میں 31.2 فیصد اور رفعت زوجہ محی الدین (مسٹر) نے 25.1 فیصد اور نسرین زوجہ شہزاد نے 0.41 فیصد اووٹ حاصل کیے ۔ باقی بچے 43.3 فیصد اووٹ پول نہیں ہو سکے۔

کل امیدوار عہدے کے زمرے کل ووٹر کل ڈالے گئے اووٹوں کی تعداد مسترد یا رَد کیے اووٹ باقی بچے اووٹ کی تعداد ووٹنگ کی شرح فیصد
3/تین مؤنث 2430 1395 17 1378 57.41 فیصد

جیتے ہوئے امیدوار کی تفصیل

امیدوار کا نام شوہر یا والد کا نام عمر جنس موبائل نمبر تعلیمی صلاحیت کل حاصل کیے اووٹ امیدوار کے عہدے ڈالے گئے اووٹ میں سے حاصل کیے تمام اووٹروں کے مطابق حاصل کیے
فریدہ بانو عمران احمد 43 مؤنث ۔۔۔۔ ہائی اسکول 759 غیر محفوظ شدہ 55.08 فیصد 31.23 فیصد

باقی تمام امیدواروں کی تفصیل

امیدوار کا نام شوہر یا والد کا نام عمر جنس موبائل نمبر تعلیمی صلاحیت کل حاصل کیے اووٹ امیدوار کے عہدے ڈالے گئے اووٹ میں سے حاصل کیے تمام اووٹروں کے مطابق حاصل کیے ضمانت
رفعت محی الدین 38 مؤنث ۔۔۔۔ جونیئ رہائی اسکول 609 غیر محفوظ شدہ 44.19 فیصد 25.06 فیصد ضبط نہیں
نسرین شہزاد 31 مؤنث ۔۔۔۔ ہائی اسکول 10 غیر محفوظ شدہ 0.73 فیصد 0.41 فیصد ضبط

حوالہ جات[ترمیم]

اسٹیٹ الیکشن کمیشن اترپردیش لکھنؤ[1]

بیرونی روابط[ترمیم]

__ناتحریرقسم__