پکی روٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

’’پکی روٹی‘‘ پنجابی زبان میں عوام کویاد کرائی جانے والی ایک چھوٹی لیکن قدر میں بڑی کتاب کا نام ہے ’’پکی روٹی‘‘ مطلب ہے کہ روحانی غذا ہے۔

مصنف[ترمیم]

اس کے مصنف مولوی غلام رسول موضع سکندر پور ضلع گجرات ضلع کے رہنے والے تھے۔ پھرترکِ سکونت کر کے کوٹ بھوانی داس ضلع گوجرانوالہ منتقل ہوئے۔

پکی روٹی کی تمثیل[ترمیم]

پکی روٹی کی مثال اس لیے اختیار کی گئی کہ جیسے روٹی کی تیاری میں بہت محنت و کاوش درکار ہوتی ہے۔ پہلے گندم بوئی جاتی ہے، پھر اس کی کٹائی ہوتی ہے،پھر اسے پیسا جاتا ہے اور پھراس کے آٹے سے روٹی پکائی جاتی ہے، کھانے والوں کو اتنی مشکل منزلوں سے نہیں گزرنا پڑتا۔ ان کے سامنے تو پکی پکائی روٹی آ جاتی ہے۔ اسی طرح کم پڑھے لکھے مسلمان کو تفسیر اور حدیث و فقہ کی کتابیں پڑھے بغیر ’’پکی روٹی‘‘ کی شکل میں اسلام کی تعلیمات سے آگاہی مل جاتی ہے۔ اس لیے اس کا نام پکی روٹی رکھا گیا تھا۔

پکی روٹی کی تاریخ[ترمیم]

’’پکی روٹی‘‘۔ پنجابی نثر میں مسائل فقہ پر 16صفحات کا رسالہ ہے۔ جس میں47 سوالات مع جوابات ہیں۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں کچھ عرصہ پہلے بہت پڑھی جاتی تھی۔ اٹھارویں صدی میں لکھے گئے اس کتابچے میں دین اسلام کی وہ ساری بنیادی نوعیت کی باتیں موجود ہیں جن سے ہر مسلمان کا واقف ہونا لازمی ہے۔ یہ رسالہ اپنے مندرجات کی جامعیت اور خطابی اندازِ بیان کی وجہ سے پنجاب میں بہت مقبول ہوا۔ انداز کچھ اس طرح ہے ’’جے کو پُچھ تُوں بندہ کس دا ہیں؟ توں آکھ خدا تعالیٰ دا‘‘۔ ’’جے کو پُچھ اُمت کس دی ہیں؟ توں آکھ جی حضرت محمدؐ دی۔‘‘

مقبول عام[ترمیم]

’’پکی روٹی‘‘ میں اتنی سادہ اور عام فہم زبان برتی گئی تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پنجاب بھر میں یہ رسالہ مقبول و معروف ہو گیا۔ اس کے بعد کسی نے پکی روٹی کلاں (یعنی بڑی) لکھی تو کسی نے مٹھی روٹی اور کسی نے مسی روٹی، البتہ ’’پکی روٹی‘‘ والی بات کسی سے نہ بن سکی۔ پنجاب میں ماضی قریب تک ’’پکی روٹی‘‘ عام پڑھی پڑھائی جاتی تھی بلکہ کسی کی کم از کم تعلیم کے بارے میں کہا جاتا، ’’پکی روٹی‘‘ پڑھا ہوا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پکی روٹی عمر بک سنٹر قذافی سٹریٹ لاہور