پیر بدھو شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پیر بدھو شاہ اپنے بیٹوں اور پیروکاروں کے ہمراہ

پیر بدھو شاہ یا پیر بدھن شاہ (13 جون 1647 – 21 مارچ 1704) ایک مسلم خدا رسیدہ شخص جن کا حقیقی نام سید بدر الدین تھا، گرو گوبند سنگھ کے شیدائی اور رفیق تھے۔ وہ روزانہ گرو سے ملنے آیا کرتے اور ایک موقع پر 500 شیعہ مسلم پٹھان سپاہیوں جن کو اورنگزیب عالمگیر نکال چکا تھا، کو متعارف کیا تاکہ گرو ان کو ملازمت دے دیں۔ تاہم، جب ان سپاہیوں نے پہاڑی کے سرداروں کا جنگ میں سامنا کیا تو وہ گرو کی فوج کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پیر بدھو شاہ سپاہیوں کے اس عمل سے بہت پریشان ہوئے اور گرو کی فوج کی دستگيری کرنے کے لیے اپنے بہت سے پیروکار اور اپنے خاندان کے بہت سے افراد کو لائے۔ گرو ان سے ضرورت کے وقت مدد کرنے پر بہت خوش ہوئے۔ تاہم اس عمل نے پیر بدھو شاہ کو مغلوں کا دشمن بنا دیا اور 1704ء میں اس جرم کی پاداش میں ان کو قتل کر دیا گیا۔

جب بندہ سنگھ بہادر کو پتہ چلا کہ پیر بدھو شاہ کو سزائے موت دی گئی کیونکہ انہوں نے جنگ بھنگانی میں گرو گوبند سنگھ کی مدد کی تھی تو بندہ سنگھ بہادر نے پیر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے سادھوراہ پر حملہ کر دیا اور پیر کی موت کے ذمے دار عثمان خان کو قتل کر دیا۔ پیر بدھو شاہ کی اولاد نے سنہ 1947ء میں پاکستان کی طرف ہجرت کی، ان کا سادھوراہ کا آبائی گھر اسی سال ایک گردوارہ میں تبدیل ہو گیا اور یہ پیر بدھو سنگھ کے ہی نام پر ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ 13 جون 1647ء کو سادھوراہ (موجودہ ضلع امبالہ، ہریانہ) کے ایک اقبال مند سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے سادہ پن اور خاموش فطرت کی وجہ سے انہیں بچپن میں بدھو (یعنی سادہ لوح) کا نام دیا تھا اور یہ ان کا عرف بن گیا۔ 18 سال کی عمر میں ان کی شادی ایک دین دار خاتون ”بی بی نصیرہ“ سے ہوئی۔ نصیرہ مغل فوج کے ایک اعلیٰ درجے کے افسر سعید خان کی بہن تھیں۔ پیر بدھو شاہ کے چار بیٹے سید اشرف، سید محمد شاہ، سید محمد بخش اور سید شاہ حسین تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Suri, V.S., and Gurcharan Singh, Pir Buddhu Shah. Chandigarh, 1971
  2. Harbans Singh, Guru Gobind Singh. Chandigarh, 1966
  3. Macauliffe, Max Arthur, The Sikh Religion. Oxford, 1909
  4. Khushwant Singh, A History of the Sikhs, vol. I, Princeton, 1963