چارلس ٹیز رسل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چارلس ٹیز رسل
(انگریزی میں: Charles Taze Russell خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Charles Taze Russell sharp.jpg،  وRussell Charles Taze 1911.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 16 فروری 1852[1][2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ایلیگینی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 31 اکتوبر 1916 (64 سال)[1][2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پامپا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ماریا فرانسس ایکلے
والدین جوزف لیٹل رسل
این ایلیزا برنے
عملی زندگی
پیشہ ناشر،  ومصنف،  وفلم ہدایت کار،  وسیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فلسفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Charles Taze Russell's signature.jpg 

چارلس ٹیز رسل (انگریزی: Charles Taze Russell) جو یہوواہ کے گواہوں کا پیشرو ہے، ایلیگینی (موجودہ پٹسبرگ)، امریکا میں 16 فروری 1852ء کو پیدا ہوا۔ اس کو بچپن میں بائبل پڑھنے کا از حد شوق تھا۔ اکثر وقت بائبل کے مطالعہ میں صرف کرتا۔ پندرہ یا سولہ کی عمر میں بائبل پر غور و حوض کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسیحیت کے مروجہ اور مقبولہ عقائد باطل ہیں۔ وہ اکثر غور و فکر کیا کرتا تھا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ بعض انسانوں کے لیے ابدی جہنم کی سزا مقرر کی جائے۔ مسیح ناصری کی آمد ثانی بھی اس کی دلچسپی کا خاص مرکز تھا۔

بائبل کلاس کا اجرا[ترمیم]

بائبل کے مطالعہ کو رواج دینے کے لیے رسل نے اپنے چند دوستوں کو ساتھ ملایا اور 1870ء میں ایک بائبل کلاس جاری کی۔

آمد ثانی کا عقیدہ[ترمیم]

رسل اور اس کے ساتھیوں کا مسیح کی آمد ثانی کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ ان کی آمد اس دنیا میں روحانی شکل میں ہوگی، جسمانی میں نہیں آئیں گے۔ چنانچہ 1874ء میں رسل اور اس کے ساتھیوں نے محسوس کیا کہ یسوع مسیح دنیا میں واپس آ گئے ہیں۔ اور ان کا کام یہ ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو جو ان پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں جمع کریں اور غلط عقائد سے نجات دلائیں۔ یہ کام 1914ء تک مکمل کر لیں گے۔ اس کے بعد وہ کفر کی حکومت (Gentile Rule) صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا اعلان کریں گے۔ اور پھر خدا کی حکومت قائم ہو جائے گی جس میں ان کے اپنے معتقدین شامل ہوں گے۔

باربر سے الحاق[ترمیم]

1974ء میں نیلسن ایچ باربر کے رسالہ ”دی ہرالڈ آف دی مارننگ“ کی ایک کاپی ان کی نظر سے گزری تو اس کے مطالعہ سے اس کو یہ علم ہوا کہ کچھ اور لوگ بھی ہیں جو یسوع مسیح آمد ثانی روحانی مانتے ہیں نہ کہ جسمانی۔ چنانچہ رسل اور اس کے بائبل اسٹڈی گروپ نے باربر سے الحاق کر لیا اور رسل نے باربر کے پرچے کے ضروری اخراجات مہیا کرنے شروع کر دیے۔

دو سال کے اندر اندر ان ان دونوں میں بعض اختلافات پیدا ہو گئے۔ رسل اور اس کے بائبل اسٹڈی گروپ میں باربر سے الحاق توڑ لیا اور رسالہ کو مالی امداد دینا بند کر دی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11923141v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Charles-Taze-Russell — بنام: Charles Taze Russell — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w68p6k7n — بنام: Charles Taze Russell — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=5591 — بنام: Charles Taze Russell — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11923141v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ