چیکو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
چیکو
Sapodilla tree.jpg
چیکو کا درخت
صنف بندی
جماعت: Magnoliopsida
درجہ: Ericales
خاندان: Sapotaceae
جنس: چیکو[1]
نوع: M. zapota
سائنسی نام
Manilkara zapota
(L.) P. Royen

چیکو کا نباتاتی نام manilkara zapota ہے۔ اسے انگریزی میں sapodilla کہتے ہیں۔ اس کا چھلکا آلو کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں دو سے لے کر دس تک کالے بیج ہوتے ہیں۔ یہ گول یا بیضوی، یعنی ایک طرف سے نوکدار شکل میں ہوتے ہیں۔ چیکو کا درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ہے۔ اس کا ذائقہ میٹھا اور دار چینی جیسا جب کہ شکل سیب اور ناشپاتی جیسی ہوتی ہے۔چیکو کا ایک درخت سال میں دو ہزار پھل دیتا ہے۔ 

اگر یہ کچا ہوتا ہے تو اس کا ذائقہ کسیلا ہوتا ہے جب کہ مکمل پکے ہوئے چیکو میٹھے ہوتے ہیں۔ چیکو غذائی ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام چیکو میں 5.6 گرام ریشے ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامنز مثلاً فولیٹ (folate) اور نیاسین معدنیات مثلاً پوٹاشیم (potassium)، جست، فولاد اور صحت بخش غیر تکسیدی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامن سی (vitamin C) کی بڑی مقدار ہوتی ہے جب کہ وٹامن اے (vitamin A) بھی اس میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ 

چیکو نامیاتی اجزاء کے ساتھ مکمل غذا ہے جو صحت کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی بہترین ہے۔ اس میں کولیسٹرول اور سوڈیم (Cholesterol And Sodium) بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کے استعمال سے وزن میں کمی ہوتی ہے۔ چیکو دسمبر سے لے کر مارچ تک آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں جب کہ اس کے عروج کا موسم فروری سے اپریل، اکتوبر اور دسمبر کا ہوتا ہے۔

چیکو کے چند قیمتی فوائد[ترمیم]

ماہرین کی جانب سے چیکو نظر میں بہتری کے لیے انتہائی مفید قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس میں وٹامن اے موجود ہے-

چیکو جسم کو بھرپور توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں گلوکوز کی بھاری مقدار موجود ہوتی- ایتھلیٹ کو چیکو کا استعمال ضرور کرنا چاہیے

عمل انہضام کے نظام میں بہتری لاتا ہے ساتھ ہی ہر قسم کے درد سوزش کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے-

چیکو میں پایا جانے والے غذائی اجزا اور غذائی ریشہ بہت سے اقسام کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے-

ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے کیونکہ اس میں کیلشیم٬ آئرن اور فاسفورس کی اضافی مقدار پائی جاتی ہے- چیکو قبض کے مرض سے بھی نجات دلاتا ہے اور ساتھ دیگر انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ہے- چیکو خون کو روکنے کی خصوصیات بھی رکھتا ہے اور اس کا استعمال بواسیر اور زخموں سے رسنے والے خون میں کمی لانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں- چیکو سے نکلنے والے بیج کا اگر پیسٹ بنا کر کیڑے کے کاٹے کی جگہ پر لگایا جائے تو آرام ملتا ہے- چیکو انسانی جسم میں داخل ہونے والے متعدد جراثیموں سے بھی محفوظ رکھتا ہے- اور اس میں پایا جانے والا وٹامن سی پوٹاشیم٬ فولیٹ اور فاسفورس کے آزاد زرات کو خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے- یہ پھل اسہال کے مرض کے لیے بھی انتہائی مفید ہے اور اس سے پیچش کے خاتمے کے لیے بھی کافی مدد ملتی ہے-

اس پھل کے کھانے سے اعصاب پرسکون ہوجاتے ہیں اور دباؤ کا خاتمہ ہوجاتا ہے جس کے باعث ذہنی صحت میں بہتری آتی ہے- بے چینی اور ڈپریشن میں مبتلا افراد کو اس کا استعمال ضرور کرنا چاہیے- چیکو گردے اور مثانے کی پتھری کی خارج کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے اور گردوں کے دیگر بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے- یہ پھل وزن میں کمی لاتا ہے جس کے باعث انسان موٹاپے کا شکار ہونے سے بچ جاتا ہے- چیکو میں پایا جانے والا میگنیشیم خون اور خون کی نسوں کے لیے انتہائی مفید ہے جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے-

احتیاطی تدابیر[ترمیم]

چیکو سے بہترین فوائد تب ہی حاصل ہوسکتے ہیں جب اسے پکا ہوا کھایا جائے- کچا پھل کھانا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے- کچا چیکو کھانے سے منہ کا السر٬ گلے میں کجھلی کا احساس اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے- 

تصاویر[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. Manilkara
تامل ناڈو ، بھارت میں درختوں پر لگے چیکو
Sapodilla.jpg