کازو تاوکا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Kazuo Taoka
(جاپانی میں: 田岡 一雄 خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
From left to right, Mitsuru Ono, Kazuo Taoka, Kōji Tsuruta. 1952.
From left to right, Mitsuru Ono, Kazuo Taoka, Kōji Tsuruta. 1952.

معلومات شخصیت
پیدائش March 28, 1913
وفات جولائی 23، 1981(1981-70-23) (عمر  68 سال)
وجۂ وفات دورۂ قلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Japan (1870–1999).svg سلطنت جاپان
Flag of Japan.svg جاپان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مجرم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان جاپانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

تاوکا کازو田岡 一雄 Taoka Kazuo عرف کوما معنی بھالو (28مارچ ،1912-30 جولائی 1981) دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کے ایک بڑے مجرمانہ گروہ کا سرغنہ تھا اس گروہ کانام یماگوچی گومی تھا۔ اس کے دس ہزار سے زائد کارندے پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے اور اسے 500 حصو ں میں بانٹا گیا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

تاوکا شکاکو جزیرے کے گاوں میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا اس کے والد پیدائش سے قبل انتقال کر گئے جبکہ والدہ 4 سال میں وفات پاگئیں انھیں ایک رشتہ دار نے پال پوس کر بڑا کیا۔ اسنے لڑکپن میں ہی سکول کو خیر آباد کہا

مجرمانی سرگرمی میں شمولیت[ترمیم]

اور 1929 میں یاکوزا نامی مجرم گروہ میں شامل ہوا 1930 تک وہ یماگوچی گومی میں شامل ہوچکا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ گروہ منتشر ہوا لیکن جنگ کے بعد اس نے اسے نئے سرے سے منظم کیا اس گروہ کی سرگرمیوں میں بھتہ،جسم فروشی،جوا،سمگلنگ نیز دیگر قانونی و غیر قانونی دھندے شامل تھے۔ اس کے خیالات قوم پرستانہ اور دائیں بازو کی جانب تھے۔

1963ء میں جاپانی پولیس اس کے گروہ پر نظررکھنے لگی اور 1966 میں اسے 5 الزامات پر گرفتا ر کیا گیاجس میں بلیک میلنگ بھی شامل تھی۔ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد ضلع کوبے کی عدالت نے اس پر فرد جرم عائد کیا لیکن وہ اس سزاء پر عمل درآمد ہونے سے ایک مہینا پہلے ہی دل کے دورے سے مرگیا۔ اس سے پہلے 1978 میں ایک نائٹ کلب میں دوسرے حریف گینگ کی فائرنگ سے وہ بال بال بچا تھا یہ گولی اس کے گردن میں لگی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]