کشتی کی باقیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کشتی کی باقیات (انگریزی: Shipwreck) کسی غرقاب کشتی کے باقی ماندہ ملبے، کشتی پرزوں، مسافرین کی مردہ لاشیں، ان کے سامان، جہاز رانی اور جہاز رانوں اور ان کے اہم انتظامیہ کی چیزوں کو کہا جاتا ہے۔ ان سب چیزوں میں کچھ چیزیں پانی کی سطح کے اوپر مل سکتے ہیں اور سمندر کی تہ پر مل سکتے ہیں۔ غرقاب جہاز میں سے کچھ چیزیں پانی کی سطح پر یا سمندر کے کنارے زمین کے کسی کونے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ان میں کئی بار مردہ لاشیں ہو سکتے ہیں۔ انسانی لاشیں غرقاب ہو کر پانی کی سطح پر از خود پھیلتے پھلیتے پہنچ سکتی ہیں، مگر ان میں وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بد بو پیدا ہو سکتی ہے۔ مردہ انسانی لاشیں وقت کے ساتھ مسخ شدہ ہو سکتی ہیں۔ کئی بار رنگ بدل کر سفید یا سیاہ ہو سکتا ہے۔ نیز یہ بھی ممکن ہے جس حادثے کی وجہ سے ایک جگہ پر نہ ہو بلکہ ٹکڑوں میں دست یاب ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انسانی جسم کا بیشتر حصہ یا کچھ حصہ مچھلی اور دیگر آبی جانور جیسے کہ شارک کھا لیں۔ اصل جہاز میں اکثر ثابت اور پھیلا ہوا حصہ سمندر کے اندر ہی پایا جاتا ہے۔ مگر جہاز جب ڈوبتا ہے تو اکثر بکھر جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے اکثر چھوٹے چھوٹے پرزے آبی سطح کے اوپر جا سکتے ہیں۔ یہ آبی سفر کرنے والوں کسی غرقاب جہاز کے مقام کا اشارہ بھی دے سکتے ہیں۔ مسافرین اور جہاز رانی کے سامان بھی اسی طرح پانی بہت نیچے یا سطح پر مل سکتے ہیں۔ محققین جہاز سے ملنے والے ملبے کی مناسبت سے حادثے کی وجوہ پتہ چل سکتے ہیں۔

چند دست یاب کشتیوں کی باقیات[ترمیم]

کچھ لوگوں کا دعوٰی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی باقیات ایک پہاڑ کی چوٹی سے مل گئیں ہیں۔[1]

2017ء میں جاپان کے اوگا شہر کے قریب اکیتا ضلع کے ساحل پر غرقاب کشتی کا ملبہ اور انسانی ڈھانچے بر آمد ہوئے تھے۔ جاپانی حکام ان آٹھ افراد کی لاشوں کی شناخت کرنے کی کوشش میں لگے تھے جن کی لاشیں اس لکڑی کی کشتی سے ملی ہیں۔ یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ یہ شمالی کوریا کے چند ماہی گیر اسی علاقے میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔[2]

نومبر 2019ء میں دریائے ستلج میں کشتی الٹ گئی، ڈوبنے والے 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔کشتی میں تیس افراد سوار تھے۔ علاقے کے مکینوں کے مطابق کشتی میں سوار افراد کا تعلق ہیڈ سلیمانکی اور حویلی لکھا سے ہے۔ متاثرہ افراد معمول کے مطابق کھیتی باڑی کے لیے دریا عبور کرکے میں جا رہے تھی۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]