گارساں د تاسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گارساں د تاسی
(فرانسیسی میں: Joseph Héliodore Garcin de Tassy خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 20 جنوری 1794[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مارسیلز[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 2 ستمبر 1878 (84 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مارسیلز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of France.svg فرانس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن روس کی اکادمی برائے سائنس،  سائنس کی روسی اکادمی،  سائنس کی پروشیائی اکیڈمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مستشرق،  ماہر ہندویات،  مترجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت روس کی اکادمی برائے سائنس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

گارساں د تاسی کی پیدائش 25 جنوری، 1794ء کو مارسیلز شہر میں ہوئی تھی۔ اس نے مشہور ماہر لسانیات اور مشرقی علوم کی باوثوق شخصیت سیلویسترے دے ساسی (Silvestre de’ Sacy) کے یہاں زانوئے تلمذ طے کیا جس کی وجہ سے اسے عربی، فارسی اور اس وقت کی رائج الوقت ترکی سیکھنے کا موقع ملا۔

انستیتو ناشیونل دے لانگ اے سیویلیزیشیوں اورینتال[ترمیم]

گارساں انستیتو ناشیونل دے لانگ اے سیویلیزیشیوں اورینتال (Institut National des Langues et Civilisations Orientals) کے پروفیسر کے عہدے پر 1828ء میں فائز ہوئے۔ 1838ء میں اکادمی دیس انسکرپشنس اے بیل لیتریس (Academie des Inscriptions et’ Belles-Lettres) کے لیے منتخب ہوئے جو ادبی فنون کے لیے وقف سوسائٹی ہے۔

سوسائتے ایشیاتیک[ترمیم]

گارساں سوسائتے ایشیاتیک (یا ایشیاٹیک سوسائٹی) کے بانی اور بعد کے دور میں صدر بھی رہے تھے۔

گارساں کی نگارشات[ترمیم]

گارساں نے اپنی زندگی میں کل ملاکر 155 سے زائد کتابیں لکھی ہیں جنہیں تین زمرے میں بانٹا جا سکتا ہے:

طرہ امتیاز[ترمیم]

گارساں نے تین جلدوں میں ہندوستانی ادب کی تاریخ کے عنوان سے فرانسیسی زبان میں سب سے پہلے اردو ادب کی تاریخ لکھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایسا کوئی تاریخی مواد خود اردو میں نہیں تھا۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119041003 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. اجازت نامہ: CC0
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119041003 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. Garcin de Tassy: the great French scholar of Urdu - Newspaper - DAWN.COM

بیرونی روابط[ترمیم]