گستاو ہائنمین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گستاو ہائنمین
(جرمن میں: Gustav Heinemann ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= گسٹاؤ ہائنمین 1969 میں

صدر جرمنی
مدت منصب
1 جولائی 1969 – 30 جون 1974
چانسلر کرٹ جارچ کیسنگر ،
ولی برانڈٹ،
ہیلمٹ اشمڈت
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ہائنرک لبکے
والٹر شیل Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر داخلہ جرمنی
مدت منصب
29 ستمبر 1949 – 11 اکتوبر 1950
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
رابرٹ لہر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (جرمن میں: Gustav Walter Heinemann ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 23 جولا‎ئی 1899[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 جولا‎ئی 1976 (77 سال)[1][8][2][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایسین[9][8]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Germany.svg جرمنی  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب لوتھرن
عملی زندگی
مادر علمی میونخ یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، وکیل، الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان جرمن  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جرمن[10]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت کولون یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
برلن کی اعزازی شہریت
Orderelefant ribbon.png آرڈر آف ایلی فینٹ
Galó de l'Orde del Bany (UK).svg جی سی بی  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
گستاو ہائنمین
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

گستاو ہائنمین (23 جولائی 1899 - 7 جولائی 1976) جرمن سیاست دان تھے۔ آپ 1946 سے 1949 تک ایسن شہر کے میئر رہے۔ 1949 سے 1950 تک مغربی جرمنی کے وزیر داخلہ، 1966 سے 1969 تک وزیر قانون اور 1969 سے 1974 تک وفاقی جمہوریہ جرمنی کے صدر رہے۔

ابتدائی زندگی اور پیشہ[ترمیم]

گستاو والٹر ہائنمین کا نام ان کے نانا کے نام پر رکھا گیا جو بارمن شہر میں چھتیں بناتے تھے اور جمہوری اور حب الوطن سوچ رکھتے تھے۔ آپ کے نانا اور پر دادا نے 1848 کے انقلاب کا حصہ تھے۔ ان کے والد اوٹو ہائنمین ایسن شہر میں ایک اسٹیل (فولاد) کمپنی میں کام کرتے تھے اور اپنے سسر کی سوچ رکھتے تھے۔ اپنی ساری زندگی انہوں نے کسی کی نہ خوشامد کی اور نہ کسی سے دبے اور اسی رویہ کیوجہ سے آپ نے اپنی ذہنی خود مختاری کو برقرار رکھا ان وقتوں میں بھی جب ان کا سامنا اکثریت سے سامنا ہوا چاہے وہ سیاسی جماعت ہو یا چرچ۔[11]

1917 میں گرامر اسکول کی پڑھائی ختم کرکے آپ نے دوسری جنگ عظیم کے سپاہی کی حیثیت سے فوج میں شمولیت اختیار کر لی مگر شدید بیمار ہونے کیوجہ سے اول صفوں کا حصہ نہ بن سکے۔

1918 کے بعد آپ نے قانون، معاشیات اور تاریخ کے مضامین منسٹر، ماربرگ، میونخ، گوٹنگن اور برلن کی جامعات سے پڑھے اور 1922 میں سند حاصل کی اور پھر بار کا امتحان 1926 میں پاس کیا۔ آپ نے 1922 میں علامہ فلسفہ اور 1922 میں قانون میں ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔

آپ کی بچپن کی زیادہ تر دوستاں تاحیات چلیں۔ ان کے ایسے دوستوں میں ولہم روپکے، ارنسٹ لیمر (مزدور یونین کا حامی اور کرسچن ڈیمکریٹ) اور وکٹر اگارٹز ایک مارکسی۔

اپنے کیریئر کی ابتدا ہائنمین نے ایسن نے وکلا کی مشہور کمپنی سے کی۔ 1929 نے آپ نے طبیعائی کے قانونی سوالات پر ایک کتاب لکھی۔1929 سے 1949 تک آپ نے ایسن میں رہی نشے اسٹالورک میں قانونی مشیر کے طور پر کام کیا اور 1936 سے 1949 تک اس کے ڈائیریکٹر رہے۔ 1933 سے 1939 تک آپ کولون کے لا اسکول میں لیکچرار رہے۔ غالباً ان کا این ایس ڈی اے پی کے رکن بننے سے انکار ان کے تعلیمی کیریئر کے اختتام کا باعث بنا۔[12]

گھرانہ اور مذہب[ترمیم]

1926 میں ہائنمین نے ہلڈا اورڈرمین سے شادی کی جو روڈولف بلٹمین (مشہور پروٹیسٹنٹ عالم) کی شاگرد تھیں۔ ان کی بیوی اور بیوی کے کلیسا کا منسٹر، ولہم گریبر ہائنمین کو مسیحیت کیطرف واپس لے کر آئے۔

آپ کی اور ہلڈا کی تین بیٹیاں تھیں: اٹا (اٹا رانکے ہائنمین)، کرسٹیا (وفاقی صدر جوہانس را کی بیوی کرسٹینا را کی ماں)، باربرا اور ایک بیٹا پیٹر تھا۔

1936 سے 1950 تک ہائنمیں وائی ایم سی اے کے سربراہ رہے۔

ہائنمین جنرل سائینوڈ برائے جرمن ایونجیلیکل چرچ میں, 1949

اگست 1945 میں آپ جرمن ایونجیلیکل چرچ کی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ کونسل نے اکتوبر 1945 میں اسٹٹگارٹ اعلان جرم شائع کیا جس میں پروٹسٹنٹ چرچ کی نازی اور تھرڈ ریچ کی مخالفت کی غلطیوں کا اعتراف کیا گیا۔ ہائنمین نے اس اعلان کو اپنے چرچ کے لیے کیے اہم کاموں میں شمار کیا۔

سیاست[ترمیم]

پڑہائی کے دنوں میں ہائنمین نے اپنے دوستوں لیمر اور روپکے کیطرح ریشبد ڈوئیشر ڈیموکراتیشر اسٹوڈنٹن Reichsbund deutscher demokratischer Studenten میں شمولیت اختیار کی ہوئی تھی۔ یہ جرمن ڈیموکریٹک جماعت کا اسٹوڈنٹ ونگ تھا جو ویمار ریپبلک کی کھلی حمایت کرتی تھی۔

1920 میں ہٹلر کو میونخ میں یہودیوں کے خلاف باتیں کرنے کے دوران مداخلت کرنے پر آپ کو کمرے سے نکال دیا گیا۔

1930 میں آپ نے کرسچن سوشل پیپلز سروس میں شمولیت اختیار کی مگر 1933 میں سوشل ڈیموکریٹک جماعت کو ووٹ دیا تاکہ این ایس ڈی اے پی کی جیت کو ناممکن بنایا جائے۔[13]

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکام نے آپ کو ایسن کا میئر بنا دیا اور 1946 میں آپ کو اس دفتر کے لیے چنا گیا اور 1949 تک آپ اس دفتر میں مقرر رہے۔ آپ شمال ریائن ویسٹفالیہ میں کرسچن ڈیموکریٹک اتحاد کے بانیوں میں سے تھے جہاں انہیں نازی ازم کے مخالف اور جمیوری لوگ ملے۔ آپ شمالی رہائن ویسٹفالیہ کی پارلیمنٹ کے ارکان رہے (لینڈٹیگ 1947-1950) اور 1947 سے 1948 تک کرسچن ڈیموکریٹک اتحاد کے شمال رہائن ویسٹفالیہ وزیر اعظم کارل آرنلڈ کے دور میں وزیر قانون بھی رہے۔

جب کونارڈ ایڈینار 1949 میں بنی وفاقی جمہوریہ جرمنی کے چانسلر بنے تب ان کو اپنی حکومت میں پروٹیسٹنٹ نمائندوں کی ضرورت پیش آئی۔ کستاو پائنمیں جو اس وقت سائینوڈ آف پروٹیسٹن چرچ کے صدر تھے مجبوری میں ان کے وزیر داخلہ بنے مگر ان کے ارادے کچھ اور تھے [14]

ایک سال بعد جب آپ کو پتا چلا کے ایڈینار نے خاموشی سے مغربی یورپ کی افواج کو جرمن کی شمولیت کی پیشکش کی ہے تو انہوں نے حکومت کو فوراً استعفٰی دے دیا۔ ان کو یقنین تھا کہ وفاقی جمہوریہ میں کسی بھی قسم کا اسلحہٰ جرمنی کے متحد ہونے میں رکاوٹیں ڈال سکتا اور جنگ کے امکان کو بڑھا سکتا ہے۔[15]

آپ نے سی ڈی یو کو خیر آباد کہا اور 1952 میں اپنی جماعت کل جرمن پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس کے نامور ارکان میں جوہانس را اور ارپارڈ ایپلر شامل تھے۔ زیادہ ووٹرز نہ ملنے کے باعث 1957 میں آپ نے اپنی جماعت کو تحلیل کر کے شوشل ڈیموکریٹک پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی کیونکہ اس کے مقاصد کافی ملتے جلتے تھے۔

1950 میں آپ نے دوبارہ وکالت شروع کردی اور خاص طور پر سیاسی اور مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کی۔ آپ نے مغربی جرمنی کے قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی جدوجہد کی۔

بنڈسٹاگ (مغربی جرمنی کی پارلیمنٹ) میں ایس پی ڈی کے ایم پی کی حیثیت سے آپ نے ایڈینار کے مغربی جرمن فوج (بنڈس وہر) کو ایٹمی طاقت سے لیس کرنے کے منصوبہ کی کھلی مخالفت کی۔

جرمنی کے صدر[ترمیم]

مارچ 1969 میں آپ وفاقی جمیوریہ جرمنی کے صدر منتخب ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118548115 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6sb70fw — بنام: Gustav Heinemann — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/2352501 — بنام: Gustav Heinemann — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب catalog code: 11000848 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اپریل 2018
  5. ^ ا ب بنام: Gustav Heinemann — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/b2eb35ebbc914775be577302a519d3a0 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000002635 — بنام: Gustav Heinemann — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/heinemann-gustav — بنام: Gustav Heinemann — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118548115 — اخذ شدہ بتاریخ: 28 ستمبر 2015 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Хайнеман Густав — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "f700c6ed1a24923da1edabfbf4144b31be91310b" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  9. اجازت نامہ: CC0
  10. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121594049 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  11. Helmut Lindemann: Gustav Heinemann. Ein Leben für die Demokratie. Munich (Koesel) 1986, (1st ed. 1978), ISBN 3-466-41012-6, p. 14
  12. Friedrich-Ebert-Stiftung: Archiv der sozialen Demokratie
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Koch 620-631 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. Lindemann, see above, p. 89
  15. Hans Prolingheuer: Kleine politische Kirchengeschichte. Cologne 1984, p. 123