مندرجات کا رخ کریں

یحییٰ بن یحییٰ لیثی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(یحییٰ بن یحیی مصمودی سے رجوع مکرر)
یحییٰ بن یحییٰ لیثی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 769ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 848ء (78–79 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک مالکی
مکتب فکر مالکی
عملی زندگی
استاذ مالک بن انس   ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو محمد یحییٰ بن یحییٰ ليثی مصمودی اندلسی قرطبی (152ھ234ھ) ایک امام ، فقیہ اور اہلِ مالکیہ کے ایک عظیم عالم تھے اور ان کی روایت کردہ موطأ کی ایک مشہور روایت مشرق و مغرب دونوں میں نقل ہوئی۔ وہ اپنے زمانے میں اندلس کے مالکیہ کے سرکردہ علما میں شمار ہوتے تھے۔

نشو و نما

[ترمیم]

یحییٰ بن یحییٰ بن كثير بن وسلاس بن شملال بن منغايا 152 ھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے نسب میں بربر مصمودہ شامل ہے اور وہ بنی ليث کے تابع تھے۔ ان کے جدّ، كثير، اندلس آئے۔ انھوں نے موطأ کی روایت اندلس میں زياد بن عبد الرحمن لخمی (شبطون) سے حاصل کی اور بعد میں 28 سال کی عمر میں مشرق کا سفر کیا جہاں انھوں نے امام مالک سے موطأ سنی اور ان کے ہمراہ رہے۔ اسی طرح انھوں نے مصر میں ليث بن سعد ، مکہ میں سفيان بن عیينہ اور عبد الرحمن بن قاسم عتقی و عبد اللہ بن وہب سے علم حاصل کیا۔[1]

اندلس میں مقام

[ترمیم]

یحییٰ بن یحییٰ نے مالکیہ کے مذہب کو اندلس میں فروغ دیا اور وہاں مکتب مالکی کی قیادت انہی کے ہاتھ میں تھی۔ امام مالک نے انھیں "عاقل اندلس" کہا اور محمد بن عبد اللہ بن لبابہ قرطبی نے انھیں "راوی اندلس" قرار دیا۔ ان کے شاگردوں میں ان کے بیٹے اسحاق اور عبید اللہ، محمد بن وضاح، زياد بن محمد بن شبطون اور بن مخلد شامل ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے لوگوں کو ربضی حکومت کے خلاف بھڑکایا، جس کے نتیجے میں وقعہ ربض پیش آئی۔ وہ عارضی طور پر طلیطلہ چلے گئے، مگر بعد میں امن کے ساتھ قرطبة واپس آئے۔ امرا اندلس میں ان کا مقام بلند تھا اور ابن بشکوال کے مطابق ان کی دعا قبول ہوتی تھی اور امرا کسی قاضی کو مقرر کرنے سے پہلے ان سے مشورہ لیتے تھے، حالانکہ خود انھوں نے کبھی قضاء کا عہدہ نہیں سنبھالا۔[2] ،[3] .[4]

ایک واقعہ میں عبد الرحمن اوسط نے ان سے ایک جاريہ کے بارے میں استفتاء کیا، جس پر یحییٰ نے انھیں دو ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا تاکہ سختی سے عمل کرنے کی تربیت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آسان اختیار دینے سے انسان بار بار خطا کر سکتا ہے، اس لیے سختی سے درست راستے پر رہنے کی ترغیب دی گئی۔ ابن عبد البر نے ذکر کیا کہ الأندلس میں فتاویٰ ان کے پاس عيسى بن دينار کے بعد پہنچتی تھیں۔ یحییٰ بن یحییٰ 22 رجب 234 ھ کو قرطبة میں وفات پا گئے اور وہاں دفن ہوئے۔[5][6] .[7]

شیوخ

[ترمیم]

امام مالکؒ کے علاوہ مصمودیؒ کو جن کبار ائمہ سے استفادہ کا شرف حاصل ہوا ان میں مشہور نام یہ ہیں۔ یحییٰ بن مضر، زیاد بن عبد الرحمن، لیث بن سعد، سفیان بن عیینہ، عبد اللہ بن وهب ابن القاسم، قاسم بن عبد اللہ العمری، انس بن عیاض

تلامذہ

[ترمیم]

مصمودی کے منبع فیض سے جو لوگ مستفید ہوئے ان میں بقی بن مخلد، محمد بن وضاح، محمد بن العباس، صباح بن عبد الرحمن العتیقی شامل ہیں۔ [8]

علمی انہماک

[ترمیم]

تحصیلِ علم کے لیے جس لگن، انہماک اور ذوق و شوق کی احتیاج ہوتی ہے، وہ سب ان میں بدرجہ اتم موجود تھا،جب امام مالک کی خدمت میں سماع مؤطا کے لیے حاضر ہوئے تو دنیا و مافیہا سے بے تعلق ہوکر انھوں نے کلی توجہ سماع حدیث پر صرف کی؛ چنانچہ بیان کی جاتا ہے کہ ایک بار اثناء درس میں کسی نے کہا: "ہاتھی آ گیا" تمام شرکاءِ درس ہاتھی دیکھنے چلے گئے، لیکن یحییٰ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں، امام مالک نے تعجب سے دریافت کیا کہ "اندلس میں تو ہاتھی ہوتا نہیں، پھر تم کیوں نہیں دیکھنے گئے، شیخ یحییٰ نے اس کا جو جواب دیا وہ بلاشبہ ہر عصر و عہد میں طالبان علم کے لیے دلیل راہ بنانے کے لائق ہے، عرض کیا: لم ارحل لانظر الفیل وانما رحلت لاشاھدک واتعلم من علمک و ھدیک میں یہاں ہاتھی دیکھنے کے لیے نہیں آیا، میں تو یہاں اتنی دور سے صرف آپ کا فیضِ صحبت اُٹھانے اورآپ کے علم و سیرت سے کچھ حاصل کرنے آیا ہوں۔ اپنے لائق فخر شاگرد کا یہ جواب سُن کر امام مالک اتنے زیادہ خوش ہوئے کہ انھوں نے اسی وقت شیخ یحییٰ کو "عاقل اھل الاندلس" کا خطاب عطا فرمایا۔ [9]

تفقہ

[ترمیم]

روایت حدیث کے ساتھ شیخ یحییٰ کو فقہ میں بھی درجہ کمال حاصل تھا، یہ تفقہ ان کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے ساتھ ساتھ امام مالک اور سفیان بن عیینہؒ کے فیض صحبت کا نتیجہ تھا، اندلس میں فقہ مالکی کی اشاعت میں اسد بن فراتؒ، ابن حاتمؒ، اورعبداللہ بن وہبؒ وغیرہ کے ساتھ مصمودی کا بھی بڑا حصہ ہے، حافظ ابن حجر انھیں "وکان فقیھاً حسن الرائی" لکھتے ہیں۔ [10]

افتاء

[ترمیم]

مصمودی کے غیر معمولی تفقہ ہی نتیجہ تھا،کہ اہلِ اندلس ان کے فتووں پر پورا اعتماد کرتے تھے، اس فن میں ان کی مہارت مسلّم تھی، محققین کا اتفاق ہے کہ یحییٰ جب مختلف ممالک سے تحصیلِ علم کرنے کے بعد اندلس واپس آئے، تو مسند علم کی صدارت ان کے حصہ میں آئی۔ ابن خلکان نے لکھا ہے: ان یحیی عاد الی الاندلس و انتھک الیہ ریاسۃ بھا و بہ انتشر مذہب مالک فی تلک البلاد و تفقہ بہ جماعۃ لا یحصون عدوا [11] بلاشبہ یحییٰ اس حال میں اندلس واپس آئے کہ ان کی ذات علما و مدرسین کا مرکز و منتہی بن گئی، یحییٰ ہی کے ذریعہ اندلس میں مالکی مذہب فروغ پزیر ہوا اور ان سے اتنے لوگوں نے تفقہ حاصل کیا جن کی تعداد کا شمار ممکن نہیں۔ حافظ ابن عبد البر رقمطراز ہیں: قدم الی الاندلس بعلم کثیر فدارت فتیا الاندلس بعد عیسی بن دینار الیہ و انتھی السلطان و العامۃ الیٰ رأیہ [12] یحییٰ کثیر علم کے ساتھ اندلس واپس آئے پس اندلس کے منصب افتاء پر عیسیٰ بن دینار کے بعد وہی فائز تھے اور عوام و خواص سب آپ ہی کی رائے کی طرف رجوع کرتے تھے۔

حق گوئی و بیباکی

[ترمیم]

فقہ و فتاویٰ میں وہ اپنی رائے کا اظہار برملا کرتے تھے اور اس میں کسی کے رعب و دبدبہ کی پروا نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ دربار شاہی بھی انھیں مرعوب نہ کرسکتا تھا، ایک بار اندلس کے حاکم عبد الرحمن بن حکم الاموی نے ماہ رمضان میں اپنی ایک محبوب لونڈی سے مجامعت کی، امیر میں چونکہ دین کا احساس باقی تھا، اس لیے اپنی اس اضطراری حرکت پر اسے شرمندگی ہوئی اورکفارۂ معصیت کی فکر دامنگیر ہوئی، اس نے شہر کے تمام فقہا کو قصرِ شاہی میں طلب کرکے کفارہ کا مسئلہ دریافت کیا، یحییٰ مصمودی نے پوری بیباکی کے ساتھ فرمایا کہ امیر کو پے در پے دو مہینہ کے روزے رکھنے چاہیے، شیخ یحییٰ کی جلالتِ شان کی وجہ سے وہاں کسی فقیہ کو ان سے مجالِ اختلاف نہ ہو سکا، لیکن دربار سے واپس آنے کے بعد بعض لوگوں نے عرض کیا کہ امام مالکؒ تو اس نوع کے مسائل میں خیار کے قائل ہیں، یعنی ان کے نزدیک کفارہ صوم میں روزہ دار کو اختیار ہے چاہے غلام آزاد کرے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، پھر آپ نے دوماہ کے روزوں پر ہی کیوں اصرار کیا۔ یہ سنکر شیخ یحییٰ نے کتنا حکیمانہ جواب دیا۔ لو فتحنا لہ ھذا لباب سھل علیہ ان یطأ کل یومٍ و یعتق رقبۃ فیہ و لکن حملتہ علی اصعب الامر لئلا یعود [13] اگر ہم نے امیر کے لیے یہ درازہ کھول دیا تو اس کے لیے بہت آسان ہوگا کہ روز مجامعت کر لے اورکفارہ میں کوئی غلام آزاد کر دے ؛لیکن میں نے اس کے لیے مشکل صورت اختیار کی تاکہ آئندہ وہ اس فعل کی جرأت نہ کرے۔

جامعیت

[ترمیم]

شیخ یحییٰ مصمودی کی شخصیت مختلف علمی اخلاقی اورروحانی کمالات کا مجموعہ تھی،ان کے تبحر علمی اورجامعیت کو تمام محققین نے خراج تحسین پیش کیا ہے،ابن عماد حنبلی رقمطراز ہیں: وکان اماماً کثیر العلم، کبیر القدر، وافر الحرمۃ، کامل العقل، خیر النفس، کثیر العبادۃ و العقل [14] وہ کثیر العلم، عظیم المرتبت اورنہایت ہی محترم و مؤقر امام تھے،ان کی عقل کامل تھی، نفس بہت نیک اور اچھا تھا، زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ احمد بن خالد کا بیان ہے: لم یعط احد من اھل العلم بالاندلس منذ دخلھا الاسلام من الخطوۃ و عظم القدر و جلالۃ الذکر ما اعطیہ یحییٰ بن یحییٰ [15] جب سے اندلس میں اسلام داخل ہوا یہاں کے علما میں سے کسی کو وہ جاہ وجلال اور عظمت و برتری حاصل نہیں ہوئی جتنی یحییٰ بن یحییٰ (مصمودی) کو حاصل ہوئی۔ ابو الولید ابن الفرضی کا قول ہے کہ یحیی مصمودی امامِ وقت اور یکتائے زمن تھے [16] ابن لبابہ کہتے ہیں کہ "الیہ انتھت الریاسۃ فی العلم بالاندلس" [17] علامہ مقری نے لکھا ہے کہ شیخ یحییٰ کی روایت کو اس قدر مستند سمجھا جاتا تھا کہ: مشرق کے علما بھی اس سے استناد کرتے تھے۔ [18]

جلالتِ شان

[ترمیم]

یحییٰ مصمودی اپنے گونا گوں علمی کمالات کی بنا پر جس طرح عوام میں غیر معمولی عزت و احترام سے دیکھے جاتے تھے، اسی طرح خواص میں بھی ان کی بڑی توقیر کی جاتی تھی، حکومت کی جانب سے ان کو بارہا منصب قضاء کی پیشکش کی گئی، مگر انھوں نے پوری شانِ استغناء کے ساتھ اسے نا منظور کر دیا، اس کی وجہ سے ان کی عزت اورمرتبہ میں دو چند اضافہ ہو گیا، حتیٰ کہ سلطان وقت کی نگاہ میں ان کا مرتبہ اس درجہ بلند ہو گیا کہ ان کے مشورہ کے بغیر ملک کا کوئی اہم معاملہ انجام نہیں پاتا تھا، یہاں تک کہ گورنروں کے عزل و نصب میں بھی ان کی رائے کو مقدم رکھا جاتا تھا۔ ابن القوطیہ کا بیان ہے کہ یحییٰ اپنے بے لاگ عدل و انصاف کی وجہ سے اندلس کے بادشاہوں میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، یہاں تک کہ جب تک وہ زندہ رہے، اندلس میں کوئی قاضی ان کے مشورہ کے بغیر مقرر نہیں ہوتا تھا۔ [19] علامہ ابن حزم اندلسی فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کی فقہ کی اشاعت قاضی ابو یوسف کے چیف جسٹس ہونے کی بنا پر ہوئی، کیونکہ اس بلند عہدہ اورمخصوص علمی وقار کی وجہ سے اقصائے مشرق سے لے کر اقصائے افریقہ تک صرف وہی لوگ ذمہ دار منصبوں پر فائز کیے جاتے تھے، جو قاضی ابو یوسف کے ہم خیال و ہم رائے ہوتے تھے، اسی طرح بلا د اندلس میں مالکی فقہ کی اشاعت یحییٰ مصمودی کے ذاتی اثر و رسوخ کی وجہ سے ہوئی، سلطانِ وقت حکام کا عزل ونصب انھیں کے مشورہ سے کرتا تھا؛ چنانچہ وہ عہدوں پر تقرری کے لیے انھیں علما کو ترجیح دیتے تھے، جو امام مالک کے مسلک کے پابند ہوتے تھے۔ [20] علامہ سیوطی نے ابن حزم کے مذکورہ بالا قول کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ بلادِ مغرب میں صرف یحییٰ مصمودی کے روایت کردہ نسخہ مؤطا کے مشہور و مقبول ہونے کا اصل سبب یہی ہے۔ [21]

مسلک

[ترمیم]

جیسا کہ اوپر مذکور ہوا،یحییٰ مصمودی کو امام مالکؒ سے غایت درجہ عقیدت ومحبت تھی،اسی بنا پر وہ مالکی مسلک کی شدت سے اتباع کرتے تھے اور اس سے انحراف کو گوارا نہیں کرتے تھے؛حالانکہ اس زمانہ میں کسی ایک مذہب کی پابندی کا دستور رائج نہ تھا۔ لیکن یحییٰ مصمودی مالکی مسلک کی کامل اتباع کے باوجود چار مسائل میں امام مالکؒ سے اختلاف رکھتے تھے،ان مسائل میں ان کا جداگانہ مسلک یہ تھا۔ 1۔نماز فجر میں قنوت نہیں ہے۔ ۔شاہد مع الیمین اثباتِ حق کے لیے ناکافی ہے،مدعی کو اپنا حق ثابت کرنے کے لیے دو مرد گواہ یا ایک مرد اوردو عورتیں پیش کرنا لازمی ہے۔ 3۔شوہر اوربیوی کے نزاع واختلاف کی صورت میں حکمین کو صلح کرانے کا حق نہیں، مذکورہ بالا مسائل میں وہ لیث بن سعد کے مسلک کے قائل تھے۔ [22]

حلیہ

[ترمیم]

یحییٰ مصمودی شکل و ہیئت کے اعتبار سے اپنے شیخ امام مالک سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے، وہی سُرخ سپید رنگ ،بالاقد، بھاری بدن، کشادہ پیشانی، بڑی آنکھیں، اونچی ناک، گھنی اور لمبی داڑھی تھی۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رقمطراز ہیں: در وضع لباس و نشست و برخاست و ہیئت ظاہری نیز تتبع حضرت امام مالک می نمود [23] وضع قطع،اٹھنے بیٹھنے کے طور طریقے ظاہری شکل وصورت اوراتباع میں امام مالکؒ کی ہوبہو تصویر تھے۔ مؤرخ ابن خلکان اورابن فرحون مالکی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ: و کان قد اخذ فی نفسہ و ھیئتہ و مقعدہ ھیئتہ مالک [24] وہ اپنی شکل و صورت اورنشست و برخاست میں امام مالک کے ہم صورت و متبع تھے۔

تقوی وطہارت

[ترمیم]

یحییٰ مصمودی علمی فضل وکمال کے ساتھ عملی اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھے، نہایت متقی اور پرہیز گار تھے، ابن بشکوال کا قول ہے کہ "و کان مستجاب الدعوات" [25] حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں: و کان یاتی الجامع یوم الجمعۃ راجلا متعمما [26] وہ جمعہ کے دن جامع مسجد عمامہ باندھ کر اورپیدل چل کر آتے تھے۔

مؤطا نسخہ مصمودی کی خصوصیات

[ترمیم]

شیخ یحییٰ مصمودی کا سب سے بڑا کارنامہ امام مالکؒ کی مؤطا کی روایت و حفاظت ہے،جس نے بلاشبہ انھیں علم و فن کی تاریخ میں حیاتِ جاوداں عطا کی ہے۔ امام مالکؒ سے یوں تو سینکڑوں لوگوں نے مؤطا کا سماع حاصل کیا؛ لیکن ان سب نے امام صاحبؒ کی مرویات کو محفوظ نہیں کیا صرف سولہ تلامذہ نے اپنی روایت کے مطابق مؤطا کو جمع کیا ہے۔ جن کے اسمائے گرامی درجہ ذیل ہیں: یحییٰ بن یحییٰ مصمودی، عبد اللہ بن وھب، ابن القاسم، عبد اللہ بن مسلم قعنبی، معین بن عیسیٰ، یحییٰ بن بکیر، سعید بن عفیر، ابو مصعب زہری، مصعب بن عبد اللہ زبیری، سلیمان بن برد، ابو حذافہ اسہمی، سوید بن سعید، امام محمد بن حسن شیبانی، یحییٰ بن یحییٰ التیمی، عبد اللہ بن یوسف دمشقی اور محمد بن مبارک مذکورہ بالا سولہ نسخوں میں مشہور اورمتداول صرف دو نسخے ہیں، ایک مصمودی کا دوسرا امام محمد کا، لیکن ان دونوں میں بھی نسخہ مصمودی کو زیادہ شہرت اور مقبولیت نصیب ہوئی،حتیٰ کہ آج ساری دنیا میں مؤطا کا اطلاق نسخہ مصمودی ہی پر ہوتا ہے۔ اسی نسخہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ امام مالکؒ کے وفات کے وقت زیر سماعت تھا؛ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، یحییٰ مصمودی نے اس کا سماع امام مالکؒ سے اسی سال کیا جس سال ان کی رحلت ہوئی، اس طرح وہ مؤطا کے تمام نسخوں میں آخری قرار پاتا ہے، اورظاہر ہے، آخری سماع کو مرجح قرار دیا جائے گا۔ دوسری نمایاں خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ بہت سے ایسے فرعی مسائل پر مشتمل ہے جو باب میں مذکور روایات کے مطابق ہیں، ان خصوصیات کے باوجود یحییٰ مصمودی کی روایت صحاح ستہ میں نہیں پائی جاتی ہیں، اس کا سبب شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے یہ بتایا ہے کہ یحییٰ کی روایات میں اوہام زیادہ ہیں اس لیے وہ کتبِ ستہ میں جگہ نہ پاسکیں۔ [27] بعض محققین مؤطا امام محمدؒ کو نسخہ مصمودی پر کئی وجوہ سے فوقیت دیتے ہیں لیکن اس سلسلہ میں محدث زاہدالکوثری کی یہ رائے حقیقت پر مبنی معلوم ہوتی ہے کہ دونوں نسخے اپنی جداگانہ خصوصیات میں باہم دگر فوقیت رکھتے ہیں وہ رقمطراز ہیں: و أشهر رواياته في هذا العصر رواية محمد بن الحسن بين المشارقة و رواية يحيى الليثي بين المغاربة، فالأولى: تمتاز ببيان ما أخذ به أهل العراق من أحاديث أهل الحجاز المدونة في الموطأ و ما لم يأخذوا به لأدلة أخرى ساقها محمد في موطئه و هي نافعة جدا لمن يريد المقارنة بين آراء أهل المدينة و آراء أهل العراق و بين أدلة الفريقين، والثانية: تمتاز عن نسخ الموطأ كلها باحتوائها على آراء مالك البالغة نحو ثلاثة آلاف مسألة في أبواب الفقه وهاتان الروايتان نسخهما في غاية الكثرة في خزانات العالم شرقا وغربا [28] اس دور میں مؤطا کی مشہور ترین روایت اہل مشرق میں امام محمد بن حسن کی روایت ہے اوراہل مغرب میں یحییٰ اللیثی کی روایت ہے۔ پہلی روایت کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں اہل عراق نے مؤطا میں مدوّنہ جن احادیث کو اہلِ حجاز سے لیا ہے اور جن کو دوسرے دلائل کی بنا پر اختیار نہیں کیا جو امام محمد اپنی مؤطا میں لائے ہیں، ان کا بیان ہے کہ یہ چیز ان لوگوں کے لیے نہایت مفید ہے جو اہل مدینہ اوراہل عراق کے اجتہادی مسائل اورفریقین کے دلائل کا باہم موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری روایت مؤطا کی تمام روایتوں میں اس حیثیت سے ممتاز ہے کہ وہ امام مالک کے ان تین ہزار کے قریب اجتہادی مسائل پر مشتمل ہے، جن کا تعلق فقہ کے مختلف ابواب سے ہے اوریہ دونوں روایتیں دنیا کے کتب خانوں میں شرقا و غربا نہایت کثرت سے موجود ہیں۔ تاہم آج مؤطا امام مالکؒ کے نام سے جو کتاب، بالخصوص ہندوستان میں، مروج ہے وہ یحییٰ مصمودی ہی کی روایت ہے اوراسی کی شرحیں زرقانی، ابن عبد البر، سیوطیؒ اورشاہ ولی اللہ وغیرھم نے لکھی ہیں، یہ بات بجائے خود اس کی مقبولیت اورشہرت کی روشن دلیل ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. المكتبة الإسلامية - يحيى بن يحيى بن كثير آرکائیو شدہ 2020-05-17 بذریعہ وے بیک مشین
  2. المقري 1968, p. 7
  3. الضبي, p. 510-512
  4. المقري 1968, p. 518
  5. المقري 1968, p. 339
  6. سير أعلام النبلاء - يحيى بن يحيى بن كثير آرکائیو شدہ 2016-12-29 بذریعہ وے بیک مشین
  7. الحميدي 1989, p. 611
  8. (تہذیب التہذیب:11/301)
  9. (ابن خلکان:3/173ومقدمہ اوجر وغیرہ)
  10. (تہذیب التہذیب:11/301)
  11. (ابن خلکان :3/172)
  12. (الانتقاء لابن عبد البر:59)
  13. (شذرات الذہب:2/42)
  14. (شذرات الذہب:2/42)
  15. (الانتقاء لابن عبد البر:60)
  16. (تہذیب التہذیب:11/301)
  17. (الدیباج المذہب :351)
  18. (نفح الطیب :1/290)
  19. (افتتاح الاندلس:58)
  20. (بحوالہ بستان المحدثین:11)
  21. (تزئین الممالک:56)
  22. (الانتقاء لابن عبد البر:60)
  23. (بستان المحدثین :13)
  24. (ابن خلکان:3/174،الدیباج المذہب:351)
  25. (تہذیب التہذیب:11/301)
  26. (الانتقاء لابن عبد البر:60)
  27. (اوجز المسالک:27)
  28. (موطأ مالك،رواية محمد بن الحسن:1/13، شاملہ، الناشر: دارالقلم،دمشق)

کتابیات

[ترمیم]
  • أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد المقري (1988)۔ نفح الطيب من غصن الأندلس الرطيب - المجلد الأول والثالث۔ دار صادر، بيروت
  • أحمد بن يحيى الضبّي (1967)۔ بغية الملتمس في تاريخ رجال أهل الأندلس۔ دار الكاتب العربي
  • الحميدي (1989)۔ جذوة المقتبس في تاريخ علماء الأندلس۔ دار الكتاب المصري، القاهرة - دار الكتاب اللبناني، بيروت۔ ISBN:977-1876-16-3